Thursday, 21 May 2026

جب سراج کی گیندیں آگ برسائیں اور راشد خان نے آخری وار کیا، تب یہ صرف ایک جیت نہیں رہی، گجرات ٹائٹنز کی طاقت کا اعلان بن گئی

 


Every run becomes a story; when hope is suppressed, a successful shot can revive life.

Kolkata Breathes Again; Mumbai Falls Silent



In the closing stretch of the IPL, some matches are not merely about two points; they recalibrate narratives and resurrect fortunes. Kolkata Knight Riders’ four-wicket victory over Mumbai Indians was precisely such a game. In a low-scoring encounter, Kolkata did more than notch a win — it revived its sinking hopes.

A target of 148 looked deceptively modest, yet under pressure every run carried disproportionate weight. Manish Pandey’s composed innings — a lesson in the enduring value of experience in T20 cricket — steadied the chase. His calm, unhurried strokeplay delivered the two vital points Kolkata desperately needed.

For Mumbai, the season has been unmoored. Once a franchise synonymous with nerve and demolition under pressure, the Indians this year have appeared unsteady and rudderless; each reverse seemed to hollow them further. Stranded near the bottom of the table, this Mumbai side looks reduced to going through the motions rather than asserting itself.

The more compelling story now lies in the congested middle of the table, where fortunes fluctuate with every result. Kolkata’s win has intensified the playoff race, injecting fresh suspense into a race that was otherwise drifting toward predictable outcomes. All eyes now shift to the Narendra Modi Stadium in Ahmedabad, where an impending clash between Gujarat Titans and Chennai Super Kings could well determine the complexion of the remainder of the season.

That is, after all, the IPL’s enduring allure: no narrative is settled until the final over, and no hope is extinguished before the last match.




Wednesday, 20 May 2026

“گل بوٹے” کا مالی رخصت ہوگیا - فاروق سید کے انتقال پر اردو دنیا سوگوار

“گل بوٹے” کا مالی رخصت ہوگیا - فاروق سید کے انتقال پر اردو دنیا سوگوار
از : جمیل احمد ملنسار
9845498354


فاروق سید کے انتقال کے ساتھ اردو دنیا کا ایک ایسا چراغ گل ہوا ہے جس کی روشنی صرف ایک رسالے کے صفحات تک محدود نہیں تھی، بلکہ اس کی کرنیں نسلوں کے ذہن، زبان اور تخیل کو روشن کرتی رہی تھیں۔ بعض شخصیات اپنی زندگی میں ادارہ بن جاتی ہیں، اور بعض ادارے اپنے بانی کے بعد بھی ان کی سانسوں کی خوشبو لیے زندہ رہتے ہیں۔ فاروق سید انہی کم یاب لوگوں میں تھے جنہوں نے خاموشی سے ایک تہذیبی فریضہ انجام دیا۔

اردو صحافت میں بہت سے نام آئے، بہت سے رسائل شائع ہوئے، بہت سے مدیر گزرے، مگر بچوں کے ادب کے میدان میں جس استقلال، محبت اور خلوص کے ساتھ فاروق سید نے کام کیا، وہ اب کم ہی دکھائی دیتا ہے۔ آج کے شور و غوغا سے بھرے زمانے میں، جب مطالعہ ایک بوجھ اور زبان محض ذریعۂ تجارت بنتی جا رہی ہے، ایسے میں “گل بوٹے” جیسا رسالہ دراصل تہذیب کی آخری پناہ گاہوں میں سے ایک تھا۔ یہ رسالہ صرف کہانیوں، نظموں اور تصویروں کا مجموعہ نہیں تھا، بلکہ ایک ایسی نرم اور مہذب دنیا تھی جہاں بچے لفظوں کے ساتھ اخلاق بھی سیکھتے تھے، زبان کے ساتھ خواب بھی بُنتے تھے۔

فاروق سید نے شاید کبھی بڑے دعوے نہیں کیے، نہ ہی خود کو ادبی منظرنامے کا مرکزی کردار بنانے کی کوشش کی۔ ان کا مزاج شور سے زیادہ سکوت کا عادی تھا۔ وہ جانتے تھے کہ قوموں کی تعمیر جلسوں سے نہیں، بچوں کے ذہنوں میں بوئے گئے لفظوں سے ہوتی ہے۔ اسی لیے انہوں نے اپنی پوری زندگی بچوں کی ادبی اور ذہنی تربیت کے لیے وقف کردی۔ ان کے رسالے نے نہ جانے کتنے گھروں میں اردو کے چراغ روشن کیے، کتنے بچوں کو پہلی بار قلم پکڑنے کا حوصلہ دیا، اور کتنے ننھے ذہنوں میں مطالعے کی محبت پیدا کی۔


یہ عجیب سانحہ ہے کہ جو شخص بچوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرتا رہا، اس کی جدائی نے اردو دنیا کو سوگوار کر دیا۔ رمضان المبارک میں عمرے کی سعادت کے لیے روانگی، پھر اچانک علالت، علاج، اسپتالوں کی طویل مسافت، بائی پاس سرجری اور زندگی کی مسلسل کشمکش — یہ سب گویا تقدیر کے وہ اوراق تھے جنہیں انسان چاہ کر بھی بدل نہیں سکتا۔ آخرکار وہ شخص جس نے اپنی پوری عمر لفظوں کو زندگی بخشی، خاموشی سے خود لفظوں کی دنیا سے رخصت ہوگیا۔

ان کی وفات محض ایک فرد کی موت نہیں، بلکہ اردو کے اس مزاج کا نقصان ہے جس میں شائستگی، تربیت، تہذیب اور محبت شامل تھی۔ آج جب بازاریت نے ادب کو بھی اپنی گرفت میں لے لیا ہے، فاروق سید جیسے لوگ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ادب کا اصل مصرف انسان بنانا ہے، محض قاری پیدا کرنا نہیں۔

“گل بوٹے” کی فائلیں جب کبھی کھولی جائیں گی تو ان کے صفحات سے صرف تحریریں نہیں نکلیں گی، بلکہ ایک ایسے شخص کی محنت، محبت اور خاموش جدوجہد کی خوشبو محسوس ہوگی جس نے اپنی ذات کو پسِ پشت ڈال کر آنے والی نسلوں کے لیے روشنی بچا کر رکھی۔

فاروق سید اب ہمارے درمیان نہیں رہے، مگر ان کے بوئے ہوئے لفظ ابھی زندہ ہیں۔ شاید یہی کسی ادیب، صحافی اور معلم کی اصل بقا ہوتی ہے کہ وہ جسم سے رخصت ہوجائے، مگر اس کے دیے ہوئے چراغ دیر تک جلتے رہیں۔

اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور اردو زبان و ادب کے اس مخلص خادم کی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔ آمین۔

Monday, 18 May 2026

تمل ناڈو کی ترقی کے پیچھے چھپی بے چینی



نوجوانوں کی بے چینی اور تمل ناڈو کا سیاسی مستقبل


از : جمیل احمد ملنسار
Mob: 98454 98354



تمل ناڈو میں اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے، اسے صرف ایک معمول کی سیاسی تبدیلی سمجھنا بڑی غلطی ہوگی۔ انتخابی جلسوں کے شور، ٹیلی ویژن مباحثوں کی گرمی اور سیاسی نعروں کے ہنگامے کے نیچے ایک ایسی بے چینی جنم لے رہی ہے جو خاص طور پر نوجوان نسل کے اندر بہت گہری ہوچکی ہے۔ یہ بے چینی کسی نظریاتی بحث کا نتیجہ نہیں بلکہ روزگار، مستقبل اور معاشی تحفظ سے جڑی ہوئی وہ تلخ حقیقت ہے جسے آج کا نوجوان اپنی روزمرہ زندگی میں محسوس کررہا ہے۔

شاید کئی دہائیوں میں پہلی مرتبہ تمل ناڈو کا نوجوان اس بنیادی سیاسی اور معاشی معاہدے پر سوال اٹھا رہا ہے جس نے ریاست کو طویل عرصے تک استحکام دیا۔ وہ معاہدہ یہ تھا کہ تعلیم، صنعتی ترقی اور فلاحی سیاست مل کر نئی نسل کو ایک محفوظ اور باوقار مستقبل فراہم کریں گے۔ لیکن اب نوجوانوں کو لگنے لگا ہے کہ یہ وعدہ کمزور پڑچکا ہے۔

آج تمل ناڈو کی سیاست میں جو ہلچل دکھائی دے رہی ہے، اس کی اصل وجہ صرف نئے چہروں کا ابھرنا یا پرانی سیاسی قوتوں کی کمزوری نہیں ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ موجودہ سیاسی اور معاشی نظام سے مایوس ہوچکا ہے۔ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ یہ نظام، اپنی تمام کامیابیوں کے باوجود، اب ان کے خوابوں اور ضروریات کا جواب دینے کی صلاحیت کھوچکا ہے۔

یہ بات درست ہے کہ تمل ناڈو کو ہندوستان کی کامیاب ترین ریاستوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ صنعتیں یہاں آتی ہیں، سرمایہ کاری بڑھتی ہے، بڑی کمپنیاں اسے اپنی پسندیدہ منزل سمجھتی ہیں، اور معاشی اعداد و شمار بھی متاثر کن نظر آتے ہیں۔ مختلف حکومتوں نے برسوں تک اسی ترقیاتی ماڈل کو اپنی کامیابی کا ثبوت بناکر پیش کیا ہے۔

لیکن معاشی ترقی کی چمکتی ہوئی تصویروں کے پیچھے ایک دوسری حقیقت بھی موجود ہے، اور وہ حقیقت نوجوان نسل کی زندگیوں میں صاف دکھائی دیتی ہے۔

آج ہزاروں تعلیم یافتہ نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لیے روزگار کی تلاش میں بھٹک رہے ہیں۔ اچھی تعلیم اب اچھی نوکری کی ضمانت نہیں رہی۔ بہت سے نوجوان اپنی صلاحیت سے کم درجے کے کام کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ کچھ عارضی ملازمتوں کے درمیان جھول رہے ہیں جہاں نہ مستقبل کا تحفظ ہے اور نہ ہی معاشی استحکام۔ ایک ایسی نسل جسے یہ یقین دلایا گیا تھا کہ تعلیم انہیں سماجی ترقی اور بہتر زندگی دے گی، آج شدید مایوسی کا شکار ہے۔

یہی مایوسی اب سیاست کا رخ بدل رہی ہے۔

آج کا نوجوان صرف نعروں یا روایتی فلاحی وعدوں سے مطمئن نہیں ہے۔ وہ عزت کے ساتھ جینا چاہتا ہے۔ وہ ایسی تعلیم چاہتا ہے جو واقعی مواقع پیدا کرے۔ وہ ایسی ملازمت چاہتا ہے جس سے زندگی تعمیر ہوسکے۔ وہ ایسے شہر چاہتا ہے جہاں رہنا ممکن ہو، اور ایسا نظام چاہتا ہے جو انسان کو مستقل غیر یقینی کیفیت میں نہ دھکیل دے۔

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ تمل ناڈو کی بڑی سیاسی قیادت اب بھی ماضی کی زبان بول رہی ہے۔ روایتی سیاسی موضوعات اپنی اہمیت ضرور رکھتے ہیں، مگر وہ اس نوجوان کے خوف کا جواب نہیں دے سکتے جو انجینئرنگ کی ڈگری کے باوجود مستقل نوکری حاصل نہیں کرپارہا، یا اس گریجویٹ کی بے چینی ختم نہیں کرسکتے جو معاشی ترقی کے دعووں کے باوجود اپنے لیے سکڑتے ہوئے مواقع دیکھ رہا ہے۔

اسی خلا میں نئے سیاسی چہرے غیر معمولی توجہ حاصل کررہے ہیں۔

ان کے گرد جو جوش دکھائی دیتا ہے، اسے صرف شخصیت کا کرشمہ سمجھنا حقیقت کو آسان بنادینا ہوگا۔ اس جوش کے پیچھے دراصل برسوں کی جمع شدہ مایوسی ہے جو اب سیاسی اظہار ڈھونڈ رہی ہے۔ نوجوان کسی نظریاتی انقلاب سے زیادہ اس امید سے جڑے ہوئے ہیں کہ شاید کوئی تو ایسا ہو جو ترقی یافتہ تمل ناڈو کی تصویر اور عام نوجوان کی غیر محفوظ زندگی کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے کو تسلیم کرے۔

لیکن صرف امید کافی نہیں ہوتی۔

سیاسی چہروں کی تبدیلی ہمیشہ معاشی حقیقتوں کو تبدیل نہیں کرتی۔ نئی قیادت کا آنا خود بخود روزگار پیدا نہیں کرتا، نہ تعلیمی نظام کی خامیوں کو دور کرتا ہے اور نہ برسوں سے جمع ہوتی ہوئی معاشی کمزوریوں کا علاج بن جاتا ہے۔ اکثر جمہوریتوں میں عوامی غصے کو یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ گویا اس کے پاس پہلے سے تیار کوئی متبادل نظام بھی موجود ہے، حالانکہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہوتی ہے۔

تمل ناڈو آج ایسے سوالات کے سامنے کھڑا ہے جنہیں مزید ٹالا نہیں جاسکتا۔ آخر اتنی سرمایہ کاری کے باوجود روزگار کیوں پیدا نہیں ہورہا؟ صنعتی ترقی کے باوجود تعلیم یافتہ نوجوان غیر محفوظ کیوں ہیں؟ ہزاروں نوجوان بہتر مواقع کی تلاش میں ریاست سے باہر جانے پر کیوں مجبور ہیں؟ اور معاشی ترقی کے دعووں کے باوجود مستقبل کا خوف اتنا گہرا کیوں ہوتا جارہا ہے؟

یہ سوالات نعروں، سوشل میڈیا مہمات یا سیاسی تماشوں سے حل نہیں ہوں گے۔

تمل ناڈو کے نوجوانوں میں جو سیاسی توانائی دکھائی دے رہی ہے، اسے محض جذباتی جوش کے طور پر نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ دراصل برسوں کی معاشی بے چینی، مایوسی اور عدم تحفظ کا سیاسی اظہار ہے۔ اس جوش کے پیچھے ایک تھکی ہوئی نسل کھڑی ہے — ایسی نسل جو مسلسل غیر یقینی حالات، سکڑتے ہوئے مواقع اور ایک بے حس نظام سے اکتا چکی ہے۔

یہ نوجوان کسی معجزے کا مطالبہ نہیں کررہے۔ وہ صرف یہ پوچھ رہے ہیں کہ کیا اس نظام میں اب بھی اتنی صلاحیت باقی ہے کہ وہ تعلیم، روزگار اور باعزت زندگی کے درمیان ٹوٹتے ہوئے رشتے کو دوبارہ جوڑ سکے؟

اصل سوال یہی ہے، اور آنے والے دنوں میں تمل ناڈو کی سیاست کو اسی سوال کا جواب دینا ہوگا۔

Sunday, 17 May 2026

آم — ذائقے، تہذیب اور تاریخ کا بادشاہ

آم — ذائقے، تہذیب اور تاریخ کا بادشاہ



آم صرف پھل نہیں، ایک تہذیب کا آواز ہے — زبانِ ذائقہ، یادوں کی خوشبو اور کھیتوں کی محنت کا قصّہ۔ جب گرمیوں کی دوپہریں آم کے رس سے بھرتی ہیں تو خاندان، بازار اور وقت ایک ہی سُر پر گنگنا اٹھتے ہیں؛ یہی وجہ ہے کہ آم ہمیں صرف مائدے تک محدود نہیں رکھتے، بلکہ ہمیں اپنی تاریخ، محفل اور دل کی گہرائیوں سے جوڑ دیتے ہیں۔

از : جمیل احمد ملنسار
Mob: 98454 98354







گرمیوں کا موسم آتے ہی اگر کسی چیز کا سب سے زیادہ انتظار ہوتا ہے تو وہ آم ہے۔ اس کی خوشبو، اس کی مٹھاس اور اس کا رس بھرا ذائقہ ہر عمر کے لوگوں کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آم کو دنیا بھر میں “پھلوں کا بادشاہ” کہا جاتا ہے۔ برصغیر میں تو آم صرف ایک پھل نہیں بلکہ ایک جذبہ ہے۔ گھروں میں آموں کی پیٹیاں پہنچتے ہی ماحول بدل جاتا ہے۔ کہیں ٹھنڈے آم پانی میں رکھے جا رہے ہوتے ہیں، کہیں آم رس تیار ہو رہا ہوتا ہے، اور کہیں یہ بحث چھڑی ہوتی ہے کہ سندھڑی بہتر ہے یا چونسا۔

آم کی تاریخ بھی اس کے ذائقے کی طرح دلچسپ ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کی ابتدا جنوبی ایشیا، خاص طور پر ہندوستان، بنگلہ دیش اور میانمار کے علاقوں سے ہوئی۔ ہزاروں برس پہلے یہ درخت جنگلات میں قدرتی طور پر اگتے تھے۔ پھر وقت کے ساتھ لوگوں نے اسے باقاعدہ طور پر اگانا اور اس کی دیکھ بھال کرنا شروع کر دی۔ قدیم ہندوستانی تہذیب میں آم کو محبت، خوشحالی اور زرخیزی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ بدھ مت کی روایات میں بھی آم کے باغات کا ذکر ملتا ہے۔ بعد میں مغل بادشاہوں نے اس پھل کو خاص سرپرستی دی اور آم کے بڑے بڑے باغات لگوائے۔

کہتے ہیں کہ شہنشاہ اکبر نے بہار میں ایک ایسا باغ لگوایا تھا جس میں ایک لاکھ سے زیادہ آم کے درخت تھے۔ مغل دور میں آم صرف شاہی دسترخوان کی زینت نہیں تھا بلکہ اس کی مختلف اقسام پر خاص توجہ دی جاتی تھی۔ یہی زمانہ تھا جب آم کی نئی نئی نسلیں تیار ہوئیں اور ذائقوں میں تنوع پیدا ہوا۔

آم جتنا لذیذ ہے، اتنا ہی غذائیت سے بھرپور بھی ہے۔ اس میں وٹامن اے، وٹامن سی، فائبر، پوٹاشیم اور کئی اہم اینٹی آکسیڈنٹس موجود ہوتے ہیں۔ وٹامن اے آنکھوں کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے، جبکہ وٹامن سی جسم کی قوتِ مدافعت بڑھانے میں مدد دیتا ہے۔ اسی لیے ماہرینِ غذائیت کہتے ہیں کہ اگر آم مناسب مقدار میں کھایا جائے تو یہ صرف ذائقہ ہی نہیں بلکہ صحت بھی دیتا ہے۔

یہ دلچسپ حقیقت بھی کم لوگ جانتے ہیں کہ آم کئی ممالک کا قومی پھل ہے۔ بھارت
اور پاکستان دونوں نے آم کو قومی پھل کا درجہ دیا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ فلپائن میں بھی آم کو خاص ثقافتی اہمیت حاصل ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آم صرف ایک پھل نہیں بلکہ ایک تہذیبی شناخت بھی ہے۔

اگر دنیا میں آم کی پیداوار کی بات کی جائے تو  ہندوستان سب سے آگے ہے۔ دنیا کے تقریباً چالیس فیصد آم وہیں پیدا ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود دلچسپ بات یہ ہے کہ مقامی استعمال زیادہ ہونے کی وجہ سے اس کی برآمدات نسبتاً کم ہیں۔ دوسری طرف میکسیکو دنیا کے بڑے برآمد کنندگان میں شمار ہوتا ہے اور بڑی مقدار میں آم امریکہ بھیجتا ہے۔ تھائی لینڈ، پاکستان اور برازیل بھی عالمی تجارت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

آم کی تجارت صرف ایک کاروبار نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں کی روزی روٹی ہے۔ کسان، مزدور، ٹرانسپورٹر، پیکنگ انڈسٹری، کولڈ اسٹوریج، ایکسپورٹرز اور پھل فروش سب اس ایک پھل سے وابستہ ہیں۔ سندھ، پنجاب، اتر پردیش، بہار اور مہاراشٹر جیسے علاقوں میں آم کی فصل پورے سال کی معیشت کو سہارا دیتی ہے۔

آم کی اقسام کی بات کریں تو دنیا واقعی حیران کر دینے والی ہے۔ ہر علاقے کا آم الگ مزاج رکھتا ہے۔ کہیں زیادہ میٹھا، کہیں خوشبودار، کہیں ریشے دار اور کہیں بالکل نرم گودے والا۔

سندھڑی آم اپنی جسامت اور رس کی وجہ سے مشہور ہے، جبکہ ثمر بہشت کو مٹھاس کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔ لنگڑا آم کا ذائقہ الگ پہچان رکھتا ہے اور دسہری آم اپنی خوشبو کے باعث پسند کیا جاتا ہے۔ ہندوستان کا الفانسو آم تو دنیا بھر میں ایک شاہانہ آم سمجھا جاتا ہے۔

آم کے درخت کی عمر بھی حیران کن ہوتی ہے۔ ایک اچھا اور صحت مند درخت سو سال یا اس سے زیادہ عرصے تک پھل دے سکتا ہے۔ بعض پرانے باغات میں ایسے درخت آج بھی موجود ہیں جن کی عمر دو سے تین سو سال بتائی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آم کا باغ لگانا صرف ایک موسم کی سرمایہ کاری نہیں بلکہ نسلوں کا منصوبہ سمجھا جاتا ہے۔

اردو ادب میں آم کا ذکر آئے اور مرزا غالب یاد نہ آئیں، یہ ممکن نہیں۔ غالب آم کے بے حد شوقین تھے۔ ان کا ایک مشہور جملہ آج بھی زبان زدِ عام ہے کہ:
“آم میں صرف دو خرابیاں ہیں، ایک یہ کہ کم ہوتے ہیں اور دوسری یہ کہ مہنگے ہوتے ہیں۔”

غالب سے منسوب ایک اور دلچسپ واقعہ بھی بہت مشہور ہے۔ ایک مرتبہ کسی نے دیکھا کہ گدھا آم کے چھلکوں کے قریب سے گزرا مگر انہیں نہ کھایا۔ اس شخص نے طنزاً کہا:
“دیکھا، گدھا بھی آم نہیں کھاتا۔”

غالب نے فوراً جواب دیا:
“جی ہاں، گدھے آم نہیں کھاتے!”

اس ایک جملے نے آم کی محبت کو ہمیشہ کے لیے ایک ادبی لطیفے میں بدل دیا۔

ذیابیطس کے مریضوں کے لیے آم ہمیشہ بحث کا موضوع رہتا ہے۔ اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ شوگر کے مریض آم بالکل نہیں کھا سکتے، حالانکہ ماہرین کے مطابق مناسب مقدار میں آم کھایا جا سکتا ہے۔ البتہ احتیاط ضروری ہے کیونکہ آم میں قدرتی مٹھاس زیادہ ہوتی ہے۔ ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ جوس کے بجائے پورا پھل کھایا جائے تاکہ فائبر بھی جسم کو ملے۔

دنیا کے مہنگے ترین آموں کا ذکر ہو تو Miyazaki Mango کا نام سب سے اوپر آتا ہے۔ جاپان میں اگنے والے اس خاص آم کی قیمت لاکھوں روپے تک پہنچ جاتی ہے۔ سرخی مائل رنگ، خاص مٹھاس اور انتہائی محدود پیداوار نے اسے دنیا کا سب سے قیمتی آم بنا دیا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ آم صرف ایک پھل نہیں بلکہ یادوں کا حصہ ہے۔ گرمیوں کی دوپہریں، خاندان کے ساتھ آم کھانا، ٹھنڈے آموں کی بالٹی، رس سے بھرے ہاتھ، اور بچپن کی چھتیں — یہ سب آم کے بغیر ادھورے لگتے ہیں۔ شاید اسی لیے آم کا موسم ختم ہوتے ہی اگلی گرمیوں کا انتظار شروع ہو جاتا ہے۔

آم کی اصل خوبصورتی یہی ہے کہ یہ صرف ذائقہ نہیں دیتا بلکہ لوگوں کو جوڑتا ہے، محفلیں سجاتا ہے اور یادیں بناتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صدیوں گزرنے کے باوجود آم آج بھی پھلوں کا بے تاج بادشاہ ہے۔

Friday, 15 May 2026

Vijay’s Rise and the Remaking of Tamil Nadu Politics: How a Hung Assembly Became a Working Government


























Vijay’s Rise and the Remaking of Tamil Nadu Politics: How a Hung Assembly Became a Working Government


Jameel Aahmed Milansaar 

The 2026 Tamil Nadu Assembly election did more than disrupt the state’s long-standing DMK–AIADMK duopoly; it produced a hung House that tested the mechanics of coalition-building, intra-party fracture, and political survival. Vijay’s Tamilaga Vettri Kazhagam (TVK) emerged as the single largest party but without the 118 seats needed for a majority in the 234-member Assembly. What followed was a high-stakes post-poll phase in which alliance-making, legislative manoeuvring, and a dramatic AIADMK split turned plurality into power and placed Vijay in the Chief Minister’s chair.

A verdict of three layers

The election result reflected three overlapping trends. First, there was evident anti-incumbent sentiment that weakened established players. Second, the opposition space fragmented: TVK’s rise fractured votes that would historically have consolidated behind AIADMK or DMK. Third, voters signalled a willingness to test a new political vehicle led by a popular film star-turned-politician rather than reward the familiar Dravidian parties outright. These forces produced a legislature in which raw seat counts no longer told the full story; the post-poll arithmetic did.

Why 118 mattered

In a 234-seat Assembly the simple majority mark is 118. That threshold became the fulcrum on which every negotiation, calculation, and public statement turned. Being the single largest party is valuable politically and symbolically, but it does not substitute for arithmetic on the floor of the House. TVK needed outside support to stake a credible claim to form government; smaller parties and Congress acquired decisive leverage as potential kingmakers. For opponents, denying 118 to any single bloc became the primary defensive aim.

From plurality to government: the coalition sequence

TVK’s path to power unfolded in stages. The party began with its own bloc of MLAs as the core legislative strength. It then secured formal support from the Congress and several smaller formations — an alliance that, on paper, brought it close to the majority line. The defining moment, however, was neither pre-poll deal-making nor simple arithmetic. During the trust vote, a faction inside AIADMK broke ranks and backed Vijay. That cross-voting converted a fragile coalition into a substantially comfortable majority: the TVK-led ministry won the confidence vote with around 144 MLAs, well above the required 118.

This sequence matters because it shows how government formation in a hung assembly can be dynamic: pre-poll alignments matter, but post-poll realignments and defections can be decisive. A ministry that starts with narrow legal arithmetic can consolidate quickly if rival parties fracture at a critical juncture.

DMK and TVK: rivals, then strategic opponents

Before the polls, DMK and TVK were direct competitors, each aiming to dominate anti-AIADMK sentiment and present itself as the chief Dravidian alternative. After the fractured verdict, however, their relationship changed. There was speculation that DMK might spearhead an arrangement to prevent TVK from capturing power, potentially by cobbling together an unlikely coalition. Those possibilities did not materialise. TVK moved faster, won Congress’s backing, and reaped the advantage created by AIADMK’s internal rupture. The net result: DMK, though still a major force, found itself pushed into opposition rather than absorbing or isolating the newcomer.

Why AIADMK split

The rebellion inside AIADMK had deep roots and was not just opportunism. Long-standing discontent over Edappadi K. Palaniswami’s organisational control and repeated electoral setbacks had produced anxiety among sections of the party. For some MLAs, the 2026 result crystallised a bleak assessment: remain loyal to the existing leadership and risk prolonged opposition, or break away and try to preserve influence by joining the new power centre. Ideology and image played a role too. A rebel camp argued any accommodation with DMK would betray AIADMK’s defining anti-DMK identity; paradoxically, backing TVK offered a way to avoid that perceived compromise while still aligning with the alternative to DMK.

The rebellion, therefore, combined principle, ambition, and survival instinct. When factional leaders recalculated their political prospects, the choice to switch became both a strategy for immediate relevance and a hedge against long-term marginalisation.

Faces of the revolt: C Ve Shanmugam and S P Velumani

Two leaders — C Ve Shanmugam and S P Velumani — became the public faces of the AIADMK legislature party split. Their faction moved to challenge the party’s existing legislative leadership and sought formal recognition for Velumani as the legislature party leader. That demand was not merely symbolic. During the trust vote for Vijay, the rebel camp openly aligned with TVK and cross-voted, turning internal dissent into an instrumental force on the Assembly floor. After the vote, EPS’s camp expelled several rebels from party posts, formalising the rupture and making reconciliation more difficult.

Political meaning and wider lessons

The Tamil Nadu episode shows how electoral outcomes and legislative outcomes can diverge. Winning the most seats is not the same thing as commanding a majority of legislators on the floor when it matters. Hung assemblies magnify the leverage of smaller parties, independents, and internal dissidents; they also intensify factional contradictions inside weakening parties. AIADMK’s internal crisis was catalysed by electoral disappointment and then triggered a cascade that altered the state’s governance trajectory.

For TVK and Vijay, the episode validates a two-step path to power: build a credible legislative core and then act quickly to convert potential kingmakers and opportunistic rivals into a working majority. For DMK, the story is a reminder that structural strength does not guarantee post-poll advantage; speed and nimbleness in negotiation matter. For AIADMK, the split signals a painful period of reconfiguration — a party that cannot contain internal dissent risks supplying the decisive votes that shape government formation.

What this means going forward

Having secured the trust vote with a comfortable margin, Vijay’s government begins with a legislative majority large enough to be stable, at least in the near term. But stability on the floor does not automatically translate to long-term political consolidation. The motives that drove AIADMK rebels to defect — survival, ambition, and organisational dissent — can remain active and reassert themselves. Likewise, Congress and smaller allies will retain bargaining power as long as TVK depends on them to knit together a broader governing coalition.

The 2026 election therefore redefined Tamil Nadu’s politics rather than resolving it. TVK’s ascent shows new vehicles can break into a competitive Dravidian space. The AIADMK split demonstrates how internal party dynamics can determine the fate of governments. And the episode as a whole confirms a broader lesson of parliamentary politics: when no party has an outright majority, the real contest shifts from election night tallies to the art of post-poll coalition building and legislative arithmetic.

Thursday, 14 May 2026

From Opposition Warrior to Natural Successor: How V.D. Satheesan Became Kerala Congress’ Consensus Choice

By Jameel Aahmed Milansaar

Photograph: Kind courtesy V D Satheesan/X


Kerala politics has never been kind to hurried ambition. Leadership in the Congress has usually emerged through long factional battles, seniority calculations, and quiet negotiations in party corridors. That is what makes the rise of V. D. Satheesan as the consensus choice for chief minister so interesting. His emergence did not happen suddenly, nor was it simply handed down by the party high command. It was built patiently, step by step, over the years.

Satheesan worked hard to make himself the obvious claimant.

Jameel Aahmed Milansaar
At a time when the Congress in Kerala often appeared directionless against the formidable Pinarayi Vijayan-led Left government, Satheesan steadily positioned himself as the face of resistance. Inside the Assembly, before television cameras, and on the ground among workers, he came across as energetic, sharp, and constantly engaged. While many senior leaders remained tied to old factional identities, Satheesan built his image around activism and visibility.


That made a difference.

Within the Congress, there was a growing feeling that the United Democratic Front’s revival owed much to his aggressive opposition politics and his ability to connect with ordinary people. He understood early that Kerala’s political landscape had changed. Public perception today is shaped not only by speeches and organisational strength but also by communication, speed, and visibility. Satheesan adapted to this reality far more effectively than many of his contemporaries.

His outreach at the grassroots level strengthened his standing further. He spent time cultivating district leaders, energising party workers, and staying visible on issues that affected common people. Over time, he stopped being seen merely as another Congress leader and started appearing as the leader around whom the party could rally.

That perception became crucial after the UDF’s sweeping electoral victory. When senior Congress leaders began consultations over the chief ministerial choice, the discussions were not only about rewarding experience or seniority. The bigger question was about the future direction of the party in Kerala.

This is where the thinking of the leadership around Rahul Gandhi became important. The Congress high command appeared increasingly inclined toward generational change rather than sticking to traditional factional equations. Satheesan represented that transition — a leader who had earned political legitimacy through performance, visibility, and public engagement rather than through legacy alone.

At the same time, the leadership also had to manage internal sensitivities carefully. Kerala Congress politics has a long history of post-election rivalries weakening governments and creating instability. The party knew that a massive mandate could quickly lose its shine if leadership disputes surfaced immediately after victory.

That is why the consultations were handled cautiously. Senior leaders had to be accommodated, factions had to be reassured, and the message had to be clear that the mandate belonged to the alliance as a whole. Satheesan eventually emerged as the consensus choice largely because he was seen as acceptable across different sections of the party while also carrying the momentum of electoral success.

There is another reason behind his rise. Unlike many traditional Congress leaders who limited themselves to attacking the Left politically, Satheesan tried to frame the opposition around governance issues — corruption allegations, administrative accountability, law and order concerns, and welfare delivery. This gave his politics a wider appeal beyond the Congress’ traditional support base.

Still, the real challenge begins now. Being an effective opposition leader and being an effective chief minister are two very different things. Opposition politics rewards aggression and sharp attacks; governance demands balance, patience, and consensus-building. If Satheesan takes over the state’s leadership, he will have to prove that the qualities that made him successful in opposition can also translate into stable governance.

Even so, his rise marks a significant shift in Kerala Congress politics. He did not become the preferred face simply because he was the seniormost leader available. He became the choice because he gradually made himself politically indispensable.

And perhaps that is the larger message behind his emergence. In today’s Kerala politics, leadership can no longer rely only on factional strength or blessings from Delhi. It must also come from public connect, organisational energy, communication skills, and the ability to inspire confidence among both workers and voters.

In many ways, V.D. Satheesan’s rise reflects a Congress party slowly recognising that the future belongs not just to custodians of legacy, but to leaders who can create momentum and sustain it.

جنوب کے اصحابِ کمال" جلد پنجم کی رسمِ رونمائیروایات سے بغاوت نہیں، بلکہ روایت میں مثبت تبدیلی وقت کی ضرورت ہے: ڈاکٹر راہی فدائی



جنوب کے اصحابِ کمال" جلد پنجم کی رسمِ رونمائیروایات سے بغاوت نہیں، بلکہ روایت میں مثبت تبدیلی وقت کی ضرورت ہے:   ڈاکٹر راہی فدائی

 
علم و ادب کی دنیا میں ایک یادگار شام اس وقت رقم ہوئی جب معروف عالمِ دین، ادیب، شاعر اور محقق ڈاکٹر راہی فدائی کی
 گراں قدر علمی و ادبی تصنیف "جنوب کے اصحابِ کمال" کی جلد پنجم" ثوابت" کی رسمِ رونمائی ہندوستانی اردو منچ کے هم سینٹر میں نہایت وقار اور تزک و احتشام کے ساتھ منعقد ہوئی۔ تقریب کی صدارت معروف ادبی شخصیت جناب ماہر منصور نے فرمائی، جبکہ علمی، ادبی اور سماجی حلقوں کی نمایاں شخصیات نے کثیر تعداد میں شرکت کر کے تقریب کو چار چاند لگائے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر راہی فدائی نے کہا کہ معاشرے کی حقیقی ترقی کے لیے محض روایات کا سہارا کافی نہیں، بلکہ وقت کے تقاضوں کے مطابق روایت میں مثبت اور تعمیری تبدیلی بھی ناگزیر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا مقصد روایات سے بغاوت ہرگز نہیں، بلکہ ان میں زندگی کی روح پھونکنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنوبی ہند کی عظیم علمی، ادبی اور سماجی شخصیات کی خدمات کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے اور "جنوب کے اصحابِ کمال" اسی تاریخی مقصد کی ایک اہم کڑی ہے۔

تقریب کے مہمانِ خصوصی، رکنِ اردو اکادمی اور معروف کالم نگار جناب محمد اعظم شاہد نے کتاب پر مدلل اور تفصیلی تبصرہ پیش کیا اور کہا کہ ڈاکٹر راہی فدائی کی یہ تصنیف جنوبی ہند کی علمی و ادبی تاریخ کو محفوظ کرنے کی ایک سنجیدہ، بھرپور اور قابلِ ستائش کوشش ہے، جو آنے والے محققین کے لیے ایک معتبر حوالے کی حیثیت رکھتی ہے۔ جناب عبداللہ نادر عمری نے کتاب اور مصنف پر ایک پُراثر قلمی خاکہ پیش کیا جسے حاضرین نے بے حد سراہا۔

کتاب کا باقاعدہ اجرا پروفیسر سید سجّاد حسین، جناب اقبال احمد بیگ اور صدرِ محفل جناب ماہر منصور کے دستِ مبارک سے عمل میں آیا، جنہوں نے اس موقع پر کتاب اور مصنف کی علمی خدمات پر اپنے قیمتی خیالات کا اظہار بھی کیا۔ اس موقع پر ہندوستانی اردو منچ کے صدر جناب اعجاز علی جوہری نے خطاب کرتے ہوئے نوجوان نسل کو زبانِ اردو کی طرف راغب کرنے پر زور دیا اور کہا کہ اردو کا مستقبل ہماری نئی نسل کے ہاتھوں میں ہے۔ تقریب کے کنوینئر جناب جمیل احمد ملنسار نے آغازِ تقریب میں مہمانوں کا پُرتپاک استقبال کیا، جبکہ نظامتِ تقریب کے فرائض معروف صوفی شاعر جناب منیر احمد جامی نے خوش اسلوبی سے انجام دیے۔

رسمِ رونمائی کے اختتام پر ایک پُرکیف مشاعرے کا اہتمام کیا گیا جس میں جناب ماہر منصور، انور ترپتوری، غفران امجد، انور عزیز، سردار دانش، ڈاکٹر ارشد جمال اور منیر احمد جامی نے اپنا کلام سنا کر حاضرین سے خوب داد وصول کی اور محفل کو یادگار بنا دیا۔
جناب ین۔ ڈی ۔ملا، سیکریٹری ہندوستان اردو منچ کے شکریہ پر پروگرام کا اختتام ہوا۔

حب الوطنی کی نمائش یا سیاسی ضرورت؟ وندے ماترم کے سائے میں نئی سیاست



حب الوطنی کی نمائش یا سیاسی ضرورت؟ وندے ماترم کے سائے میں نئی سیاست
از : جمیل احمد ملنسار
Mob: 98454 98354







ہندوستان جیسے کثرت پسند اور متنوع معاشرے میں علامتوں کی اپنی ایک زبان ہوتی ہے۔ اقتدار کی تقریبات محض رسمی کارروائیاں نہیں ہوتیں بلکہ وہ آنے والی سیاست کے مزاج اور سمت کا اعلان بھی کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تمل ناڈو میں سی جوزف وجے کی حلف برداری تقریب میں ’’وندے ماترم‘‘ کو تقریب سے پہلے اور بعد میں بجایا جانا محض ایک رسمی فیصلہ نہیں بلکہ ایک گہرا سیاسی اشارہ محسوس ہوا — ایسا اشارہ جس نے اقلیتوں، سیکولر حلقوں اور آئینی قدروں پر یقین رکھنے والوں میں بے چینی پیدا کی ہے۔

یہ اعتراض حب الوطنی کے خلاف نہیں ہے۔ اس ملک کی آزادی، تعمیر اور ترقی میں مسلمانوں، عیسائیوں، دلتوں اور دیگر کمزور طبقات نے اتنی ہی قربانیاں دی ہیں جتنی کسی اور نے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ایک ایسی حکومت، جو خود کو تمام طبقات کی نمائندہ کہتی ہے، اپنی سیاسی شروعات ایک ایسے نغمے سے کرے جس پر ملک کے ایک بڑے طبقے کو تاریخی اور مذہبی تحفظات رہے ہیں؟

تمل ناڈو کی سیاست کی ایک مخصوص شناخت رہی ہے۔ یہاں کی سیاسی روایت نے ہمیشہ جارحانہ اکثریتی قوم پرستی کے بجائے سماجی انصاف، لسانی وقار، عقلیت پسندی اور وفاقی قدروں کو ترجیح دی۔ یہی وہ سرزمین ہے جس نے دہائیوں تک ثقافتی یکسانیت مسلط کرنے کی کوششوں کے خلاف مزاحمت کی۔ اس پس منظر میں لوگوں کو امید تھی کہ وجے کی نئی سیاسی قوت ایک متوازن، حساس اور آئینی رویہ اختیار کرے گی۔ مگر حلف برداری کی تقریب نے ایک مختلف پیغام دیا — ایسا پیغام جسے اقلیتوں کے ایک بڑے حلقے نے اکثریتی سیاست سے مفاہمت کے طور پر دیکھا۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ مغربی بنگال جیسی ریاست، جہاں شدید سیاسی کشمکش اور نظریاتی محاذ آرائی موجود ہے، وہاں بھی سرکاری تقریبات میں صرف قومی ترانہ بجانے کی روایت برقرار ہے۔ لیکن تمل سرزمین میں ’’وندے ماترم‘‘ کو تقریب کے آغاز میں بھی بجایا گیا اور اختتام پر بھی۔ یہ محض اتفاق نہیں لگتا بلکہ ایک سوچا سمجھا علامتی اعلان محسوس ہوتا ہے۔

اس سے بھی زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ حلف لینے کے فوراً بعد وجے نے اپنی تقریر میں اقلیتوں کو تحفظ اور ترجیح دینے کی بات کی۔ لیکن جب الفاظ اور علامتیں ایک دوسرے سے متصادم ہوں تو یقین کمزور پڑ جاتا ہے۔ اقلیتوں کو یقین دہانی دینے والی تقریر اسی وقت بے معنی محسوس ہونے لگتی ہے جب اسی تقریب میں ایسے ثقافتی اشارے دیے جائیں جن سے انہی اقلیتوں میں بے چینی پیدا ہو۔

یہاں سب سے بڑا سوال ان جماعتوں پر بھی اٹھتا ہے جو وجے حکومت کی حمایت کر رہی ہیں، خصوصاً انڈین یونین مسلم لیگ پر — جو ملک کی قدیم ترین مسلم سیاسی جماعتوں میں شمار ہوتی ہے۔ مسلم لیگ اور کئی دینی و ملی تنظیمیں ماضی میں ہمیشہ سرکاری تقریبات میں ’’وندے ماترم‘‘ بجانے پر اعتراض کرتی رہی ہیں۔ ان کا مؤقف یہ رہا ہے کہ اس نظم کے بعض حصے اسلامی عقیدۂ توحید سے مطابقت نہیں رکھتے۔ مگر آج وہی جماعت خاموش نظر آتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اقتدار کی سیاست نے اصولوں کو خاموش کر دیا ہے؟ کیا سیاسی مفاہمت کی قیمت ہمیشہ اقلیتوں کے جذبات اور نظریات ہی ہوں گے؟

مسلمانوں کے لیے ’’وندے ماترم‘‘ پر اعتراض کوئی نئی بات نہیں اور نہ ہی یہ ملک دشمنی کا اظہار ہے۔ یہ ایک مذہبی و تاریخی حساسیت کا معاملہ ہے جسے جمہوری معاشرے میں احترام ملنا چاہیے۔ جمہوریت کی اصل طاقت اکثریت کے غلبے میں نہیں بلکہ اقلیت کے اعتماد کے تحفظ میں ہوتی ہے۔

قیادت کا امتحان نعروں سے نہیں بلکہ اعتماد قائم رکھنے سے ہوتا ہے۔

وجے نے سیاست میں تبدیلی، امید اور نئی سیاسی ثقافت کا وعدہ کیا تھا۔ مگر اکثر اوقات پالیسیاں بعد میں آتی ہیں اور علامتیں پہلے بولتی ہیں۔ اگر اقتدار کی پہلی بڑی تقریب ہی اقلیتوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دے کہ آنے والا سیاسی ماحول کس سمت جا رہا ہے، تو حکومت کو سنجیدگی سے خود احتسابی کرنی چاہیے۔

تمل ناڈو کو مسابقتی قوم پرستی کی نہیں بلکہ آئینی وقار، سماجی ہم آہنگی اور مساوی شہریت کی ضرورت ہے۔ ایک مضبوط اور بااعتماد حکومت وہ ہوتی ہے جسے حب الوطنی ثابت کرنے کے لیے نمائشی علامتوں کی ضرورت نہ پڑے۔ حقیقی سیکولرزم وہ ہے جہاں اقتدار کے ہر منظر میں ہر شہری خود کو برابر کا شریک محسوس کرے۔

اور یہی وہ معیار ہے جس کا تمل ناڈو ہمیشہ دعویدار رہا ہے۔

Friday, 8 May 2026

گورنر کا فیشن شو یا فلور ٹیسٹ؟ تمل ناڈو کی آئینی تذلیل


 گورنر کا فیشن شو یا فلور ٹیسٹ؟ تمل ناڈو کی آئینی تذلیل


از : جمیل احمد ملنسار
Mob: 98454 98354


تمل ناڈو میں آج آئینی رسم کو سیاسی تماشا بنا دیا گیا ہے۔ گورنر کا یہ اصرار کہ وجے حلف لینے سے پہلے راج بھون میں 118 ارکانِ اسمبلی کی حمایت “دکھائیں”، آئینی احتیاط نہیں، آئینی روح سے انحراف ہے۔

پارلیمانی جمہوریت میں حکومت کی اصل سند اسمبلی کے فرش پر بنتی ہے، کسی گورنر کی بیٹھک میں نہیں۔ رائج دستور ی روایت صاف ہے: سب سے بڑی پارٹی یا اتحاد کے لیڈر کو حکومت بنانے کی دعوت دی جاتی ہے، اور اکثریت کا امتحان ایوان میں لیا جاتا ہے۔ اعداد و شمار وہیں گنے جاتے ہیں، اتحاد وہیں پرکھے جاتے ہیں، عوامی مینڈیٹ وہیں عزت پاتا ہے۔ راج بھون میں پیشگی حاضری اور گنتی کا مطالبہ دراصل گورنر کے ذاتی “اطمینان” کو ایوان کے کھلے اعتماد کے بجائے فیصلہ کن بنانے کی کوشش ہے۔

یہ نہ دستور سازوں کا مدعا تھا، نہ آج کے تکامل یافتہ آئینی چلن کا تقاضا۔ برسوں میں کمیشنوں اور عدالتوں نے گورنروں کے صوابدیدی دائرے کو محدود کر کے شفاف فلور ٹیسٹ کی طرف دھکیلا ہے۔ وجہ سیدھی ہے: تاریخ نے بارہا دکھایا کہ گورنروں کا اطمینان سیاسی رنگ اختیار کر لیتا ہے، جب کہ فلور ٹیسٹ، چاہے جتنا شور شرابہ ہو، سب کے سامنے، ریکارڈ پر، اور عدالتی نظرثانی کے قابل ہوتا ہے۔ جب گورنر راج بھون کو ہی ایک چھوٹی سی اسمبلی بنانے پر تلے ہوں تو وہ اسی مبہم، کمرہ بند سیاست کو زندہ کرتے ہیں جسے دستور نے پیچھے چھوڑنے کی کوشش کی تھی۔

موجودہ صورتِ حال میں وجے کا دعویٰ دو ٹوک ہے۔ اس کی پارٹی سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھری ہے۔ کانگریس نے باضابطہ حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔ چھوٹی پارٹیاں ساتھ آنے کے لئے قطار میں ہیں۔ ایسی حالت میں گورنر کا فرض سیاست کی سودے بازی میں ٹانگ اڑانا نہیں، بلکہ واضح مدعی کو بلانا اور ضرورت پڑے تو جلد فلور ٹیسٹ کا حکم دینا ہے۔ اس سے بڑھ کر ہر قدم حد سے تجاوز، اور اس سے کم ہر رویہ ذمہ داری سے فرار ہے۔

گورنر کے حامی کہیں گے کہ معلق اسمبلی میں “احتیاط” ضروری ہے۔ مگر احتیاط اگر تاخیر کا جواز بن جائے تو پھر اسے آئینی حکمت نہیں، سیاسی ہچکچاہٹ کہیں گے۔ جس لمحے راج بھون کو متبادل اسمبلی بنایا جائے، احتیاط کی لکیر پار ہو جاتی ہے۔ اگر ارکان نے اپنی وفاداری دکھانی ہی ہے تو اسپیکر کی نگرا نی میں، ایوان میں، سرِعام ریکارڈ پر کیوں نہ دکھائیں؟ یہی پارلیمانی جواب دہی کی اصل روح ہے۔

قانون سے ہٹ کر اخلاقی پہلو بھی کم اہم نہیں۔ تمل ناڈو کے ووٹر نے تبدیلی کی خواہش کا صاف پیغام دیا ہے، اور وجے اس امید کا سیاسی چہرہ بن کر ابھرا ہے۔ ہر غیر ضروری دن عوام کو یہ تاثر دیتا ہے کہ ان کا مینڈیٹ قابلِ تاخیر اور قابلِ سودے بازی ہے، اور غیر منتخب عہدے عوامی فیصلے پر بریک لگا سکتے ہیں۔ اس سے عدم اعتماد صرف ایک فرد میں نہیں، پورے وفاقی ڈھانچے میں سرایت کرتا ہے۔

المیہ یہ ہے کہ انجام کوئی معمہ نہیں۔ آج نہیں تو کل گورنر کو وجے کو ہی حکومت بنانے کی دعوت دینی ہوگی، تاریخ حلف برداری کا دن طے ہی کرے گی۔ سوال صرف یہ ہے کہ یہ کام آئینی روایت کے ساتھ ہو گا یا غیر ضروری ابہام اور کشمکش کے بعد۔ بدنامی بہرحال دیر کی نہیں، طرزِ عمل کی لکھّی جائے گی۔


آئین اور جمہوریت دونوں کے نقطۂ نظر سے ترتیب واضح ہے: دعوت، حلف، پھر فلور ٹیسٹ۔ گورنر کا کام اس ترتیب کو محفوظ رکھنا ہے، اس میں نئی رکاوٹیں گھڑنا نہیں۔ اس کسوٹی پر دیکھا جائے تو ان کا موجودہ رویہ غلط ہے، اور تمل ناڈو کے ووٹر خاموش تماشائی نہیں، خاموش گواہ بنے سب دیکھ رہے ہیں۔

Thursday, 7 May 2026

Best CLAT Coaching Centres in Bangalore: A Complete Guide for Aspirants

By Jameel Aahmed Milansaar



Bangalore has emerged as one of the leading hubs for CLAT (Common Law Admission Test) preparation, offering a mix of big‑name multi‑exam institutes and specialised law‑entrance centres. With the rise in competition for National Law Universities (NLUs), the choice of coaching becomes critical, not just for syllabus coverage but also for strategy, mock tests, and mentorship. This article lists the most prominent CLAT coaching centres in Bangalore in a structured way and ends with key points to help students and parents make an informed decision.


1. Career Launcher (Multiple Centres – Jayanagar, Koramangala, etc.)

Career Launcher is one of the most established coaching brands in India and runs dedicated CLAT batches in Bangalore. It offers both classroom and online options, with a structured curriculum, regular mock tests, and detailed performance analysis. The institute emphasises concept building, doubt‑clearing sessions, and personalised feedback, making it suitable for long‑term preparation from Class 11 or 12 onward.

2. IMS India (Jayanagar, Malleswaram, Koramangala, etc.)

IMS is widely known for entrance tests like CAT but also runs strong CLAT and law‑entrance programmes in Bangalore. The institute follows a disciplined, exam‑oriented approach, with topic‑wise modules, sectional tests, and full‑length mock papers. Its strength lies in structured learning, experienced faculty, and a track record of students clearing top law‑school entrance exams.

3. TIME (Triumphant Institute of Management Education)

TIME offers CLAT and other law‑entrance coaching in Bangalore through classroom and online batches. It focuses on conceptual clarity, regular assessments, and a systematic study plan that covers the entire CLAT syllabus in stages. The institute is known for its material, timed practice, and result‑oriented style, which benefits disciplined students who can follow a fixed schedule.

4. Endeavor Careers (Jayanagar, Koramangala)

Originally known for CAT and IPMAT, Endeavor Careers has expanded into CLAT coaching and runs batches in key Bangalore locations. The institute provides comprehensive study material, regular mock tests, and mentoring, with an emphasis on 360‑degree development of students. Its hybrid (online + offline) model is convenient for working professionals and students who need flexible timings.

5. Law Prep Tutorial – Jayanagar

Law Prep Tutorial is marketed as one of the top CLAT‑specialised institutes in Bangalore, with claims of producing AIR‑1 rankers and multiple NLU selections. The centre focuses on CLAT‑specific patterns, rigorous test series, and intensive doubt‑clearing. It particularly appeals to students who want a highly exam‑oriented, result‑driven environment rather than a generic coaching setup.

6. LegalEdge (Malleswaram and other CL‑branded centres)

LegalEdge, under the Toprankers umbrella, offers CLAT‑focused coaching with a strong emphasis on reasoning, legal aptitude, and language skills. The institute provides structured modules, mentorship from experienced law‑entrance teachers, and frequent mock tests. Its hybrid model (online + offline) is helpful for students who want exposure beyond classroom hours.

7. CLATutor – Jayanagar, Malleswaram, Indiranagar

CLATutor is a CLAT‑oriented coaching block with multiple centres in Bangalore. It offers personalised tutoring, self‑paced learning options, and regular assessments. The institute uses quizzes and performance analytics to track progress and is suitable for students who prefer a mix of guided coaching and flexible study schedules.

8. CLATapult – Bangalore

CLATapult positions itself as a CLAT‑focused coaching centre that provides personal attention and one‑to‑one mentoring. The institute emphasises understanding past‑year papers, evolving exam patterns, and strategic answer‑writing. It also offers online CLAT courses, which suit working professionals or students who cannot attend regular classroom sessions.

9. Paradygm Law – HSR Layout/Madiwala area

Paradygm Law is a law‑entrance‑focused institute in Bangalore, known for its tailored training modules and emphasis on analytical thinking. It offers classroom coaching, online classes, mock tests, and short‑term crash courses, with a special focus on logical reasoning and legal aptitude. The institute is popular among students who want a compact, exam‑centric programme.

10. CLATPREP Bangalore (Now part of T.I.M.E.)

CLATPREP Bangalore, now integrated with T.I.M.E., offers CLAT classroom and online courses, test series, and correspondence materials. It is designed for students who may be preparing from home or need a structured distance‑learning‑style programme. The institute maintains a strong focus on timely practice and periodic assessments.

11. VPROV (CLAT‑focused)

VPROV is one of the smaller but reputable CLAT‑specialised centres in Bangalore. It is known for personalised attention, small batch sizes, and experienced faculty with a background in law‑entrance coaching. The institute is suitable for students who prefer a more intimate classroom environment over large commercial coaching blocks.

12. Other local centres (JustDial/online listings)

In addition to the above, platforms such as JustDial and local directories list several smaller CLAT‑tuition centres and home‑based coaching options across areas like Jayanagar, Malleswaram, Koramangala, HSR, and Indiranagar. These can be useful for students in specific localities who need nearby, affordable options, though they may require more careful verification of faculty and track record.


Important points and things to keep in mind

Before finalising a CLAT coaching centre in Bangalore, students and parents should consider the following:

  • Syllabus and exam focus: Ensure the institute follows the latest CLAT pattern (comprehension‑based, English‑heavy, with emphasis on reasoning and GK) and not an outdated law‑exam model.

  • Faculty profile: Meet or speak to the faculty, check their experience in CLAT/AILET/SLAT, and their background in teaching legal aptitude and comprehension‑based subjects.

  • Batch size and attention: Prefer centres offering small‑to‑medium batch sizes if you need personal attention and regular doubt‑clearing sessions.

  • Mock tests and analysis: Give priority to institutes that provide frequent, full‑length mock tests with detailed performance analysis and strategy feedback.

  • Online vs offline: Decide whether you need strict classroom attendance or a hybrid/online model that allows you to balance school/college with preparation.

  • Track record, not just advertisements: Look for genuine student testimonials, past results (AIRs, NLU selections), and, if possible, contact current or former students rather than relying only on marketing claims.

  • Fee structure and value: Compare fees, duration of the course, and what is included (material, tests, doubt classes, webinars, etc.). Avoid paying premiums without a clear return in terms of quality.

  • Location and time commitment: Choose a centre whose location and timings do not compromise your health or school academics; long commutes can drain energy and reduce consistency.

In a city like Bangalore, where both school and coaching pressure can be high, the right CLAT coaching centre should not only teach the syllabus but also guide you in time management, exam strategy, and stress handling. Taking the time to shortlist 2–3 centres, attend demo classes, and speak frankly with the faculty will significantly increase the chances of a purposeful and productive preparation journey.

Monday, 4 May 2026

ووٹ کے بعد کیا؟


ریاستی انتخابات صرف حکومتیں نہیں بدلتے — وہ یہ بھی طے کرتے ہیں کہ شہریت ایک مشترکہ دھاگہ ہے یا ایک تنازعہ

از : جمیل احمد ملنسار 


جب ریاستوں میں ووٹ گنے جاتے ہیں تو ہندوستان صرف ایک سیاسی نتیجے کا انتظار نہیں کرتا — وہ اپنے اندر جھانکتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ اس کی کثیر رنگی کہانی آج کس انداز سے پڑھی اور لکھی جا رہی ہے۔ ہر چند ماہ بعد جب ریاستی اسمبلیوں کے نتائج آتے ہیں تو ان کی گونج صرف ریاست کی سرحدوں تک محدود نہیں رہتی۔ وہ دہلی کے ایوانوں تک پہنچتی ہے، اتحادوں کو ڈھالتی ہے، اور یہ طے کرتی ہے کہ کل کے انتخابی نقشے میں کسے جگہ ملے گی اور کسے نظرانداز کیا جائے گا۔

ریاستی انتخابات بیک وقت دو کام کرتے ہیں — وہ قومی سیاست کی نبض بھی ہیں اور اس کا توازن بھی۔ جو جماعت ریاست میں مضبوط ہو، اس کی پارلیمانی سودے بازی بھی بڑھتی ہے، کابینہ میں اس کا حصہ بھی بہتر ہوتا ہے، اور اگلے عام انتخابات کے لیے اس کی زبان بھی طاقتور ہو جاتی ہے۔ علاقائی جماعتیں اچھی کارکردگی دکھا کر مرکز سے وسائل، زبان کی پالیسی اور تعلیمی فریم ورک جیسے مسائل پر اپنی شرائط منواتی ہیں۔ اور کوئی جماعت ہار جائے تو اتحادوں کی ریاضی از سر نو لکھی جاتی ہے، قیادتوں پر سوال اٹھتے ہیں — ابھی اور ابھی۔

ہندوستان کی اقلیتیں — مسلمان، عیسائی، سکھ، بدھ، جین اور دیگر — مجموعی آبادی کا تقریباً بیس فیصد ہیں۔ مسلمان سب سے بڑی واحد اقلیت ہیں، چودہ فیصد کے قریب۔ لیکن ان کا سیاسی رویہ یکساں نہیں — وہ ریاست، علاقے اور مسئلے کے مطابق بدلتا ہے۔ جہاں اقلیتی آبادی گھنی ہو، وہاں اسمبلی کے نتائج براہ راست مقامی نظم و نسق، فلاحی منصوبوں کی فراہمی اور ضلعی سطح کی نمائندگی پر اثر ڈالتے ہیں۔ یہ کوئی نظریاتی بحث نہیں — یہ ان لوگوں کی روزمرہ زندگی ہے۔

جب کوئی جماعت ریاست میں واضح برتری سے جیتتی ہے اور اقلیتی فلاح، تعلیم اور تحفظ پر اس کا موقف صاف ہو، تو پالیسیاں تیزی سے نافذ ہوتی ہیں۔ لیکن جب اسمبلی کا فیصلہ معلق رہے، تو اقلیتی طبقات خود کو ایک عجیب کشمکش میں پاتے ہیں — تقریروں میں ان کا نام بار بار آتا ہے، مگر عمل میں وہ اتحادی سمجھوتوں کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔ یہ کوئی نئی بات نہیں۔ انتخابی کامیابی سے نمائندگی بڑھتی ہے؛ شکست سے پالیسیاں رک جاتی ہیں — یا دفاعی ہو جاتی ہیں۔

سیکولرازم صرف آئین کے صفحات پر نہیں جیتا جاتا — وہ تھانے میں، پنچایت میں، اسکول میں زندہ ہوتا ہے یا مر جاتا ہے۔

ہندوستان میں سیکولرازم دو سطحوں پر کام کرتا ہے۔ آئینی سطح پر: ریاست کسی مذہب کو ترجیح نہیں دے گی اور سب کے ساتھ یکساں سلوک کرے گی۔ عملی سطح پر: یہ ظاہر ہوتا ہے ضلع اور پنچایت میں — پولیس کے رویے میں، زمینی تنازعات میں، تعلیمی پالیسیوں میں، اور سرکاری تقاریب کی زبان میں۔ ریاستی اسمبلی کے نتائج اسی زمینی سیکولرازم کو شکل دیتے ہیں۔ ایک مستحکم اکثریت رکھنے والی حکومت بیرونی سہارے کے بغیر قانون سازی کر سکتی ہے — بہتری کے لیے یا بگاڑ کے لیے۔ لٹکی ہوئی اسمبلی مذاکراتی حکمرانی کو جنم دیتی ہے — جو کبھی شمولیت کو وسیع کرتی ہے، کبھی جوابدہی کو دھندلا کر دیتی ہے۔ یہ سمجھوتے کی نوعیت پر منحصر ہے۔

پہلے کے دور میں ریاستی انتخابات قومی بیانیے کے زیر سایہ لڑے جاتے تھے۔ اب یہ مقامی معاملات پر مرکوز ہو گئے ہیں — بنیادی ڈھانچہ، روزگار، اسکول، راشن۔ یہ تبدیلی اقلیتوں کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ ان کی روزمرہ ضروریات — رہائش، تعلیم، کاروبار — آئین کے تحت ریاستی فہرست میں آتی ہیں۔ نتائج یہ بتائیں گے کہ ووٹر ترقی کی بنیاد پر ووٹ دے رہے ہیں یا نظریاتی پوزیشن کی بنیاد پر۔ اور یہ بھی کہ وہ اپنے فوری ماحول میں شناخت کو ترجیح دیتے ہیں یا کارکردگی کو۔ دونوں سوال بنیادی ہیں اور دونوں کے جواب اقلیتی زندگی پر براہ راست اثر ڈالتے ہیں۔

ہندوستانی جمہوریت کی طاقت کبھی کسی ایک انتخاب یا ایک فیصلے میں نہیں رہی۔ اس کی طاقت اس صلاحیت میں ہے کہ مختلف برادریاں اپنا عکس اس نظام میں دیکھ سکیں — چاہے حکمران جماعت سے اختلاف ہی کیوں نہ ہو۔ ریاستی نتائج فاتح اور مفتوح پیدا کریں گے، سرخیاں اور ہیش ٹیگ آئیں گے۔ لیکن اصل پیمانہ یہ ہوگا کہ نئی حکومت شہریت کو ایک مشترکہ دھاگے کی طرح برتتی ہے یا ایک متنازعہ سرحد کی طرح۔

شہریوں کے لیے آگاہی کا مطلب صرف گنتی کے پار دیکھنا ہے۔ یہ پوچھنا ہے کہ نئی حکومت نے ابتدائی سو دنوں میں امن و امان، تعلیم تک رسائی اور شکایات کے ازالے میں کیا کیا۔ نمائندوں کو انتخابی بھاشنوں کے لیے نہیں، بلکہ حکمرانی کے انداز کے لیے جوابدہ ٹھہرانا ہے۔ سیکولر تانا بانا کسی ایک دن میں نہیں پھٹتا — وہ چھوٹے چھوٹے بار بار کیے گئے فیصلوں سے کمزور ہوتا ہے، یا روزمرہ کی عام سی انصاف پسندی سے مضبوط۔ بیلٹ اسٹیج بناتا ہے۔ پردہ اٹھنے کے بعد کیا ہوتا ہے — یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔