ہندوستانی اردو منچ کی روح پرور ادبی نشست؛ منیر احمد جامی کی "منظوم سوانحِ امام حُسین" جلد شائع ہوگی

 


ہندوستانی اردو منچ کی روح پرور ادبی نشست؛ منیر احمد جامی کی "منظوم سوانحِ امام حُسین" جلد شائع ہوگی


بنگلور، 10 جولائی: راست
ہندوستانی اردو منچ، بنگلور کے زیرِ اہتمام کے روز "اردو منظوم ادب میں سانحۂ کربلا" کے عنوان سے ایک نہایت باوقار، فکری اور روح پرور ادبی نشست منعقد ہوئی، جس میں اردو شاعری کے آئینے میں واقعۂ کربلا کی معنویت، اس کے آفاقی پیغام اور منظوم ادب میں اس کے فنی و فکری اظہار پر سیرحاصل گفتگو کے ساتھ منتخب منظومات اور مراثی پیش کیے گئے۔

 نشست کی صدارت جناب اعجاز علی جوہری نے فرمائی، جبکہ معروف شاعر و ادیب جناب
ملنسار اطہر احمد  نے نہ صرف نظامت کے فرائض خوش اسلوبی سے انجام دیے بلکہ اپنے کلیدی خطاب میں مرثیہ نگاری کی روایت، اس کے فنی تقاضوں اور اردو ادب میں اس کی تاریخی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے حاضرین کو اس صنفِ سخن کے 
مختلف پہلوؤں سے آگاہ کیا۔


ابتدائیہ پیش کرتے ہوئے ہندوستانی اردو منچ کے اعزازی سیکریٹری جناب این۔ ڈی۔ ملا نے کہا کہ سانحۂ کربلا محض تاریخ کا ایک باب نہیں بلکہ حق، صداقت، عدل اور انسانی وقار کی دائمی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی ادبی نشستیں نئی نسل کو اردو کی کلاسیکی روایت سے جوڑنے اور امام حُسین کی عظیم قربانی کے آفاقی پیغام کو عام کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

نشست میں محترمہ بی بی فاطمہ،  جناب حیدر برہم پُوری، جناب جمیل احمد ملنسار، جناب قاضی سعید، جناب سید شفیق الزماں، جناب محمد اعظم شاہد، جناب شفیق عابدی اور جناب واعظ حسینی نے اپنے منتخب کلام کے ساتھ ساتھ اساتذۂ سخن کے مراثی و مناقب بھی پیش کیے، جنہیں حاضرین نے بے حد پسند کیا اور بھرپور داد سے نوازا۔

محفل کے کوآرڈینیٹر جناب جمیل احمد ملنسار نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس نشست کا مقصد صرف واقعۂ کربلا کی یاد تازہ کرنا نہیں بلکہ ان اردو شعراء کو بھی خراجِ تحسین پیش کرنا ہے جنہوں نے اپنے منظوم ادب کے ذریعے حضرت امام حسینؑ اور شہدائے کربلا کی لازوال قربانی کو ہمیشہ کے لیے ادب کا روشن استعارہ بنا دیا۔

تقریب کا سب سے یادگار لمحہ اُس وقت سامنے آیا جب کرناٹک کے معروف صوفی شاعر جناب منیر احمد جامی نے اپنی تازہ تصنیف "منظوم سوانحِ امام حسین" مکمل طور پر حاضرین کے روبرو پیش کی۔ ان کی مؤثر اور پُرسوز پیشکش نے سامعین کو عقیدت و احترام کے جذبات سے سرشار کر دیا۔ اس موقع پر ہندوستانی اردو منچ کے صدر جناب اعجاز علی جوہری نے اعلان کیا کہ اس اہم ادبی سرمایہ کو ہندوستانی اردو منچ کی جانب سے جلد کتابی صورت میں شائع کیا جائے گا تاکہ یہ بیش بہا تخلیق وسیع حلقۂ قارئین تک پہنچ سکے۔
نشست کے اختتام پر اردو زبان و ادب کے شائقین  نے منتظمین کو کامیاب پروگرام کے انعقاد پر مبارک باد پیش کی۔ مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی ایسی معیاری ادبی و فکری نشستوں کا انعقاد جاری رکھا جائے گا تاکہ اردو ادب کی عظیم روایات اور کربلا کا آفاقی پیغام نئی نسل تک مؤثر انداز میں منتقل ہوتا رہے۔




Comments

Popular Posts