Posts

Showing posts from November, 2025

رانچی کی چکنی پچ پر وراٹ کا تخت نشینی - ہبھارت کی 17 رنز کی فتح

Image
جمیل احمد ملنسار کرکٹ کا میدان وراٹ کے لیے محض گھاس کا ٹکڑا نہیں، بلکہ وہ تخت ہے جہاں وہ بادشاہ بنتے ہیں۔ رانچی کے جے ایس سی اے اسٹیڈیم میں اتوار کو یہی منظر نظر آیا— ایک ایسی سنچری جو نہ صرف اعداد و شمار کی فتح تھی بلکہ جذبے کی للکار بھی۔ 120 گیندوں پر 135 رنز، 52ویں ون ڈے سنچری— یہ وراٹ کا وہ انداز تھا جو کلاسیکی خوبصورتی کو تیزی کے جذبے سے ملاتا ہے۔ بھارت نے 8 وکٹ پر 349 رنز بنائے، اور جنوبی افریقہ 332 پر ڈھیر ہوا۔ 17 رنز کی یہ جیت محض اسکور بورڈ کی نہیں، بلکہ ایک عہد کی یاد تازہ کرنے والی تھی۔ نئی گیند سے ہرشت رانا کا طوفان— تین وکٹیں، صرف 11 رنز پر پروٹیز کے تین ستون گرے۔ ٹمبا باووما، ایڈن مارکرم، راسی وین ڈر ڈوسن— سب رانا کا شکار۔ پھر مارکو جانسن کا 84 رنز کا طوفان اور میتھیو بریٹزکے کی نصف سنچری نے 69 گیندوں میں 97 رنز جوڑے۔ کوربن بوش کے 62 نے امید جگائی، مگر کلدیپ یادو کی 4 وکٹیں اور ارشدیپ سنگھ کی سمجھداری نے میچ سنبھال لیا۔ یہ میچ لڑائی تھی— جہاں ہر گیند ایک موڑ، ہر وکٹ ایک سبق۔ وراٹ کی اننگز کا جادو یہ تھا کہ پچ سست ہونے پر بھی ان کا بلّا بولتا رہا۔ شریاس آئیر کے 67 اور سوری...

خون سے رنگے ہوئے ووٹر لسٹ کا المیہ

Image
بھارت وہ ملک ہے جہاں جمہوریت کا نعرہ ہر طرف گونجتا ہے، مگر اس کے پیچھے چھپی سچائی کچھ اور ہے — سناٹا اور موت کی سرگوشی۔ انتخابی کمیشن کے افسر، جنہیں بوث لیول آفیسرز (BLOs) کہا جاتا ہے، اصل میں جمہوریت کے خاموش محافظ ہیں۔ یہ لوگ نہ کال کوٹھریوں میں بیٹھے ہیں، بلکہ گلیوں کوچوں، دیواروں پر نام لکھتے ہوئے، شہریوں کی جانچ پڑتال کرتے ہیں۔​ یہ سب کچھ خصوصی جامع تجدید (SIR) کے نام پر ہو رہا ہے، جس کا مقصد ووٹر لسٹ کو "صاف" کرنا ہے۔ اس کے تحت ہر ووٹر کی جانچ ہوتی ہے تاکہ کوئی "بھوت ووٹر" باقی نہ رہے اور انتخاب صاف ہو۔ مگر اس "صفائی" کا بوجھ وہی اٹھاتے ہیں جنہیں معاشرہ نظر انداز کرتا ہے۔ بی ایل او کی موتوں کا سلسلہ: کیا یہ محض اتفاق ہے؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ مغربی بنگال میں صرف ایک سال میں 40 سے زائد بی ایل او موت کا شکار ہو چکے؟ ایک معصوم استانی نے زہر پی لیا، جبکہ غریب افسر ریت پر گر کر جان دے دی۔ ہزاروں بی ایل او تھکاوٹ، بیماری اور دباؤ سے زندگی ہار رہے ہیں — کیا یہ "محنت" ہے یا خون کا دریا؟ کیا ہم ان قربانیوں کو بھول جائیں گے؟​ سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے پ...

دو دشمن، دو جنگ: شیطان اور نفس کی حقیقت

شیطان کے وسوسے اور نفس کے وسوسے — اصل فرق کیا ہے؟ انسان کی زندگی میں دو بڑے دشمن ایسے ہیں جو ہمیشہ اسے اللہ کے راستے سے ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں: شیطان اور نفس۔ دونوں کا مقصد ایک ہی ہے لیکن دونوں کا طریقہ اور حملے کا انداز ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہے۔ شیطان کا وسوسہ یہ ہے کہ وہ انسان کو کسی بھی گناہ میں مبتلا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ گناہوں کو خوبصورت بنا کر دکھاتا ہے، ان میں لذت اور آسانی دکھاتا ہے تاکہ انسان فوراً اس کی طرف مائل ہو جائے۔ اگر وہ انسان کو ایک گناہ میں نہیں گرا پاتا تو فوراً کوئی دوسرا گناہ سامنے لے آتا ہے۔ اسے اس سے غرض نہیں کہ انسان کون سا گناہ کرے، بس یہ چاہتا ہے کہ انسان اللہ کی نافرمانی کرے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اور اگر شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ آئے تو فوراً اللہ کی پناہ مانگو" *(سورہ اعراف: 200)* اس کے مقابلے میں نفس کا وسوسہ زیادہ گہرا، زیادہ طاقتور اور زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ نفس ہمیشہ ایک مخصوص گناہ کی طرف انسان کو کھینچتا ہے— وہ گناہ جو انسان کی طبیعت اور اس کی خواہش کے مطابق ہو۔ اگر انسان ایک بار اس گناہ سے بچ بھی جائے تو نفس بار بار اسی طرف واپس لے...

The Indian Constitution: Embodying Equality, Liberty, and Fraternity

Image
The intrinsic essence of India's Constitution is its embodiment of freedom and justice, conceived not merely as a legal document but as a living, dynamic covenant foundational to the nation's spirit. Adopted on November 26, 1949, and brought into force on January 26, 1950, this Constitution emerged from intense intellectual and political struggle, primarily shaped by Dr. B.R. Ambedkar and other leaders who envisioned it as a comprehensive symbol of collective national aspirations. It transcends mere legal terminology to function as the silent music of life, reflecting a commitment to equality, liberty, and fraternity that surpasses divisions of religion, caste, and creed. The Constitution's core principles establish India as a sovereign, socialist, secular, and democratic republic, guaranteeing social, economic, and political justice to all citizens while safeguarding their fundamental rights and duties. Its comprehensive structure—executive, legislative, and judiciary—ena...

جنگل کا بادشاہ اور مشہور مکھی

Image
جنگل کا بادشاہ اور مشہور مکھی جمیل احمد ملنسار 9845498354 کہتے ہیں، ایک گھنے اور سرسبز جنگل میں ایک شیر بادشاہ رہتا تھا — شیر سنگھ۔ سر پر سنہری ایال، آنکھوں میں غرور کی چمک، اور دھاڑ ایسی کہ سارا جنگل کانپ اٹھے۔ سب جانور اُس سے ڈرتے بھی تھے اور عزت بھی کرتے۔ مگر ایک مدّ مقابل ایسا بھی تھا جو نہ خوف کھاتا تھا نہ ادب کرتا — ایک ننھی سی مکھی،فریڈی نامی۔ فریڈی کوئی عام مکھی نہ تھی۔ وہ اپنی شوخیوں اور شرارتوں کے باعث جنگل بھر میں مشہور تھی۔ روز وہ کسی نہ کسی بہانے شیر بادشاہ کی کھال پر جا بیٹھتی، اور گُدگُدی کرنے لگتی۔ بیچارا شیر کبھی پنجہ مارے، کبھی دھاڑے، مگر فریڈی ہر بار اُڑ جاتی، اور بادشاہ صاحب کی ناک میں دم کر دیتی۔ ایک روز شیر تنگ آ کر گرجا، "اے ننھی مکھی! آخر تو مجھے کیوں ستاتی ہے؟ میں تو جنگل کا بادشاہ ہوں، تجھ جیسی ذرا سی مخلوق میرے بس کا روگ نہیں!" فریڈی نے کان کے پیچھے سے قہقہہ لگایا، "بادشاہ سلامت! بات چھوٹی یا بڑی ہونے کی نہیں، مزے کی ہے۔ ایک چھوٹی سی مکھی بھی بڑے سے بڑے بادشاہ کی نیند حرام کر سکتی ہے!" اور پھر ایک دوپہر، جب شیر سنگھ درخت کی چھاؤں میں مزے...

The Lion and the Infamous Flea

Image
A Short Story by Jameel Milansaar - 98454 98354 In the heart of the jungle ruled the mighty lion, King Leo, proud and powerful with a majestic mane and a roar that echoed for miles. He was feared and respected by all animals—except for one tiny adversary: Freddy, the flea. Now Freddy wasn’t just any flea. He was notorious among jungle critters for his cheeky antics and annoying persistence. Every day, Freddy would sneak onto King Leo and bite him in the most ticklish spots. The mighty lion would jump, roar, and thrash, but Freddy was too quick, always slipping away to plot his next little torment. “Why do you bother me, tiny pest?” King Leo roared one day, pawing at his fur. “A lion such as I should not be troubled by something as insignificant as a flea!” Freddy chuckled quietly from behind Leo’s ear. “Ah, but it’s not about size, Your Majesty. It’s about the little things, you see. One little flea can turn your noble roar into a fit of scratching madness!” One afternoon, as King Leo ...

The Fall of Tejas: A Wake-Up Call Beyond the Crash

Image
An Indian #Tejas fighter jet crashed during a live demonstration at the #DubaiAirShow on November 20, 2025, killing Wing Commander #NamanshSyal ; My Blog on the same "The Fall of Tejas: A Wake-Up Call Beyond the Crash" Jameel Aahmed Milansaar. Bangalore. email: sharejameel@gmail.com The tragic crash of the Tejas fighter jet at the Dubai Air Show, resulting in the untimely death of Wing Commander Namansh Syal, is not merely a somber incident to be mourned in silence. It is a stark and painful indictment of the multifaceted challenges that beleaguer India’s indigenous defense production initiatives, especially under the much-vaunted “Make in India” banner. This catastrophe is less a freak accident and more a manifestation of systemic neglect—an indictment not just of one mismanaged aircraft, but of a broader malaise afflicting the nation’s defense establishment. To dissect this tragedy is to peer into the heart of India’s contradictions: those of pride entwined with hubris, ...

فیض احمد فیض

Image
Faiz Ahmad Faiz died from complications of lung and heart disease in 1984 in Lahore, Pakistan. He passed away shortly after being nominated for the Nobel Prize for Literature. آج ہم فیض احمد فیض کے یومِ وفات پر اُنہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں— وہ شاعر جنہوں نے لفظوں کو محبت، جدوجہد اور انسان دوستی کا رنگ دیا۔  فیض احمد فیض —وہ نام جو غم کو نغمہ، اور خواب کو ہمت بنانا جانتا تھا۔ اُن کی یاد ہمیشہ زندہ رہے گی۔ مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ میں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات تیرا غم ہے تو غم دہر کا جھگڑا کیا ہے تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہو جائے یوں نہ تھا میں نے فقط چاہا تھا یوں ہو جائے اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا ان گنت صدیوں کے تاریک بہیمانہ طلسم ریشم و اطلس و کمخاب میں بنوائے ہوئے جا بہ جا بکتے ہوئے کوچہ و بازار میں جسم خاک میں لتھڑے ہوئے خون میں نہلائے ہوئے جسم نکلے ہوئے امراض کے تنوروں سے پیپ بہتی ہوئی گلتے ہوئے ناسوروں سے لوٹ جاتی...

ایودھیا: انقلاب کے دھاگے میں تضاد

Image
از: جمیل احمد ملنسار ایودھیا ، جہاں ماضی کے قصے اور جدید تمنائیں دست و گریباں ہیں۔ اس صورت میں ایودھیا ایک درویش کی مانند سامنے آتا ہے، جسے حالات نے دولت مند تو بنا دیا، لیکن اس کے مزاج میں سادگی اب بھی رچی بسی ہے۔ رام مندر سے امبیڈکر اسٹیڈیم تک ایک زمانہ تھا کہ ایودھیا رام کے قصے سننے والوں کی سرزمین تھی — پرسکون، زائرانہ، روایتوں میں گم۔ گزشتہ پندرہ برسوں میں وہاں بدلاؤ کی آندھی چل گئی: سڑکیں، عمارتیں، اور سب سے بڑھ کر رام مندر کا افتتاح جس نے لاکھوں عقیدتمندوں کو کھینچ لیا۔ تضاد کا نیا میدان اب ایودھیا میں صرف مندر نہیں، کرکٹ اسٹیڈیم بھی بن رہا ہے — ڈاکٹر امبیڈکر کے نام پر! کیا عجیب منظر ہے: رام کی سرزمین پر امبیڈکر کا نام، کھیل کے میدان میں سیاست کا تماشہ۔ چالیس ہزار تماشائی، بجٹ میں دُگنا اضافہ، اور پرانی کہانی — تاخیریں، شفافیت پر سوالات، عوامی ترقی کے نام پر مالی گڑبڑیں۔ ناموں کا کھیل سوشل میڈیا پر شور ہے: "یہ مذہبی توہین ہے!" "اسے شری رام اسٹیڈیم کہو!" گویا ہر دور کی لڑائی نئے روپ میں سامنے آئی ہے؛ جیسے بابری مسجد اور رام جنم بھومی کا قضیہ اب ناموں کی جنگ م...

Ayodhya's Transformation: From Ram Mandir to Ambedkar Cricket Hub – A Story of Progress and Paradox

Image
By : Jameel Aahmed Milansaar. Bangalore. In the heart of India , where ancient narratives intersect with modern aspirations, Ayodhya stands as a symbol of both reverence and reinvention. Once a quiet pilgrimage town steeped in the lore of Lord Ram, it has undergone a remarkable transformation over the past decade and a half, emerging as a vibrant hub of infrastructure and cultural resurgence. The inauguration of the grand Ram Temple earlier this year marked a pivotal chapter in this story, drawing millions in pilgrimage and underscoring the city's spiritual significance. Yet, as Ayodhya continues to evolve—with its new international airport, upgraded highways, and a host of developmental projects—one particular initiative has sparked a lively debate: the construction of a state-of-the-art cricket stadium named after Dr. B.R. Ambedkar. This multi-sport complex, designed to accommodate cricket, hockey, badminton, and more, with a capacity for up to 40,000 spectators, represents more ...

Karnataka Scouts Shine at Rashtrapati Bhavan Celebration; Bengaluru Public School Unit Receives National Honour

Image
Children’s Day Celebration at Rashtrapati Bhavan; Karnataka Scouts Unit Earns National Recognition New Delhi: The grand halls of Rashtrapati Bhavan brimmed with excitement as President Droupadi Murmu hosted a vibrant Children’s Day celebration, welcoming students from across India—including a proud delegation from the Hindustan Scouts and Guides Karnataka, Bengaluru Public School Unit. Organised to mark Children’s Day and honour the vision of the nation’s first Prime Minister, the event brought together over a hundred students from various states at the Rashtrapati Bhavan Cultural Centre. Representing Karnataka, eight bright students from the Bengaluru Public School Unit attended the function, accompanied by Dr. Afshad Ahmed BZ (Managing Trustee), Mr. Rajiv VR (Headmaster), Mrs. Sunita Angadi (Coordinator), and Mrs. Padma Priya (Science Teacher). Their selection recognized their exemplary community service and commitment to the Scouts’ ideals of discipline, teamwork, and service. The c...

 مدینہ منورہ کی شاہراہ پر المناک حادثہ 42 ہندوستانی عمرہ زائرین جاں بحق، بیشتر کا تعلق حیدرآباد سے

Image
"یہ حادثہ صرف ایک سانحہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی دل کا زخم ہے — جو دیر تک رستا رہے گا۔" خصوصی رپورٹ: جمیل احمد ملنسار مدینہ منورہ، سعودی عرب — پیر کی صبح ایک دل دہلا دینے والے حادثے نے پوری امتِ مسلمہ کو غم و اندوہ میں مبتلا کر دیا۔ 17 نومبر 2025 کو مدینہ مکرمہ سے مکہ مکرمہ جانے والی ایک بس، جس میں ہندوستان کے پینتالیس عمرہ زائرین سوار تھے، مکہ۔مدینہ شاہراہ پر ایک ڈیزل ٹینکر سے جا ٹکرائی۔ ٹکر اتنی شدید تھی کہ دیکھتے ہی دیکھتے پوری بس شعلوں میں گھر گئی۔ اس مہیب حادثے میں بیالیس زائرین جاں بحق ہوگئے جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل تھے۔ صرف ایک مسافر زندہ بچ سکا۔ حادثہ رات تقریباً ایک بج کر تیس منٹ (بھارتی وقت کے مطابق) پیش آیا، جب زیادہ تر مسافر نیند میں تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ کسی کے پاس فرار کا موقع نہ تھا۔ متوفیان کا تعلق زیادہ تر ریاستِ تلنگانہ کے شہر حیدرآباد اور اس کے اطراف سے بتایا جا رہا ہے۔ شناخت کا عمل جاری ہے۔ سولہ افراد کی شناخت ہو چکی ہے جن میں عبدالمحمد، محمد مولانا، سہیل محمد، مستان محمد، پروین بیگم، زکیہ بیگم، شوکت بیگم، فرحین بیگ...

Tragic Bus-Tanker Collision Claims Lives of 45 Indian Umrah Pilgrims Near Medina

Special Report: Jameel Aahmed Milansaar Medina, Saudi Arabia – In a devastating accident early Monday, November 17, 2025, a bus carrying 45 Indian Umrah pilgrims en route to Mecca collided with a diesel tanker on the Medina-Mecca highway. The collision caused a massive fire that engulfed the bus, resulting in the tragic deaths of 42 pilgrims, largely women and children, with only one survivor reported. The victims, primarily from Hyderabad and the surrounding region in Telangana, India, were asleep during the accident around 1:30 am IST, leaving little chance for escape. Identification efforts are ongoing, with 16 victims officially identified and some publicly named. The names released by authorities so far include Abdul Mohammed, Mohammed Moulana, Sohail Mohammed, Mastan Mohammed, Parveen Begum, Zakiya Begum, Shoukat Begum, Farheen Begum, Zaheen Begum, Mohammed Manzoor, Mohammed Ali, and Ghousiya Begum. Their remains are being kept in Madinah for forensic analysis and preparations fo...

Jameel Aahmed Milansaar A Brief Intro

Jameel Aahmed Milansaar, based in Bangalore, is a highly respected scholar, researcher, and visionary community leader with extensive experience spanning over decades. He holds the prestigious position of General Assembly Member at the Institute of Objective Studies (IOS), New Delhi, a leading organization dedicated to scholarly research and intellectual advancement. Over the years, he has actively contributed to the global academic community by presenting numerous international research papers, including landmark presentations at the 25th and 30th anniversary celebrations of the IOS, underscoring his commitment to advancing knowledge across disciplines. In addition to his academic stature, Mr. Milansaar plays a pivotal role in socio-political advocacy as a Central Member of the All India Milli Council, New Delhi, where he engages in thought leadership on critical national and community issues. He also lends his expertise as the Chief Advisor to Sathya Jyothi College, Bangalore, guidi...
فولادی ارادے، نازک قسمت — اندرا گاندھی کی کہانی *از : جمیل احمد ملنسار* بنگلور 9845498354  آج کے دن، 31 اکتوبر  کو، اندرا گاندھی کے المناک قتل کی اکتالیسویں برسی کے موقع پر پیش کردہ میرا خراجِ عقیدت پر مبنی مضمون۔    ہندوستان کی تاریخ میں چند شخصیات ایسی ہیں جن پر رائے دینا ہر شخص اپنا حق سمجھتا ہے۔ اندرا گاندھی بھی انہی میں سے ایک ہیں۔ کچھ انہیں دیوی درگا کہتے تھے، جو عدمِ فیصلہ کے عہد میں فیصلے کرنے والی عورت تھی، اور کچھ کے نزدیک وہ آمر تھی، جس نے جمہوریت کو اپنے عزم اور انا کے تابع کر دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ دونوں تھیں — نجات دہندہ بھی، اور سزا دینے والی بھی۔ اندرا کو غربت یا گمنامی نے نہیں تراشا، بلکہ ایک خاص شاہانہ فضا میں ان کی شخصیت نے جنم لیا۔ پنڈت نہرو کی بیٹی ہونے کے باوجود انہیں ابتدا میں سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ ان کے سیاسی رفقا نے انہیں “گونگی گڑیا” کہا، مگر جب وہ بولیں تو سارا منظر بدل گیا۔ ان کی خاموشی میں ایک ایسی طاقت چھپی تھی جس نے مرد سیاست دانوں کو بے بس کر دیا۔ جب کانگریس دو حصوں میں بٹی، تو اندرا نے واضح کر دیا کہ وفاداری اب پارٹی سے نہیں بلکہ ا...

نتیش کمار کی دسویں واپسی: بہار کی سیاست کا ضدی مستقل

Image
تحریر: جمیل احمد ملنسار موبائل: 9845498354 بہار، جہاں سیاست ہمیشہ غیر متوقع موڑ لیتی ہے، وہاں نتیش کمار ہی وہ واحد شخصیت ہیں جو ہر اتھل پتھل کے درمیان ایک مستقل نشان کی طرح قائم رہے۔ اتحاد بنتے اور ٹوٹتے رہے، رہنما ابھرے اور گرے، وفاداریاں بدلتی رہیں—مگر ایک تار ایسا بھی ہے جو گزشتہ پچیس برسوں سے ان تمام اتار چڑھاؤ کے ساتھ جڑا ہوا ہے: نتیش کمار کی خاموش مگر پُراعتماد موجودگی۔ اگر وہ اس بار پھر حلف اٹھاتے ہیں تو یہ ان کی بطور وزیر اعلیٰ دسویں مدت ہوگی—جو خود ہندوستانی سیاسی تاریخ میں ایک غیر معمولی ریکارڈ ہے۔ ان کا پہلا دورِ اقتدار سنہ 2000 میں صرف سات دنوں پر محیط تھا، ایک ایسا مختصر تجربہ جسے اُس وقت شاید کسی نے سنجیدگی سے نہ لیا ہو۔ لیکن آج، دو دہائیاں بیت جانے کے بعد، وہ بہار کے سب سے دیرپا رہنما کے طور پر سامنے ہیں—کبھی تھکے ہوئے محسوس ہوتے ہیں، کبھی خاموش، مگر کبھی غیر متعلق نہیں ہوتے۔ انجینئرنگ سے سیاست تک کا سفر 1951 میں بختیارپور میں پیدا ہونے والے نتیش کمار نے پٹنہ کے بہار کالج آف انجینئرنگ سے گریجویشن کیا۔ اُس زمانے میں تکنیکی تعلیم یافتہ افراد کا سیاست میں قدم رکھنا غیر معمو...

Nitish Kumar 10th Time? The Reluctant Constant of Bihar Politics

Image
Nitish Kumar 10th Time? The Reluctant Constant of Bihar Politics By Jameel Aahmed Milansaar  Mobile ; 9845498354 In a state where politics thrives on unpredictability, Nitish Kumar remains the one enduring constant. Bihar has witnessed alliances form and break, leaders rise and fall, and party loyalties test gravity itself—but one thread has run through it all for nearly 25 years: Nitish Kumar’s quiet, methodical presence at the helm. If he takes oath this time, it will mark his tenth stint as Chief Minister—an extraordinary record even by Indian political standards. His career began with a brief seven-day tenure in 2000, a political cameo that few took seriously then. Yet, two decades later, he stands as Bihar’s most durable political figure—worn, occasionally weary, but never irrelevant. From Engineering Circuits to Political Circles Born in Bakhtiarpur in 1951, Nitish Kumar graduated in engineering from Bihar College of Engineering, Patna. It was a time when technocrats rarely ...

زوہران ممدانی: ایک غیر متوقع میئر اور نئی سیاسی صبح

Image
نیویارک شہر کی گہماگہمی، اس کے شور و شغب اور پیچیدہ سیاسی منظرنامے میں کچھ کہانیاں ایسی ہیں جو دل و دماغ کو یکساں طور پر اپنی گرفت میں لے لیتی ہیں۔ انہی میں سے ایک ہے زوہران ممدانی کی کہانی — ایک نوجوان، پُرجوش اور ترقی پسند رہنما کی، جو ریاستی اسمبلی کے رکن کے طور پر اپنی پہچان بنانے کے بعد حیرت انگیز طور پر میئر کی کرسی تک جا پہنچے۔ اگرچہ ان کا باضابطہ عہدہ تاحال کویِنس کے چھتیسویں ضلع کی نمائندگی کرنے والے ریاستی اسمبلی ممبر کا ہے، مگر عوامی مباحثوں اور سیاسی قیاس آرائیوں میں وہ پہلے ہی "نیویارک کے آنے والے میئر" کے طور پر زیرِ گفتگو ہیں — اور یہی بات اس بات کی گواہی ہے کہ ممدانی نے روایتی سیاسی راستوں سے ہٹ کر ایک نیا، غیر معمولی سفر اختیار کیا ہے۔ ممدانی کی سیاست جڑوں سے اُبھری ہوئی ہے — عوامی تحریکوں، جمہوری سوشلسٹ نظریات، اور ان گنت عام لوگوں کی آرزوؤں سے بنی ہوئی سیاست۔ ان کی حالیہ میئر کی حیثیت سے فتح، جو بیشتر ماہرین کے لیے ناقابلِ یقین تھی، محض ذاتی کامیابی نہیں بلکہ ایک نئے سیاسی مزاج کی آمد کا اشارہ ہے — ایسا مزاج جو ترقی پسندی، شمولیت اور نسلی و فکری تنوع پر مب...

Abul Kalam Azad Tamil

Image

مولانا ابوالکلام آزاد کی چائے کی محبت اور زندگی کی سادگی

9845498354جمیل احمد  ملنسار، بنگلور۔ مولانا ابوالکلام آزاد اپنی پوری زندگی میں صرف ایک عظیم سیاستدان اور ہندوستان کے ممتاز تحریک آزادی کے مجاہد ہی نہیں بلکہ علم و ادب کے وہ بلند پایہ ستارہ تھے جنہوں نے نہ صرف اپنے قلم سے نسلوں کو روشنی دکھائی بلکہ اپنی زندگی کے روزمرہ معمولات میں ایک خاص مطابقت اور ضبط بھی رکھی۔ ان کی زندگی کی ایک دلفریب اور دل چسپ روایت ان کی چائے کی محبت ہے، جو ان کے متحرک اور پیچیدہ کردار کے بالمقابل ان کی سادگی اور وقت کی قدر کی گواہ ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد کا یہ کہنا کہ وہ صبح صادق سے پہلے اپنی چینی جاسمین چائے خود بناتے تھے، اس وقت گھر میں کسی کو جگائے بغیر، ان کی خود انحصاری، اصول پسندی اور اپنے آپ کو وقت دینے کی صلاحیت کی نشانی ہے۔ گھر کی خاموشی میں چائے کی خوشبو، ان کے ذہن کی مشقتوں میں ایک نرم لمحہ تھا، جو کسی بھی بڑے سیاسی فیصلے سے کم اہمیت نہیں رکھتا تھا۔ مولانا ابوالکلام آزاد کی ولادت 1888 میں مکہ مکرمہ میں ہوئی، جہاں ان کا خاندان اسلام کے علمی روایات کا بانی تھا۔ ان کے والد، مولانا خیر الدین، ایک معروف عالم تھے جن کے زیر تربیت انہوں نے اپنی علمی...

تیغ و ایمان کے علمبردار- ٹیپو سلطان: وہ جو جھکا نہیں

Image
ٹیپو سلطان کی زندگی اور جدوجہد کا آج کے سیاسی اور سماجی پس منظر میں تقابلی جائزہ لینا نہایت اہم ہے۔ ان کا اصولِ عدم تعاون برطانوی حکمرانی سے آزادی کے لیے ایک مضبوط پیغام تھا، جو آج بھی قوموں کی خودمختاری کے دفاع میں ہمیں روشنی فراہم کرتا ہے۔ آج کے ہندوستان میں، جہاں آزادی کی تحریک نے نئی شکلیں اختیار کر لی ہیں، ٹیپو سلطان کی قربانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ قومی وقار اور خودمختاری صرف نصاب کی کتابوں کا حصہ نہیں بلکہ ایک زندہ جذبہ ہے جو ہر دور میں قابلِ حفاظت رہتا ہے۔ موجودہ سیاسی حالات میں جب مقامی اور عالمی سطح پر خودمختاری کو کئی چیلنجز درپیش ہیں، ٹیپو کی مثال ہمیں استقلال اور جذبے کے ساتھ اپنی شناخت اور حق کے لیے کھڑے ہونے کی ترغیب دیتی ہے۔ ٹیپو سلطان کی حکمرانی میں جس طرح انہوں نے اپنے دور کے عالمی سیاست کے تقاضوں کو سمجھا اور مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات استوار کیے، وہ آج کے سفارتی توازن اور عالمی تعلقات سے بھی ہم آہنگی رکھتا ہے۔ یہ امر اس بات کا ثبوت ہے کہ خودمختاری کا دفاع صرف عسکری محاذ تک محدود نہیں بلکہ ایک سیاسی اور سفارتی جنگ بھی ہے۔ آج کی نسل کو چاہیے کہ وہ ٹیپو سلطان جیسے تاریخی...

Tipu Sultan: The Fearless King Who Defied the British

Image
In late 18th-century India, a determined king from the south became one of the greatest obstacles to British ambitions: Tipu Sultan, famously known as the “Tiger of Mysore.” His story is a thrilling tale of resistance, innovation, and military brilliance. Tipu’s Early Days Born in 1751, Tipu Sultan was the eldest son of Hyder Ali, a commander who seized power in Mysore and built it into a strong kingdom. Even as a young prince, Tipu showed extraordinary talent—studying the Quran, mastering languages, and learning the arts of war and diplomacy from early childhood. By the time he was seventeen, he was already entrusted with key military tasks and had a front-row seat to the political struggles of southern India. ​ A Visionary Leader Tipu Sultan was not just a fighter; he was a reformer. Once he became king in 1782, he transformed Mysore with bold ideas: reorganising taxes, encouraging industry, building new roads, and inventing new ways to wage war. Under his rule, Mysore prospered and ...