اعتراف — ادبی دنیا میں ایک بامعنی دستاویز

از: جمیل احمد ملنسارؔ، بنگلور

ادبی دنیا میں بعض کتابیں صرف مطالعے کے لیے نہیں ہوتیں بلکہ مکالمے کے لیے وجود میں آتی ہیں۔ وہ اپنے موضوع، اسلوب اور مواد کے اعتبار سے قاری کو محض معلومات فراہم نہیں کرتیں بلکہ اس کے ذہن میں سوالات، زاویۂ نظر اور نئے امکانات بھی پیدا کرتی ہیں۔ اعتراف بھی اسی نوع کی ایک اہم اور وقیع تصنیف ہے۔ یہ صرف ڈاکٹر راہی فدائی کی شخصیت و خدمات پر لکھے گئے مضامین کا مجموعہ نہیں بلکہ اردو ادب کے مختلف دبستانوں، مختلف نسلوں اور مختلف فکری رویّوں کے اہلِ قلم کے درمیان ایک بامعنی علمی و ادبی مکالمہ ہے، جس کے مرکز میں ایک ہمہ جہت، صاحبِ فکر اور صاحبِ قلم شخصیت جلوہ گر ہے۔

یہ تبصرہ بھی اسی مکالمے کو سمجھنے اور اس کی معنویت کو دریافت کرنے کی ایک عاجزانہ کوشش ہے۔ اس جائزے میں سعی کی گئی ہے کہ کتاب کے ظاہری حسن اور اس کے ادبی وقار سے آگے بڑھ کر اس کی فکری ساخت، مضامین کی ترتیب، مرتب کی تنقیدی بصیرت اور مختلف اہلِ قلم کے اسالیب کا جائزہ لیا جائے، تاکہ قاری اس حقیقت کو محسوس کر سکے کہ اس انتھالوجی کی اصل اہمیت صرف مضامین کے اجتماع میں نہیں بلکہ ان کے باہمی ربط، تنوع اور فکری تسلسل میں پوشیدہ ہے۔حتی المقدور رسمی تحسین یا شخصی وابستگی کے بجائے ایک متوازن اور معروضی ادبی زاویۂ نگاہ اختیار کیا گیا ہے۔ جہاں کتاب کی نمایاں خصوصیات کو اجاگر کیا گیا ہے، وہیں ان پہلوؤں کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے جو مزید گفتگو، تحقیق اور تنقیدی مکالمے کی دعوت دیتے ہیں۔ مقصود یہ ہے کہ یہ جائزہ صرف کتاب کا تعارف نہ بنے بلکہ قاری کو خود کتاب کے مطالعے پر آمادہ کرے، تاکہ وہ ڈاکٹر راہی فدائی کی علمی، ادبی اور تحقیقی شخصیت کو مختلف اہلِ قلم کی نگاہ سے دیکھ سکے۔

مرتب قاضی اسد ثنائی کا مقدمہ، “تقدیم”، محض ایک ذاتی اعتراف نہیں بلکہ راہی فدائی کی ادبی و علمی شخصیت کا ایک جامع آئینہ ہے۔ مصنف کی طویل تلمذی نسبت، اشاعت کے میدان میں ان کی خدمات اور راہی صاحب کے ساتھ دہائیوں پر محیط تعلق نے اس تحریر کو خلوص، وقار اور دل آویزی سے آراستہ کر دیا ہے۔ یہ تعلق محض ذاتی قربت کا اظہار نہیں بلکہ ایک ایسے علمی سفر کی روداد ہے جس میں احترام، عقیدت اور مشاہدہ یکجا ہو گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مقدمہ ابتدا ہی سے قاری کو یہ احساس دلاتا ہے کہ وہ کسی رسمی تعارف کے بجائے ایک زندہ اور معتبر روایت کے روبرو ہے۔

مقدمے میں شامل مشاہیرِ ادب کے اقتباسات اور مستند حوالہ جات نے کتاب کو محض ذاتی تاثرات سے بلند کر کے ایک وثوق یافتہ دستاویز کی حیثیت عطا کر دی ہے۔ ان اقتباسات کے ذریعے راہی صاحب کی شاعرانہ گہرائی، تحقیقی وسعت، دینی بصیرت اور ادبی جامعیت کے مختلف گوشے نہایت واضح انداز میں سامنے آتے ہیں۔ یوں مقدمہ صرف اشاعتِ علوم کی داستان نہیں سناتا بلکہ قاری کے لیے راہی شناسی کے متعدد دریچے وا کرتا ہے اور بعد میں شامل مضامین کے لیے ذہنی آمادگی بھی پیدا کرتا ہے۔

اگر دوسرے پہلو سے دیکھا جائے تو اس مقدمے میں محبت، شکرگزاری اور علمی احترام کا ایک خوش آہنگ امتزاج موجود ہے۔ اگرچہ بعض مقامات پر مصنف کا والہانہ انداز تاثرِ تملق کا گمان پیدا کر سکتا ہے، لیکن ان کی نیک نیتی، دیرینہ رفاقت اور بے لوث وابستگی اس امکان کو بڑی حد تک کم کر دیتی ہے۔ مجموعی اعتبار سے یہ مقدمہ پوری کتاب کا مضبوط تعارفی ستون ہے، جو راہی فدائی کی ادبیت، تحقیق اور روحانی رجحانات کو مربوط انداز میں پیش کرتا ہے اور قاری کو کتاب کے اندر موجود فکری سرمائے کی طرف متوجہ کرتا ہے۔

مقدمے کے اس مطالعے کے بعد جب قاری کتاب کی فہرستِ مضامین پر نگاہ ڈالتا ہے تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ یہ مجموعہ محض مختلف مضامین کا اتفاقی اجتماع نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے ادبی منصوبے کا نتیجہ ہے۔ یہی احساس کتاب کے باطن کی طرف رہنمائی کرتا ہے، جہاں ہر مضمون اپنی انفرادی اہمیت کے ساتھ مجموعی تاثر کی تشکیل میں بھی حصہ لیتا ہے۔

ڈاکٹر راہی فدائی پر شائع ہونے والی یہ کتاب محض ایک ادبی شخصیت کے اعترافِ خدمات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک عہد، ایک روایت اور ایک فکری سفر کی داستان معلوم ہوتی ہے۔ فہرستِ مضامین پر نگاہ ڈالی جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ مرتب قاضی اسد ثنائی نے مضامین کو صرف یکجا نہیں کیا بلکہ ایک ایسی فکری عمارت تعمیر کی ہے جس کی ہر اینٹ اپنے مناسب مقام پر رکھی گئی ہے۔ کتاب میں شامل تحریریں مختلف مزاجوں اور مختلف ادوار سے تعلق رکھنے والے اہلِ قلم کی ہیں، لیکن سب کی منزل ایک ہے: ڈاکٹر راہی فدائی کے علمی، تحقیقی اور ادبی کارناموں کا سنجیدہ جائزہ۔ اسی لیے قاری جب ایک مضمون سے دوسرے مضمون تک پہنچتا ہے تو اسے تکرار کے بجائے فکری ارتقا کا احساس ہوتا ہے، اور ہر تحریر راہی فدائی کی شخصیت کا ایک نیا زاویہ روشن کرتی ہے۔

اس انتھالوجی کی سب سے نمایاں قوت اس کا تنوع ہے۔ یہاں راہی فدائی شاعر بھی ہیں، محقق بھی؛ نعت نگار بھی ہیں، دکنیات کے شناور بھی؛ اور تہذیبی ورثے کے امین بھی۔ قاضی اسد ثنائی نے اس تنوع کو نہایت سلیقے سے ترتیب دیا ہے۔ کتاب کے صفحات سے گزرتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ یہ صرف مضامین کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مسلسل ادبی مکالمہ ہے، جس میں اردو ادب کے ممتاز اذہان اپنی اپنی بصیرت کے ساتھ شریک ہیں۔ مرتب کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے راہی فدائی کے فن اور فکر کو مختلف زاویوں سے دیکھنے والی آوازوں کو اس انداز سے یکجا کیا ہے کہ پوری کتاب ایک متوازن، جامع اور ہم آہنگ تاثر چھوڑتی ہے۔ یہی توازن اس کتاب کو محض خراجِ تحسین کے مجموعے سے بلند کر کے اردو تنقیدی ادب کی ایک اہم اور دیرپا دستاویز بنا دیتا ہے۔

اہم مضامین کا تنقیدی مطالعہ

مجموعۂ مضامین کا آغاز ڈاکٹر نجم الہدیٰ کے ایک نہایت وقیع، معلومات افزا اور جامع مضمون سے کیا گیا ہے، جو تعارف، تجزیے اور شخصی مشاہدے کی دل آویز آمیزش اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

“۱۹۷۷ء تک میں راہی فدائی کو صرف غائبانہ جانتا تھا۔ ملاقات کے بعد شخصیت کے وہ کئی پہلو بھی سامنے آئے جو محض تخلیقات کے مطالعے سے پوری طرح نمایاں نہیں ہو سکے تھے۔ مثلاً یہ کہ راہی فدائی دراصل مولانا ظہیر احمد باقوی ہیں، اس حقیقت سے میں واقف نہ تھا۔”

ڈاکٹر نجم الہدیٰ کا یہ اعتراف آج بھی اپنی پوری معنویت اور تازگی کے ساتھ قاری کو متوجہ کرتا ہے۔ بڑی اور ہمہ جہت ادبی شخصیات کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ان کی تحریریں اگرچہ ان کے فکری، تخلیقی اور علمی وجود کا بھرپور تعارف کراتی ہیں، لیکن ان کی شخصیت کے وہ انسانی، روحانی، تہذیبی اور باطنی ابعاد اکثر نگاہوں سے اوجھل رہ جاتے ہیں جو صرف قربت، مشاہدے اور بالمشافہ ملاقات کے ذریعے ہی آشکار ہوتے ہیں۔ نجم الہدیٰ صاحب کا یہ انکشاف محض ایک فرد کی شناخت نہیں بلکہ ایک ایسی علمی و ادبی شخصیت کے مختلف حوالوں کو یکجا دیکھنے کا شعور ہے، جس کی ذات میں عالمِ دین، محقق، شاعر، نعت نگار اور تہذیبی مورخ ایک ساتھ جلوہ گر ہیں۔

شاید یہی سبب ہے کہ قاضی اسد ثنائی نے اس مجموعے کی ابتدا اسی مضمون سے کی ہے۔ یہ انتخاب محض ترتیب کا معاملہ نہیں بلکہ مرتب کی بالغ نظری، تنقیدی بصیرت اور ادبی شعور کا مظہر ہے۔ یہ مضمون قاری کو راہی فدائی کے فن کے دروازے سے پہلے ان کی شخصیت کے آستانے تک لے جاتا ہے اور یہ احساس عطا کرتا ہے کہ بعض شخصیات اپنی تصانیف سے کہیں زیادہ وسیع، عمیق اور کثیرالجہات ہوتی ہیں۔ گویا یہ مضمون پورے مجموعے کے لیے دیباچے کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں سے راہی فدائی کی شخصیت اور فن کے اسرار و رموز کو سمجھنے کا سفر شروع ہوتا ہے۔


ڈاکٹر محمد علی اثر کا مضمون “کلیاتِ نعت — ناعت و منعوتِ راہی فدائی” راہی فدائی صاحب کی علمی و ادبی شخصیت کا نہایت جامع اور متوازن تعارف پیش کرتا ہے۔ وہ راہی صاحب کو محض ایک شاعر یا محقق کے طور پر نہیں دیکھتے بلکہ انہیں عہدِ حاضر کی اُن نادر شخصیات میں شمار کرتے ہیں جن کے قلم نے تنقید، تحقیق، علومِ اسلامیہ اور شاعری جیسے بظاہر الگ الگ میدانوں میں یکساں وقار، فنی مہارت اور فکری استحکام کے ساتھ اپنی انفرادیت ثبت کی ہے۔ یہ تاثر اس امر کی وضاحت کرتا ہے کہ راہی صاحب کی شخصیت کسی ایک صنف یا ایک علمی دائرے تک محدود نہیں بلکہ ان کی تخلیقی اور تحقیقی جہتیں ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔

ڈاکٹر محمد علی اثر نے بالخصوص راہی فدائی کی شاعری کا جس بصیرت افروز انداز میں تجزیہ کیا ہے، وہ ان کے تنقیدی شعور کی گہرائی کا آئینہ دار ہے۔ وہ لکھتے ہیں: “نعت گوئی کے دو اہم ستون ہیں: ایک جوشِ عقیدت اور دوسرا شعری معیار۔ اس لحاظ سے راہی صاحب کے نعتیہ کلام کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کا کلام عقیدت میں پختہ اور فنی معیار کے اعتبار سے معتبر ہے۔”

ان کے نزدیک راہی فدائی نے کلاسیکی اردو شاعری کی مستحکم روایات سے اپنا تخلیقی رشتہ استوار رکھتے ہوئے روایت اور جدت کے درمیان ایسا حسین توازن قائم کیا ہے جس میں فکر کی تازگی، لہجے کی شگفتگی اور احساس کی ندرت پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔ یہی امتزاج انہیں معاصر شعری منظرنامے میں ایک منفرد اور معتبر آواز عطا کرتا ہے۔ اس مضمون کی اہمیت اس اعتبار سے بھی دوچند ہو جاتی ہے کہ یہ راہی فدائی کے فن کو محض تحسین کی نگاہ سے نہیں دیکھتا بلکہ ان کی تخلیقی شناخت کے ان بنیادی عناصر کو نشان زد کرتا ہے جنہوں نے انہیں عصرِ حاضر کے ممتاز اور صاحبِ اسلوب شعرا کی صف میں نمایاں مقام عطا کیا ہے۔

علیم صبا نویدی اپنے مضمون میں لکھتے ہیں:

“حضرت قبلہ مولانا مولوی سید شاہ عبدالجبار صاحب قادری باقوی، مولانا مولوی محمد جعفر حسین صاحب فیضی صدیقی، مولانا مولوی سید شاہ محمد یعقوب بغدادی، مولانا مولوی رئیس الاسلام اور مولانا مولوی صبغت اللہ بختیاری، اور پھر خصوصی طور پر استادِ سخن حضرت مولانا فدوی باقوی کی صحبتوں میں آپ نے زبان پر کافی عبور حاصل کیا۔”

یہ اقتباس راہی فدائی کی لسانی مہارت کو محض فطری صلاحیت کا نتیجہ قرار نہیں دیتا بلکہ اس کے پس منظر میں موجود اس مضبوط علمی و تربیتی سلسلے کی نشاندہی کرتا ہے جس نے ان کی فکری اور ادبی شخصیت کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ راہی فدائی کی زبان کی شائستگی، بیان کی لطافت، اسلوب کی پختگی اور اظہار کی تہذیبی وقعت برسوں کی صحبتِ اہلِ علم، کسبِ فیض اور علمی ریاضت کا ثمرہ ہے۔ یوں یہ اقتباس اس بنیادی نکتے کو اجاگر کرتا ہے کہ بڑا ادیب محض پیدائشی صلاحیت کا مرہونِ منت نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے اساتذہ کی تربیت، علمی روایت کے تسلسل اور مسلسل ریاضت کے ذریعے اپنے فن کو دوام اور وقار عطا کرتا ہے۔

مضطر مجاز اپنے مضمون “راہی فدائی کی شاعری: فصاحت و بلاغت کا آئینہ خانہ” میں لکھتے ہیں:

“میں جب بھی راہی فدائی کی شاعری پڑھتا ہوں تو مجھے ڈائیلان تھامس کی ایک بات یاد آتی ہے کہ میں شاعری اس لیے کرتا ہوں کہ مجھے لفظوں سے عشق ہو گیا ہے۔ لفظ شاعری کا بنیادی اوزار ہے، جس طرح رنگ اور مو قلم مصور کا، ساز موسیقار کا اور ہتھوڑی مجسمہ ساز کا۔ بڑی مشکل ان دنوں یہ پیش آ رہی ہے کہ ہمارے بیشتر شعرا کو اپنے اوزار، یعنی لفظ، زبان، فن اور بیان پر کوئی قابو ہی نہیں؛ پھر بھی کوئی قانون انہیں شاعری کرنے سے روک نہیں سکتا۔”

مضطر مجاز نے اس اقتباس میں راہی فدائی کی شاعری کا وہ بنیادی وصف نشان زد کیا ہے جو کسی بھی بڑے شاعر کی اصل شناخت ہوتا ہے، یعنی لفظ پر غیر معمولی دسترس۔ ڈائیلان تھامس کے قول سے گفتگو کا آغاز محض ایک ادبی حوالہ نہیں بلکہ راہی فدائی کی شاعری کے فنی محاسن کی تفہیم کی کلید ہے۔ مصنف یہ باور کراتے ہیں کہ شاعری صرف احساس یا خیال کا نام نہیں بلکہ لفظ، زبان اور اسلوب پر کامل اختیار ہی شاعر کو دوام بخشتا ہے۔ اسی تناظر میں راہی فدائی کی شاعری فصاحت و بلاغت کا ایسا آئینہ خانہ بن کر سامنے آتی ہے جہاں لفظ اپنی پوری معنوی توانائی، جمالیاتی لطافت اور فنی وقار کے ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں۔

“اعتراف” اپنے عنوان کی طرح صرف ایک شخصیت کے اعترافِ خدمات کا اظہار نہیں بلکہ اردو ادب کی اس روایت کا اعتراف بھی ہے جس میں اہلِ قلم اپنے معاصرین کے علمی و ادبی سرمایے کو محفوظ کرتے ہیں۔ قاضی اسد ثنائی نے اس انتھالوجی کو جس فکری بصیرت، ادبی ذوق اور تنقیدی شعور کے ساتھ مرتب کیا ہے، وہ اسے محض مضامین کے مجموعے سے بلند کر کے ایک معتبر ادبی دستاویز بنا دیتا ہے۔

ڈاکٹر راہی فدائی کی شخصیت اس کتاب کے ہر صفحے پر ایک نئے زاویے سے جلوہ گر ہوتی ہے۔ کہیں وہ شاعر ہیں، کہیں محقق؛ کہیں دکنی ادب کے امین، تو کہیں نعتیہ ادب کے معتبر نمائندہ۔ مختلف اہلِ قلم کی آرا مل کر ان کی شخصیت کا ایسا جامع اور متوازن خاکہ پیش کرتی ہیں جو قاری کو صرف معلومات فراہم نہیں کرتا بلکہ غور و فکر پر بھی آمادہ کرتا ہے۔

بلاشبہ “اعتراف” ان کتابوں میں شامل ہے جو صرف پڑھی نہیں جاتیں بلکہ بار بار رجوع کی دعوت دیتی ہیں۔ یہ تصنیف ڈاکٹر راہی فدائی کی خدمات کا اعتراف بھی ہے، اردو ادب کی تنقیدی روایت میں ایک قابلِ قدر اضافہ بھی، اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک مستند حوالہ بھی۔

Comments

Popular Posts