Skip to main content

Posts

Featured

  اعتراف — ادبی دنیا میں ایک بامعنی دستاویز از: جمیل احمد ملنسارؔ، بنگلور ادبی دنیا میں بعض کتابیں صرف مطالعے کے لیے نہیں ہوتیں بلکہ مکالمے کے لیے وجود میں آتی ہیں۔ وہ اپنے موضوع، اسلوب اور مواد کے اعتبار سے قاری کو محض معلومات فراہم نہیں کرتیں بلکہ اس کے ذہن میں سوالات، زاویۂ نظر اور نئے امکانات بھی پیدا کرتی ہیں۔ اعتراف بھی اسی نوع کی ایک اہم اور وقیع تصنیف ہے۔ یہ صرف ڈاکٹر راہی فدائی کی شخصیت و خدمات پر لکھے گئے مضامین کا مجموعہ نہیں بلکہ اردو ادب کے مختلف دبستانوں، مختلف نسلوں اور مختلف فکری رویّوں کے اہلِ قلم کے درمیان ایک بامعنی علمی و ادبی مکالمہ ہے، جس کے مرکز میں ایک ہمہ جہت، صاحبِ فکر اور صاحبِ قلم شخصیت جلوہ گر ہے۔ یہ تبصرہ بھی اسی مکالمے کو سمجھنے اور اس کی معنویت کو دریافت کرنے کی ایک عاجزانہ کوشش ہے۔ اس جائزے میں سعی کی گئی ہے کہ کتاب کے ظاہری حسن اور اس کے ادبی وقار سے آگے بڑھ کر اس کی فکری ساخت، مضامین کی ترتیب، مرتب کی تنقیدی بصیرت اور مختلف اہلِ قلم کے اسالیب کا جائزہ لیا جائے، تاکہ قاری اس حقیقت کو محسوس کر سکے کہ اس انتھالوجی کی اصل اہمیت صرف مضامین کے اجتماع می...

Latest posts

نوجوان جاگ اٹھے ہیں، اب ہندوستان کو سننا ہوگا

The Youth Have Spoken. India Must Listen.

شورِ سیاست میں گم ہوتا ہندوستان

The Journey to Khushūʿ Begins with Wudu

بدلتی ہوئی ہوا کا رخ

The Wind Is Changing: A Government That Stops Listening Begins to Fear Its Own People

Rohit Sharma’s Bat Speaks Louder Than Retirement Rumours -

فٹبال کی وہ رات جسے وقت بھی بھول نہیں سکے گا

Police action in Jantar Mantar had damaged India's democratic image internationally

حکیمُ الاسلام حضرتِ اقدس مولانا قاری محمد طیّب صاحب قاسمی نوّر اللہ مرقدہ ٬