رانچی کی چکنی پچ پر وراٹ کا تخت نشینی - ہبھارت کی 17 رنز کی فتح
جمیل احمد ملنسار کرکٹ کا میدان وراٹ کے لیے محض گھاس کا ٹکڑا نہیں، بلکہ وہ تخت ہے جہاں وہ بادشاہ بنتے ہیں۔ رانچی کے جے ایس سی اے اسٹیڈیم میں اتوار کو یہی منظر نظر آیا— ایک ایسی سنچری جو نہ صرف اعداد و شمار کی فتح تھی بلکہ جذبے کی للکار بھی۔ 120 گیندوں پر 135 رنز، 52ویں ون ڈے سنچری— یہ وراٹ کا وہ انداز تھا جو کلاسیکی خوبصورتی کو تیزی کے جذبے سے ملاتا ہے۔ بھارت نے 8 وکٹ پر 349 رنز بنائے، اور جنوبی افریقہ 332 پر ڈھیر ہوا۔ 17 رنز کی یہ جیت محض اسکور بورڈ کی نہیں، بلکہ ایک عہد کی یاد تازہ کرنے والی تھی۔ نئی گیند سے ہرشت رانا کا طوفان— تین وکٹیں، صرف 11 رنز پر پروٹیز کے تین ستون گرے۔ ٹمبا باووما، ایڈن مارکرم، راسی وین ڈر ڈوسن— سب رانا کا شکار۔ پھر مارکو جانسن کا 84 رنز کا طوفان اور میتھیو بریٹزکے کی نصف سنچری نے 69 گیندوں میں 97 رنز جوڑے۔ کوربن بوش کے 62 نے امید جگائی، مگر کلدیپ یادو کی 4 وکٹیں اور ارشدیپ سنگھ کی سمجھداری نے میچ سنبھال لیا۔ یہ میچ لڑائی تھی— جہاں ہر گیند ایک موڑ، ہر وکٹ ایک سبق۔ وراٹ کی اننگز کا جادو یہ تھا کہ پچ سست ہونے پر بھی ان کا بلّا بولتا رہا۔ شریاس آئیر کے 67 اور سوری...