پستے کی سفارت کاری: کیسے ایک مٹھی بھر خشک میوہ بھارت کا سب سے بڑا ڈپلومیٹک ہتھیار بن گیا
پستے کی سفارت کاری: کیسے ایک مٹھی بھر خشک میوہ بھارت کا سب سے بڑا ڈپلومیٹک ہتھیار بن گیا جمیل احمد ملنسارؔ، بنگلور | 9845498354 ایٹمی طاقت کا توازن بھول جائیے، سیمی کنڈکٹر کی راہداریاں فراموش کر دیجیے، اور ڈی ڈالرائزیشن کے پیچیدہ حساب کتاب کو بھی فی الحال طاق پر رکھ دیجیے۔ عالمی سیاست کا اصل موڑ اس وقت آیا جب برکس کے ایک باقاعدہ اجلاس میں، قلم کی بجائے، ایرانی پستوں کی ایک بھرپور اور نہایت مربوط مٹھی نے تاریخ رقم کر دی۔ بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ایران کے سوشل میڈیا پر وہ دھوم مچائی ہے کہ بڑے بڑے سفارتی بیانات بھی شرما جائیں۔ اور یہ کارنامہ انہوں نے کسی گھنٹوں طویل جوشیلی تقریر یا اربوں ڈالر کے تجارتی معاہدے پر دستخط سے نہیں، بلکہ ایک اعلیٰ سطحی بین الاقوامی کانفرنس کو بالکل اسی بے فکری سے بھگتانے پر حاصل کیا جو عام آدمی اتوار کی سہ پہر ٹی وی پر فٹبال دیکھتے ہوئے اپناتا ہے۔ کیمرے جب سخت، چوکنے اور تنے ہوئے مندوبین کی قطاروں پر گھوم رہے تھے، جن کے چہروں پر ایسا بوجھ تھا گویا پوری گلوبل ساؤتھ کی ذمہ داری انہی کے کندھوں پر ہو، وہیں ایک کونے میں جیسوال صاحب براجم...


