شورِ سیاست میں گم ہوتا ہندوستان



شورِ سیاست میں گم ہوتا ہندوستان

از: جمیل احمد ملنسارؔ، بنگلور

جمہوریت کی اصل طاقت ووٹ نہیں، باشعور ووٹر ہوتا ہے۔ اور باشعور ووٹر وہ نہیں جو ہر نعرے پر تالیاں بجائے، بلکہ وہ ہے جو ہر دعوے کے پیچھے چھپے سوال کو تلاش کرے۔

آج ہندوستان ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں سب سے بڑی جنگ سرحدوں پر نہیں، بلکہ عوام کی توجہ پر لڑی جا رہی ہے۔ یہ جنگ اس بات کی ہے کہ لوگ کن موضوعات پر سوچیں، کن مسائل پر بحث کریں اور کن سوالوں کو بھول جائیں۔

جب بھی ملک میں بے روزگاری، مہنگائی، امتحانات میں بے ضابطگیاں، نوجوانوں کا اضطراب، یا اداروں کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اٹھنے لگتے ہیں، اچانک قومی گفتگو کا رخ کسی اور سمت مڑ جاتا ہے۔ کوئی نیا تنازع، کوئی نئی جذباتی بحث، کوئی ایسا موضوع سامنے آ جاتا ہے جو چند دنوں کے لیے ہر اس سوال کو پسِ منظر میں دھکیل دیتا ہے جس کا تعلق عوام کی روزمرہ زندگی سے ہوتا ہے۔

یہ اتفاق بھی ہو سکتا ہے، مگر ایک باشعور شہری کا فرض ہے کہ وہ ہر تبدیلیِ موضوع کو تنقیدی نگاہ سے دیکھے۔ جمہوریت میں سوال پوچھنا جرم نہیں، بلکہ شہری ذمہ داری ہے۔

آج کی نوجوان نسل گزشتہ نسلوں سے مختلف ہے۔ وہ صرف خواب نہیں دیکھتی، بلکہ خوابوں کو حقیقت بنانے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ وہ مصنوعی ذہانت سے لے کر خلائی تحقیق تک، کاروبار سے لے کر سائنسی ایجادات تک، دنیا کے ہر میدان میں اپنی جگہ بنا رہی ہے۔ وہ جانتی ہے کہ ترقی صرف نعروں سے نہیں آتی بلکہ معیاری تعلیم، مضبوط معیشت، آزاد اداروں اور مساوی مواقع سے جنم لیتی ہے۔

اسی لیے نوجوان جب روزگار مانگتے ہیں تو وہ کسی پر احسان نہیں مانگتے، اپنا آئینی حق مانگتے ہیں۔ جب وہ شفاف امتحانات چاہتے ہیں تو وہ رعایت نہیں چاہتے، انصاف چاہتے ہیں۔ جب وہ سوال کرتے ہیں تو وہ انتشار نہیں پھیلاتے، بلکہ جمہوریت کو زندہ رکھتے ہیں۔

کسی بھی حکومت کی کامیابی کا معیار یہ نہیں کہ اس کے جلسے کتنے بڑے ہیں یا اس کے نعروں کی گونج کتنی بلند ہے۔ اصل پیمانہ یہ ہے کہ نوجوان کو روزگار ملا یا نہیں، کسان کی آمدنی بڑھی یا نہیں، طالب علم کو بہتر تعلیم ملی یا نہیں، اور عام شہری کا ریاست پر اعتماد مضبوط ہوا یا نہیں۔

وطن پرستی کا مطلب حکومت سے غیر مشروط اتفاق نہیں ہوتا۔ وطن پرستی کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے ملک کے مستقبل کے لیے وہ سوال پوچھیں جن کے جواب آنے والی نسلوں کی قسمت طے کریں گے۔

اگر قومی مباحثے سے بے روزگاری غائب ہو جائے، اگر تعلیم کی جگہ صرف جذباتی مباحث لے لیں، اگر نوجوانوں کے خوابوں پر سیاسی شور غالب آ جائے، تو نقصان کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ پورے ملک کا ہوتا ہے۔

ہندوستان کا مستقبل کسی ایک رہنما، ایک جماعت یا ایک انتخاب سے بڑا ہے۔ اس مستقبل کی اصل معمار نئی نسل ہے۔ یہی نسل اپنی محنت، اپنی اختراع، اپنے شعور اور اپنی جمہوری بیداری سے ایک ترقی یافتہ ہندوستان کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔

لہٰذا اگلی بار جب کوئی نیا شور آپ کی توجہ اپنی طرف کھینچے، تو ایک لمحے کے لیے رک کر خود سے صرف چند سوال کیجیے: کیا میرے روزگار کا مسئلہ حل ہوا؟ کیا تعلیم بہتر ہوئی؟ کیا ادارے زیادہ مضبوط ہوئے؟ کیا نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوئے؟

اگر ان سوالوں کے جواب ابھی باقی ہیں، تو سمجھ لیجیے کہ بحث ابھی ختم نہیں ہوئی۔

کیونکہ جمہوریت میں سب سے خطرناک چیز اختلاف نہیں، بلکہ عوام کا اصل سوالات کو بھول جانا ہے۔

Comments

Popular Posts