عہدِ محبت
وعدوں کی شام
سہ پہر ڈھل چکی تھی اور شام نے اپنے دامن میں عطر، روشنی اور ہلکی سی شرارت سمیٹ رکھی تھی۔ آج ثمیر اور سونو کی شادی کی سالگرہ تھی۔ گھر کو خوب سجایا گیا تھا، مگر سجاوٹ سے زیادہ سجاوٹ ان دونوں کے چہروں پر موجود تھی—ایک مصنوعی سنجیدگی، جس کے پیچھے پرانی شرارتیں ہنستی تھیں۔
ثمیر نے گلا صاف کیا اور بڑے وقار سے بولا،
"آج کی اس مبارک ساعت میں ہم دونوں عہد کرتے ہیں کہ آئندہ کسی بات پر اختلاف نہیں ہوگا، کوئی جھگڑا نہیں ہوگا، کوئی راز نہیں چھپایا جائے گا، اور ہر معاملے میں باہمی مشورہ کیا جائے گا۔"
سونو نے فوراً سر ہلایا،
"بالکل! اور یہ بھی کہ جو میں کہوں گی، تم غور سے سنو گے۔"
ثمیر نے ہونٹوں پر مسکراہٹ دبا کر کہا،
"اور جو میں کہوں گا، وہ بھی تم غور سے سنو گی۔"
"یہ تو پہلے ہی طے تھا!" سونو بولی۔ "مگر سننا اور ماننا دو الگ باتیں ہیں۔"
"بالکل جیسے تمہاری خریداری اور تمہارا بجٹ," ثمیر نے زیرلب کہا۔
سونو کی بھنویں تن گئیں۔
"میں خریداری نہیں، گھر کی رونق بڑھاتی ہوں!"
"اور میں بجٹ نہیں، گھر کی بقا بچاتا ہوں!" ثمیر نے جواب دیا۔
ابھی عہد کے پھول پوری طرح کھلے بھی نہ تھے کہ پہلے ہی کانٹوں نے سر نکال دیا۔ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر خاموش ہوئے، پھر ایک ساتھ بولے:
"دیکھا! ہم پھر شروع ہو گئے!"
اتنے میں دروازہ بجا۔ ہمسائے میاں بیوی، جنہیں سب "محلے کے مشیر" کہتے تھے، اندر داخل ہوئے۔
"مبارک ہو!" پڑوسن بولیں۔ "ہم سوچ رہے تھے آپ لوگ سالگرہ کیسے مناتے ہوں گے؟ کیک، موم بتیاں، محبت، یا خاموشی؟"
ثمیر نے فوراً کہا،
"ہم نے آج عہد کیا ہے کہ اختلاف نہیں ہوگا۔"
سونو نے مسکراتے ہوئے کہا،
"ہاں، بس یہ عہد طے کرتے ہی ہم دونوں میں پہلی بحث شروع ہو گئی۔"
ہمسایہ صاحب ہنس پڑے۔
"یہ تو عام بات ہے۔ عورت کہتی ہے مرد نہیں سمجھتا، مرد کہتا ہے عورت نہیں سنتی۔"
سونو نے ہاتھ کمر پر رکھا۔
"مرد زیادہ دبا ہوا ہوتا ہے۔"
ثمیر نے فوراً کہا،
"اور عورت؟"
"عورت تو دبی ہوئی چنگاری ہے!" سونو بولی۔ "مگر مرد؟ مرد تو خود اپنے اندر کا وزیرِ خزانہ، وزیرِ خارجہ اور وزیرِ مواصلات ایک ساتھ ہوتا ہے، پھر بھی کہتا ہے کہ اسے سمجھا نہیں جاتا۔"
ہمسایہ بیگم نے قہقہہ لگای
"یہ سچ ہے۔ مگر عورت بھی کم مظلوم نہیں۔ سارا گھر سنبھالو، ہر ایک کو خوش رکھو، پھر بھی سوال یہ کہ کھانا نمکین کیوں ہے؟"
ثمیر نے تائید میں سر ہلایا
"عورت کے حصے میں جذبات آتے ہیں، مرد کے حصے میں بہانے۔"
سونو نے فوراً جملہ کاٹا
اور مرد کے حصے میں خاموشی! وہ خاموش ہو کر بھی لڑائی جیتنے کی کوشش کرتا ہے۔
"اور عورت بول بول کر!" ثمیر نے کہا۔
ول کر نہیں، حقائق پیش کر کے!" سونو نے اصلاح کی۔
اب دونوں ہمسائے ہنس ہنس کر دوہرے ہو رہے تھے۔ مگر بحث سنجیدگی اختیار کر چکی تھی۔
ہمسایہ صاحب بولے،
"اصل سوال یہ نہیں کہ کون زیادہ دبایا جاتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کون زیادہ برداشت کرتا ہے۔"
ثمیر نے کندھے اچکائے،
"مرد برداشت کرتا ہے۔"
سونو نے برجستہ کہا،
"عورت نبھاتی ہے۔"
پھر ایک لمحہ خاموشی رہی۔ اس خاموشی میں سچ کی ایک نرم لکیر تھی۔ ثمیر نے آہستہ سے کہا،
"شاید مرد بول نہیں پاتا، اور عورت رُک نہیں پاتی۔ دونوں کا دکھ الگ ہے، مگر گھر ایک ہی چھت تلے بنتا ہے۔"سونو کی آنکھوں میں شرارت کی جگہ نرمی آ گئی۔
"اور محبت؟"
ثمیر مسکرایا۔
"محبت؟ وہ وہی چیز ہے جو جھگڑے کے بعد چائے میں میٹھا بڑھا دیتی ہے۔"
سب ہنس پڑے۔ سونو نے پلیٹ میں کیک رکھا، ثمیر نے چمچ لیا، ہمسایہ جوڑا دعائیہ انداز میں کھڑا تھا۔ پھر سونو نے دھیرے سے کہا،
"تو پھر ہمارا عہد کیا ہوا؟"
ثمیر نے فوراً جواب دیا،
"یہی کہ ہم بحث ضرور کریں گے، مگر دل نہیں توڑیں گے۔"
سونو نے ہاتھ بڑھا کر اس کا ہاتھ تھام لیا۔
"اور راز؟"
"ضرور ہوں گے،" ثمیر بولا، "مگر اتنے نہیں کہ گھر اجنبی ہو جائے۔"
ہمسایہ بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا،
"واہ! یہ تو بڑا اچھا اصول ہے۔"
ہمسایہ صاحب نے قہقہہ لگایا،
"اور سب سے اچھا اصول یہ ہے کہ سالگرہ پر جھگڑا ہو جائے تو کیک پہلے کھا لو، پھر صلح کر لو!"
یوں وہ شام ہنسی، تکرار، چائے، اور کیک کے بیچ اپنے انجام کو پہنچی۔ باہر رات گہری ہو رہی تھی، مگر اندر ایک روشن حقیقت جاگ رہی تھی:
گھر وہی خوبصورت ہے جہاں دو لوگ ایک دوسرے کو بدلنے کے بجائے، سمجھنے کی کوشش کریں۔ اور شادی؟ وہ دراصل محبت کا وہ لطیف معاہدہ ہے جس میں کبھی قلم، کبھی ضد، اور کبھی چائے دونوں شریک ہوتے ہیں۔
میر نے جاتے جاتے سونو سے کہا،
"اگلے سال پھر یہی عہد کریں گے؟"
سونو نے مسکرا کر جواب دیا،
"ہاں، مگر شرط یہ ہے کہ اس بار لڑائی کے بعد تم پہلے معافی مانگو گے۔"
ثمیر نے آسمان کی طرف دیکھا اور آہستہ سے بولا،
"تو پھر سالگرہ ابھی سے مبارک!"
اور سب ہنس دیے۔

Comments
Post a Comment