ایک اکیلا: مودی کے فخر سے راہل کی بازگشت تک؟
ایک اکیلا:
مودی کے فخر سے راہل کی بازگشت تک؟
- 9845498354 - از: جمیل احمد ملنسارؔ، بنگلور
ایک اکیلا:
مودی کے فخر سے راہل کی بازگشت تک؟
از: جمیل احمد ملنسارؔ، بنگلور
- 9845498354 -
بھارتی سیاست کی سب سے بڑی سچائی شاید یہی ہے کہ یہاں کوئی لفظ ہمیشہ ایک ہی معنی نہیں رکھتا۔ اقتدار
کے ایوانوں میں کہے جانے والے جملے وقت کے ساتھ اپنا مفہوم بھی بدل لیتے ہیں اور اپنا مخاطب بھی۔ جو فقرہ ایک دن طاقت کا استعارہ بنتا ہے، وہی دوسرے دن تاریخ کے کسی نئے موڑ پر طنز، سوال یا حیرت کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔
سنہ 2023 میں راجیہ سبھا کے اندر وزیر اعظم نریندر مودی نے پورے اعتماد سے کہا تھا: "دیش دیکھ رہا ہے، ایک اکیلا کتنوں پر بھاری پڑ رہا ہے۔"
یہ محض ایک جملہ نہیں تھا، اس دور کی سیاسی فضا کا خلاصہ تھا۔ بی جے پی مسلسل فتوحات کے زینے چڑھ رہی تھی، اپوزیشن بکھری ہوئی تھی، کانگریس اپنی تاریخ کے شاید سب سے کٹھن مرحلے سے گزر رہی تھی، اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ہندوستانی سیاست کا محور صرف ایک شخصیت کے گرد گھوم رہا ہے۔
لیکن جمہوریت کی خوبصورتی یہی ہے کہ وہ کسی ایک منظر کو ہمیشہ کے لیے منجمد نہیں ہونے دیتی۔
آج، جولائی 2026 میں، یہی جملہ ایک نئے پس منظر میں سنائی دیتا ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ سوال اٹھنے لگا ہے کہ کیا اب "ایک اکیلا" کا استعارہ نریندر مودی کے بجائے راہل گاندھی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے؟
یہ سوال کسی فرد کی تعریف یا تنقیص کا نہیں، بلکہ سیاست کی بدلتی ہوئی رفتار کو سمجھنے کا ہے۔
2024 کے عام انتخابات نے یہ واضح کر دیا کہ بھارتی سیاست جامد نہیں ہے۔ بی جے پی اگرچہ سب سے بڑی جماعت رہی، لیکن اپنے بل بوتے پر اکثریت حاصل نہ کر سکی۔ 303 سے 240 نشستوں تک کا سفر محض اعداد کا فرق نہیں تھا، بلکہ اس تاثر میں پہلی نمایاں دراڑ بھی تھی کہ شاید اس جماعت کو چیلنج کرنا اب ممکن نہیں رہا۔
ادھر کانگریس، جسے بہت سے مبصرین وقت سے پہلے تاریخ کا حصہ قرار دے چکے تھے، غیر متوقع طور پر دوبارہ سیاسی گفتگو کے مرکز میں آگئی۔
اسی انتخاب نے راہل گاندھی کی شخصیت کو بھی نئے زاویے سے متعارف کرایا۔ برسوں تک طنز، تمسخر اور سیاسی حملوں کا ہدف بننے والا یہ رہنما اب قائدِ حزبِ اختلاف کی حیثیت سے زیادہ سنجیدہ، زیادہ پراعتماد اور زیادہ ثابت قدم دکھائی دینے لگا۔
یہ تبدیلی کسی ایک تقریر یا کسی ایک انتخاب کا نتیجہ نہیں تھی۔
بھارت جوڑو یاترا نے ان کے سیاسی بیانیے کو نئی جان بخشی۔ اس کے بعد معاشی ناہمواری، نوجوانوں کی بے روزگاری، تعلیم، آئینی اداروں کی خودمختاری اور سماجی انصاف جیسے موضوعات پر ان کی مستقل مزاجی نے ان کی سیاست کو ایک نئی شناخت عطا کی۔
سڑک کی سیاست بھی جمہوریت کا حصہ ہے
2026 میں راہل گاندھی نے پارلیمان کے ساتھ ساتھ سڑک کو بھی اپنی سیاست کا اہم میدان بنایا۔ NEET امتحان کا بحران ہو یا نوجوانوں کے مستقبل سے وابستہ خدشات، تعلیمی پالیسی پر سوالات ہوں یا اداروں کی خودمختاری کا مسئلہ، وہ مسلسل عوام کے درمیان نظر آئے۔ احتجاج ہوئے، گرفتاریاں بھی ہوئیں، تلخ مناظر بھی سامنے آئے، مگر ان تمام واقعات نے ان کی اس شبیہ کو مزید مضبوط کیا کہ وہ محض پارلیمنٹ کے مقرر نہیں، بلکہ میدانِ سیاست کے سرگرم کردار بھی ہیں۔مگر سیاست کو ایک فرد میں سمیٹ دینا انصاف نہیں
اس کے باوجود یہ کہنا حقیقت سے صرفِ نظر ہوگا کہ بی جے پی کی موجودہ مشکلات صرف راہل گاندھی کی مرہونِ منت ہیں۔
جمہوریت میں سیاسی اتار چڑھاؤ ہمیشہ کئی عوامل کا مجموعہ ہوتے ہیں۔ دس برس کی حکمرانی کے بعد پیدا ہونے والی اینٹی انکمبنسی، نوجوانوں میں بے روزگاری کا احساس، مہنگائی، متوسط طبقے کی معاشی بے چینی، ریاستی سیاست کی نئی صف بندیاں اور علاقائی جماعتوں کا کردار—یہ سب اس بدلتی ہوئی فضا کے اہم عناصر ہیں۔
البتہ یہ اعتراف بھی ضروری ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں اگر کسی قومی رہنما نے مسلسل حکومت کو چیلنج کیا، ایک متبادل بیانیہ پیش کیا اور اپوزیشن کو کسی حد تک مشترک زبان دینے کی کوشش کی، تو وہ راہل گاندھی ہی رہے ہیں۔
ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ بی جے پی آج بھی ہندوستان کی سب سے منظم سیاسی جماعت ہے۔ اس کی تنظیمی قوت، انتخابی مشینری، ریاستوں میں اس کی موجودگی اور وزیر اعظم نریندر مودی کی ذاتی مقبولیت کو نظر انداز کرنا کسی سنجیدہ سیاسی تجزیے کے شایانِ شان نہیں ہوگا۔
جمہوریت میں کسی بھی جماعت کے زوال یا عروج کا اعلان وقت سے پہلے کرنا ہمیشہ خطرناک ثابت ہوا ہے۔اصل فیصلہ ابھی باقی ہے,سیاسی تاریخ ہمیں بار بار یہ سبق دیتی ہے کہ عوامی جلسوں کا جوش، پارلیمنٹ کی گونج، ٹیلی ویژن کے مباحثے اور سوشل میڈیا کا شور اپنی جگہ اہم ضرور ہیں، لیکن ان میں سے کوئی بھی بیلٹ باکس کا متبادل نہیں۔
2029 کا انتخاب صرف حکومت کا نہیں، بلکہ کئی سیاسی دعووں کا امتحان ہوگا۔کیا راہل گاندھی اپنی بڑھتی ہوئی سیاسی قبولیت کو ووٹوں میں ڈھال سکیں گے؟
کیا کانگریس اپنی تنظیمی کمزوریوں پر قابو پا سکے گی؟اور کیا INDIA اتحاد انتخابی سیاست کی سخت آزمائش میں متحد رہ پائے گا؟ ان سوالوں کا جواب ابھی مستقبل کے پردے میں ہے۔
شاید یہی جمہوریت کی سب سے بڑی خوبی بھی ہے کہ وہ کسی رہنما کو دائمی فاتح نہیں مانتی اور کسی مخالف کو ہمیشہ کے لیے شکست خوردہ قرار نہیں دیتی۔ وقت ہر بیانیے کو نئے سرے سے پرکھتا ہے، ہر دعوے کو آزماتا ہے اور ہر طاقت کو عوام کی عدالت میں دوبارہ پیش کرتا ہے۔
وہ جملہ، جو کبھی اقتدار کے اعتماد کی علامت تھا، آج اختلاف کی زبان میں نئے مفہوم کے ساتھ دہرایا جا رہا ہے۔ ممکن ہے کل اس کا مفہوم پھر بدل جائے۔
کیونکہ سیاست میں آخری لفظ کبھی کسی رہنما کا نہیں ہوتا؛ آخری لفظ ہمیشہ عوام کا ہوتا ہے۔

Comments
Post a Comment