اقتدار، خوف اور بدلتا ہوا سیاسی منظرنامہ
اقتدار، خوف اور بدلتا ہوا سیاسی منظرنامہ جب نئی نسل سوال کرنے لگے تو طاقت کا لہجہ بدلنا پڑتا ہے از: جمیل احمد ملنسارؔ، بنگلور گزشتہ بارہ برسوں میں ہندوستانی سیاست میں اقتدار کی مرکزیت اس قدر نمایاں رہی کہ طاقت کا ایک خاص انداز رفتہ رفتہ معمول بن گیا۔ فیصلوں کا مرکز ایک جگہ سمٹتا گیا، سیاسی بیانیہ زیادہ یک رُخا ہوتا گیا اور اختلاف کی آوازیں پہلے کی نسبت کم سنائی دینے لگیں۔ رفتہ رفتہ ایک ایسا تاثر پیدا ہوا کہ شاید یہی سیاسی صورتِ حال اب بہت عرصے تک قائم رہے گی۔ لیکن سیاست میں کچھ بھی ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتا۔ وقت اپنا کام کرتا رہتا ہے۔ عوامی مزاج بدلتا ہے، نئی نسلیں نئے سوال لے کر سامنے آتی ہیں، معاشی حالات نئی پریشانیاں پیدا کرتے ہیں اور جو طاقت کل تک ناقابلِ شکست دکھائی دیتی تھی، اسے بھی ایک دن اپنی کمزوریوں کا حساب دینا پڑتا ہے۔ دہلی پولیس کی جانب سے حالیہ دنوں میں نئی نسل کے مظاہرین سے نمٹنے کے لیے جاری کی گئی ہدایات اسی بدلتی ہوئی صورتِ حال کی ایک اہم علامت ہیں۔ جنتر منتر پر احتجاج اور جھڑپوں کے بعد پولیس اہلکاروں کو کہا گیا کہ وہ مظاہرین کے اشتعال میں نہ آئیں، غصے میں ردِعمل نہ دیں، ...






