فلک
رات نے شہر کو اپنی سیاہ چادر میں لپیٹ لیا تھا، مگر اندھیرا کہیں نہ تھا۔ ہر عمارت اپنی روشنی میں مبتلا تھی، ہر چہرہ کسی نہ کسی اسکرین کے نیلے عکس میں تحلیل ہو رہا تھا۔ قیصر کو مدت ہوئی، آسمان دیکھے۔اس رات بارش ہوئی۔ ایسی بارش جس نے شور کو بھیگنے پر مجبور کر دیا۔ وہ بےاختیار چھت پر آ گیا۔ بادلوں کے منتشر ہونے کے بعد فلک پر ایک تنہا ستارہ نمودار ہوا۔ نہ وہ سب سے روشن تھا، نہ سب سے بڑا؛ مگر اس کی موجودگی میں ایک عجیب سا سکوت تھا، جیسے روشنی بھی خاموش ہو سکتی ہے۔صبح قیصر شہر کے اُس حصے میں جا نکلا جہاں وقت ابھی پوری طرح ڈیجیٹل نہیں ہوا تھا۔ پرانی کتابوں کی دکانیں، کاغذ کی مہک، روشنائی سے آلودہ انگلیاں اور خطوں کے زرد لفافے… سب کچھ کسی بھولی ہوئی یاد کی طرح اس کے سامنے بکھرا تھا۔ایک بوڑھی عورت نے اس کی طرف سفید کاغذ کا ایک ورق بڑھایا۔ اس کی آنکھوں میں برسوں کی خاموشی آباد تھی۔"فلک ہمیشہ اوپر نہیں ہوتا۔"بس اتنا ہی کہا۔قیصر نے ورق جیب میں رکھ لیا۔ شام تک وہ ایک لفظ بھی نہ لکھ سکا۔چند روز بعد اس کے گھر میں لوگ جمع ہونے لگے۔ کوئی کتاب لے آتا، کوئی نظم، کوئی صرف اپنی خاموشی۔ موبائل میز کے ایک کونے میں الٹے پڑے رہتے۔ گفتگو کے درمیان وقفے آتے تو کوئی بےچینی محسوس نہ کرتا۔ خاموشیاں بھی اپنا حصہ ادا کرتی تھیں۔ایک رات قیصر نے وہی خالی ورق نکالا۔ دیر تک اسے دیکھتا رہا، پھر بغیر کچھ لکھے اسے تہہ کیا اور آسمان کی طرف نظر اٹھائی۔فلک اپنی جگہ موجود
تھا۔شاید بدلنے والا آسمان نہیں، نگاہ تھی۔

Comments
Post a Comment