غیرت کا جنازہ اور خاموش تماشائی: ایک سائنسدان کی سسکتی سانسیں اور ہمارا
غیرت کا جنازہ اور خاموش تماشائی: ایک سائنسدان کی سسکتی سانسیں اور ہمارا
مردہ ضمیر
تحریر: محمد فیضان طالب
(بی-پی-ٹی سالِ اول، بنگلور)
یہ محض ایک مضمون نہیں، بلکہ اس ملک کے اندھے، گونگے اور بہرے نظام کے خلاف ایک کھلی جنگ کا اعلان ہے۔ یہ نوحہ ہے اس معاشرے کا جہاں ضمیر مر چکے ہیں اور ترجیحات اس حد تک گر چکی ہیں کہ اقتدار کے بھوکے نیتا اپنی انتخابی ریلیوں اور جشن میں مصروف ہیں، جبکہ ملک کا سب سے قیمتی سرمایہ، ایک عالمی سطح پر تسلیم شدہ سائنسدان، جنتر منتر کی تپتی سڑک پر اپنی جان کی بازی لگا رہا ہے۔
مبارک ہو اس نظام کو، جہاں ایک ایسے ذہن کو سڑک پر لاچار کر دیا گیا ہے جس نے اپنی ایجادات سے لداخ کی بنجر زمینوں کو زندگی دی، جس نے تعلیمی رزلٹ کو 5 فیصد سے اٹھا کر 75 فیصد تک پہنچایا، اور جس کی تعظیم غیر ممالک کے لوگ بھی دل سے کرتے ہیں۔ سوئٹزرلینڈ جیسی غیر ملکی ایمبیسی میں جب وہ ویزا کے لیے جاتے ہیں، تو وہاں کے حکام انہیں دیکھتے ہی پہچان لیتے ہیں، ان کا والہانہ استقبال کرتے ہیں اور فخر سے کہتے ہیں کہ "آپ جیسے مہان سائنسدان کا ہمارے ملک میں آنا ہمارے لیے فخر کی بات ہے، ہم آپ سے فیس نہیں لے سکتے"۔ جس انسان کو پوری دنیا سر آنکھوں پر بٹھاتی ہے، وہ آج اپنے ہی ملک کی سڑکوں پر بیڈ پر پڑا سسک رہا ہے، اور یہاں کا اقتدار اس کی تڑپ پر تالیاں بجا رہا ہے۔
میں اس موقع پرست حکومت کے منہ پر بھی تھوکتا ہوں اور اس ناہل اپوزیشن کے منہ پر بھی تھوکتا ہوں! اے اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے اندھے حکمرانو اور خود کو عوام کا ہمدرد کہنے والے اپوزیشن کے رہنماؤ! تمہاری زبانوں پر تالے کیوں لگ چکے ہیں؟ تم طلبہ کے حقوق کے لیے، ان کے مستقبل کے لیے اب تک خاموش کیوں ہو؟ شرم آنی چاہیے تم سب کو کہ ایک محبِ وطن سائنسدان 18 دنوں سے بھوک ہڑتال پر بیٹھا ہے۔ 18 دن... یعنی آدھے مہینے سے زیادہ کا وقت گزر گیا، اس نے اناج کا ایک دانہ تک حلق سے نیچے نہیں اتارا! اس کا وزن 8.5 کلو سے لے کر 9 کلو تک گر چکا ہے، جسم نڈھال ہو چکا ہے، پیروں پر کھڑے ہونے کی سکت نہیں رہی، چہرہ پیلا پڑ چکا ہے اور ڈاکٹرز اسے بمشکل سہارا دے کر اٹھا رہے ہیں۔ لیکن تم لوگ؟ تم لوگ اپنی پارٹیوں، انتخابی ریلیوں اور ووٹ بینک کی گندی سیاست میں مصروف ہو! واہ رے نظام، واہ!
لیکن میرا اصل سوال اس ملک کی عام عوام سے ہے، اس خاموش تماشائی پبلک سے ہے جو سب کچھ دیکھ کر بھی خوابِ خرگوش میں سوئی ہوئی ہے۔ کیا تم لوگ اس بھیانک وقت کا انتظار کر رہے ہو جب تمہارے اپنے معصوم بچے 'پیپر لیک' کی اس گندی دلدل سے تنگ آ کر، اپنے سالوں کی محنت کو چوری ہوتا دیکھ کر، مایوسی میں اپنی جان دے دیں؟ کیا تب تمہاری آنکھیں کھلیں گی؟
جاگو! اب بھی وقت ہے، ہوش کے ناخن لو اور دلی کے جنتر منتر کا رخ کرو۔ یہ مت دیکھو کہ یہ پروٹیسٹ کس تنظیم کا ہے، یہ مت سوچو کہ یہ کس سیاسی پارٹی کا ایجنڈا ہے۔ یہ پروٹیسٹ کسی ایک فرد کا نہیں، یہ احتجاج اس ملک کے طلبہ کا ہے، یہ احتجاج تمہارے بچوں کے مستقبل کا ہے، یہ احتجاج اس ملک کے جمہوریت کی آخری سانسوں کو بچانے کا ہے!
اگر آج یہ عظیم انسان، جو اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ تمہاری اور ہماری آنے والی نسلوں کے لیے مر رہا ہے، خدانخواستہ ہم سے چھن گیا، تو کل ہماری طرف سے آواز اٹھانے والا کوئی نہیں بچے گا۔ اس کے بعد سوشل میڈیا پر افسوسناک اسٹیٹس لگانے یا گانے شیئر کرنے سے تمہارا گناہ کم نہیں ہوگا، وہ صرف تمہاری منافقت ہوگی۔ جو کرنا ہے، آج کرو، اپنی حدوں میں رہ کر آواز اٹھاؤ، دوستوں سے بات کرو، اس پیغام کو پھیلاؤ!
20
جولائی: دہلی چلو! اب نہیں تو کب؟
یاد رکھو، 20 جولائی کو جنتر منتر سے سنسد بھون (پارلیمنٹ) تک ایک پرامن لیکن تاریخی مارچ ہونے جا رہا ہے۔ میں آپ سب سے، ملک کے ہر باضمیر شہری اور طالبِ علم سے ہاتھ جوڑ کر گزارش کرتا ہوں کہ اس دن اپنی زندگیوں سے زیادہ تعداد میں وہاں پہنچو! اپنی سستی اور بہانے بازی چھوڑو اور جنتر منتر کا رخ کرو۔ یہ تمہاری بقا کی جنگ ہے۔
اور جو مجبور ہیں، جو کسی وجہ سے وہاں جسمانی طور پر نہیں پہنچ سکتے، وہ خاموش نہ بیٹھیں۔ وہ اپنے قلم کو ہتھیار بنائیں! اپنے لفظوں، اپنی تحریروں اور سوشل میڈیا کے ذریعے اس احتجاج کی آگ کو ملک کے کونے کونے میں پھیلا دیں۔ قلم کی طاقت کسی تلوار سے کم نہیں ہوتی۔
اب حکومت کو اور اس تعلیمی مافیا کو طلبہ کے ہر ایک سوال کا جواب دینا ہی ہوگا۔ ہم اپنا حق چھین کر لیں گے!
تعلیمی مافیا اور پیپر لیک کا یہ کرپٹ نظام اب مزید نہیں چلے گا۔ اب خاموشی کا وقت ختم ہو چکا ہے، اب ایک حقیقی تعلیمی انقلاب کا وقت ہے!

Comments
Post a Comment