جمہوریت کی موت آہستہ آہستہ ہوتی ہے |اِس سے پہلے نہ دیکھی ہوئی بےترتیبی! جمہوریت ہی خطرے میں
| جمیل احمد ملنسارؔ، بنگلور | 9845498354 | ہمارے ملک میں ایک عجیب رواج ہے۔ ہر چیز کا نام “اصلاح” رکھ دیا جاتا ہے، اور پھر اس اصلاح میں عام آدمی کا نقصان ہونے لگتا ہے۔ ووٹر لسٹ کی صفائی بھی ایسی ہی اصلاح ہے۔ کہا جاتا ہے کہ غلط نام ہٹائے جا رہے ہیں۔ اچھی بات ہے۔ مگر جب غلط ناموں کے ساتھ سچے نام بھی غائب ہونے لگیں، تو سمجھ لیجیے کہ صفائی میں کوئی سیاسی ہاتھ ضرور گھما دیا گیا ہے۔ مجھے ایک بوڑھا آدمی یاد آتا ہے۔ بس اسٹاپ پر کھڑا تھا، ہاتھ میں چشمہ اور جیب میں ووٹر کارڈ۔ وہ پوچھ رہا تھا: بھائی، میرا نام ووٹر لسٹ سے کیوں نکل گیا؟ میں مرا نہیں ہوں، نہ ہی کہیں گیا ہوں۔ اس کا سوال بہت سادہ تھا، مگر جواب دینے والا کوئی نہ تھا۔ یہی ہمارے جمہوریت کا حال ہے۔ ہر پانچ سال بعد ہمیں بٹن دبانے کی دعوت دی جاتی ہے، اور باقی دنوں میں ہمیں یہ بتایا جاتا ہے کہ ہماری آواز شور ہے، ہمارا احتجاج بدنظمی ہے اور ہمارا سوال ملک دشمنی ہے۔ جمہوریت کے نام پر ہم نے بہت کچھ سیکھ لیا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ جھنڈے کیسے لہرائے جاتے ہیں، نعروں کیسے چلائے جاتے ہیں، جلسوں میں کیسے ہاتھ ہلاتے ہیں اور انتخابی نتائج کے بعد کیسے مٹھائی...






