بدلتی ہوئی ہوا کا رخ

بدلتی ہوئی ہوا کا رخ

از: جمیل احمد ملنسارؔ، بنگلور



جمہوریت کی سب سے بڑی طاقت عوام کا اعتماد ہوتا ہے، اور سب سے بڑا خطرہ وہ لمحہ جب یہی اعتماد خاموشی سے ہاتھ سے نکلنے لگے۔ ہندوستان میں آج جو کچھ ہو رہا ہے، وہ صرف ایک امتحان یا ایک احتجاج کی کہانی نہیں، بلکہ اس رشتے کی کمزوری کا اعلان ہے جو حکومت اور عوام کے درمیان قائم ہونا چاہیے۔

نیٹ کے خلاف جاری احتجاج نے اب محض تعلیمی نظام پر سوال نہیں اٹھایا، بلکہ یہ ریاست کے رویّے کا آئینہ بن چکا ہے۔ نوجوان اپنے مستقبل کے بارے میں سوال پوچھ رہے ہیں، انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں، مگر جواب میں انہیں لاٹھیاں، دھکے اور طاقت کا مظاہرہ دکھائی دے رہا ہے۔

سب سے زیادہ تشویش اس منظر نے پیدا کی جس میں ایک خاتون مظاہرہ کرنے والی کے ساتھ ایک مرد پولیس افسر کی مبینہ بدسلوکی کی ویڈیو سامنے آئی۔ اگر ریاست کی طاقت خواتین کے چہرے پر تھپڑ بن کر اترنے لگے تو پھر قانون کی بالادستی کا دعویٰ کس بنیاد پر کیا جائے؟ پولیس کا فرض شہریوں کی حفاظت ہے، ان کی تذلیل نہیں۔

اقتدار کا اصل امتحان مخالف آوازوں کو دبانے میں نہیں، بلکہ انہیں سننے میں ہوتا ہے۔ جب حکومت تنقید کو دشمنی سمجھنے لگے تو پھر جمہوریت کا سفر خطرناک موڑ پر پہنچ جاتا ہے۔ اختلافِ رائے جرم نہیں، بلکہ ایک زندہ معاشرے کی علامت ہے۔

آج ملک کا ماحول بدل رہا ہے۔ نوجوانوں کی بے چینی اب سوشل میڈیا کی چند پوسٹوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سڑکوں پر سنائی دے رہی ہے۔ کسانوں کی ناراضی ختم نہیں ہوئی۔ دلت اپنی عزتِ نفس کے لیے اب بھی جدوجہد کر رہے ہیں۔ آدیواسی اپنے حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ او بی سی طبقے کے اندر بھی بے اطمینانی بڑھ رہی ہے، جبکہ اقلیتیں مسلسل اپنے آئینی تحفظات اور مساوی شہریت کے احساس کی متلاشی ہیں۔

یہ تمام آوازیں الگ الگ نہیں ہیں۔ ان کے درد کا مرکز ایک ہے: یہ احساس کہ شاید حکومت سننا چھوڑ چکی ہے۔

طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے لوگوں کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ عوام کا خوف وقتی ہو سکتا ہے، مگر عوام کی ناراضی دیرپا ثابت ہوتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ حکومتیں مخالف نعروں سے نہیں گرتیں، بلکہ اس وقت کمزور پڑتی ہیں جب وہ اپنے ہی شہریوں کی آواز کو غیر ضروری سمجھنے لگتی ہیں۔

ہوا کا رخ بدل رہا ہے۔ یہ تبدیلی کسی ایک جماعت یا ایک احتجاج کی نہیں، بلکہ عوامی شعور کی تبدیلی ہے۔ اب سوال صرف نیٹ کا نہیں رہا، سوال یہ ہے کہ کیا اس ملک میں اختلاف کی آواز کو عزت کے ساتھ سنا جائے گا یا طاقت کے زور پر خاموش کرانے کی کوشش کی جائے گی؟

جمہوریت کی خوبصورتی اسی میں ہے کہ حکومتیں عوام سے ڈرتی نہیں، بلکہ عوام کے سامنے جواب دہ ہوتی ہیں۔ جب جواب دہی ختم ہونے لگے تو سمجھ لیجیے کہ اقتدار مضبوط نہیں، کمزور ہو رہا ہے۔

Comments

Popular Posts