نوجوان جاگ اٹھے ہیں، اب ہندوستان کو سننا ہوگا
از: جمیل احمد ملنسارؔ، بنگلور
جمہوریت کی تاریخ میں کچھ لمحے ایسے آتے ہیں جب عوام اقتدار کے ایوانوں کو یہ یاد دلاتے ہیں کہ اصل طاقت کرسیوں میں نہیں، بلکہ عوام کے اجتماعی شعور میں ہوتی ہے۔ ہندوستان نے ایسے کئی تاریخی مناظر دیکھے ہیں۔ کسانوں کی طویل جدوجہد انہی میں سے ایک تھی۔ لاکھوں کسانوں نے صبر، استقامت اور اتحاد کے ساتھ اپنا مؤقف پیش کیا، یہاں تک کہ حکومت کو زرعی قوانین واپس لینے پڑے۔ یہ صرف قوانین کی واپسی نہیں تھی بلکہ اس حقیقت کا اعتراف بھی تھا کہ عوامی آواز کو ہمیشہ نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
آج اسی تاریخ کا ایک نیا باب ملک کے نوجوانوں نے رقم کیا ہے۔
اس بار سڑکوں پر بھی نوجوان تھے اور سوشل میڈیا پر بھی۔ طلبہ، والدین، اساتذہ اور باشعور شہری ایک آواز بن کر سامنے آئے۔ ان کی جدوجہد کسی سیاسی نعرے یا وقتی جوش کا نتیجہ نہیں تھی، بلکہ اس احساس کی ترجمان تھی کہ کروڑوں نوجوانوں کے مستقبل کو ایک ایسے نظام کے حوالے نہیں کیا جا سکتا جس پر مسلسل سوالات اٹھ رہے ہوں۔
وزیر کا استعفیٰ یقیناً ایک اہم سیاسی پیش رفت ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عوامی دباؤ آج بھی جمہوریت میں اپنی اہمیت رکھتا ہے۔ مگر اگر کوئی یہ سمجھ لے کہ صرف ایک استعفیٰ ہی تمام مسائل کا حل ہے تو یہ خود فریبی ہوگی۔ افراد بدل سکتے ہیں، مگر پالیسیاں اپنی جگہ باقی رہتی ہیں۔ جب تک بنیادی نظام پر سنجیدگی سے نظرِ ثانی نہیں ہوتی، تب تک وہی سوال، وہی خدشات اور وہی بے چینی برقرار رہے گی۔
اسی لیے اصل بحث کسی ایک شخصیت پر نہیں، بلکہ نیٹ (NEET) کے پورے نظام پر ہونی چاہیے۔
برسوں سے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ نیٹ ملک میں یکساں معیار اور میرٹ قائم کرتا ہے، لیکن یکسانیت ہمیشہ انصاف کی ضمانت نہیں ہوتی۔ ہندوستان جیسا وسیع، متنوع اور سماجی و معاشی اعتبار سے مختلف حقیقتوں پر مشتمل ملک ایک ہی امتحان کے ذریعے سب کو برابر مواقع فراہم نہیں کر سکتا۔ دیہی علاقوں کے سرکاری اسکول، علاقائی نصاب، معاشی طور پر کمزور خاندان اور مہنگے کوچنگ اداروں پر انحصار کرنے والے طبقے—سب کی حقیقتیں ایک جیسی نہیں ہیں۔
کاغذ پر ایک جیسا امتحان شاید سب کے لیے برابر نظر آئے، مگر عملی زندگی میں اس کے نتائج ہرگز برابر نہیں ہوتے۔
یہی وہ بنیادی سوال ہے جس نے نوجوانوں کو احتجاج پر مجبور کیا ہے۔
یہ طلبہ آسان راستہ نہیں مانگ رہے، بلکہ انصاف مانگ رہے ہیں۔ وہ پوچھ رہے ہیں کہ کیا ایک ایسا امتحانی نظام، جو لاکھوں خاندانوں پر نفسیاتی، مالی اور جذباتی دباؤ ڈال دے، واقعی منصفانہ کہلانے کا حق رکھتا ہے؟ کیا تعلیم کا معیار برسوں کی محنت سے زیادہ مہنگی کوچنگ کی صلاحیت پر منحصر ہونا چاہیے؟ یہ ایسے سوالات ہیں جنہیں نظر انداز کرنے کے بجائے سنجیدگی سے سننے کی ضرورت ہے۔
اس تحریک کا سب سے متاثر کن پہلو اس کی شعوری کیفیت ہے۔
اکثر کہا جاتا ہے کہ آج کا نوجوان صرف تفریح، موبائل فون اور سوشل میڈیا میں مصروف ہے، مگر موجودہ تحریک نے اس تاثر کو غلط ثابت کر دیا۔ نوجوانوں نے معلومات حاصل کیں، مکالمہ کیا، دلائل پیش کیے، بیانیوں کو پرکھا اور پورے ملک میں یکجہتی کی فضا قائم کی۔ انہوں نے ثابت کیا کہ ٹیکنالوجی صرف وقت گزارنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ جمہوری شعور کو بیدار کرنے کا ایک مؤثر وسیلہ بھی بن سکتی ہے۔
یہ ایک خوش آئند تبدیلی ہے۔
ہر نسل کو کچھ نامکمل جدوجہد ورثے میں ملتی ہے۔ کسانوں نے یہ ثابت کیا کہ مسلسل مزاحمت بڑے سے بڑے فیصلے بدل سکتی ہے۔ آج نوجوان یہ ثابت کر رہے ہیں کہ جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں، بلکہ عوام کی مسلسل بیداری، سوال کرنے کی جرأت اور اداروں سے جواب طلب کرنے کا نام بھی ہے۔
کچھ لوگ اس تحریک کو جذباتی، سیاسی یا گمراہ قرار دینے کی کوشش کریں گے، مگر حقیقت اس سے کہیں مختلف ہے۔ آج کا نوجوان پہلے سے زیادہ باشعور، باخبر اور خود فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مصنوعی بیانیے، اشتہاری دعوے اور سیاسی تشہیر اب حقیقت کا متبادل نہیں بن سکتے۔
یہی اصل تبدیلی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ حکومتیں کچھ عرصے تک عوامی آواز کو نظر انداز کر سکتی ہیں، مگر ہمیشہ کے لیے نہیں۔ جمہوریت صرف انتخابات جیتنے سے مضبوط نہیں ہوتی، بلکہ عوام کے اعتماد سے مضبوط ہوتی ہے۔ اور جب اعتماد متزلزل ہونے لگے تو کوئی بھی سیاسی حکمتِ عملی اسے زیادہ دیر تک سہارا نہیں دے سکتی۔
اس لیے نوجوانوں کی آواز کو خطرہ نہیں سمجھنا چاہیے، بلکہ ایک موقع سمجھنا چاہیے—ایسا موقع جو نظامِ تعلیم پر ازسرِ نو غور کرنے، اعتماد بحال کرنے اور انصاف پر مبنی مستقبل تعمیر کرنے کا راستہ دکھاتا ہے۔
کسانوں نے ثابت کیا کہ عوام متحد ہوں تو پالیسیاں بدل سکتی ہیں۔
نوجوانوں نے ثابت کر دیا کہ ان کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔
ایک استعفیٰ صرف ایک مرحلہ ہے، منزل نہیں۔ اگر مقصد واقعی تعلیمی انصاف ہے تو نیٹ کے مستقبل پر سنجیدہ قومی مکالمہ ناگزیر ہے، اور یہ مکالمہ اس وقت تک جاری رہنا چاہیے جب تک حقیقی اصلاحات سامنے نہ آ جائیں۔
بیدار نوجوان کسی جمہوریت کے لیے خطرہ نہیں ہوتے۔
وہی جمہوریت کی سب سے مضبوط بنیاد ہوتے ہیں۔
Comments
Post a Comment