اقتدار، خوف اور بدلتا ہوا سیاسی منظرنامہ
اقتدار، خوف اور بدلتا ہوا سیاسی منظرنامہ
جب نئی نسل سوال کرنے لگے تو طاقت کا لہجہ بدلنا پڑتا ہے
از: جمیل احمد ملنسارؔ، بنگلور
گزشتہ بارہ برسوں میں ہندوستانی سیاست میں اقتدار کی مرکزیت اس قدر نمایاں رہی کہ طاقت کا ایک خاص انداز رفتہ رفتہ معمول بن گیا۔ فیصلوں کا مرکز ایک جگہ سمٹتا گیا، سیاسی بیانیہ زیادہ یک رُخا ہوتا گیا اور اختلاف کی آوازیں پہلے کی نسبت کم سنائی دینے لگیں۔ رفتہ رفتہ ایک ایسا تاثر پیدا ہوا کہ شاید یہی سیاسی صورتِ حال اب بہت عرصے تک قائم رہے گی۔
لیکن سیاست میں کچھ بھی ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتا۔
وقت اپنا کام کرتا رہتا ہے۔ عوامی مزاج بدلتا ہے، نئی نسلیں نئے سوال لے کر سامنے آتی ہیں، معاشی حالات نئی پریشانیاں پیدا کرتے ہیں اور جو طاقت کل تک ناقابلِ شکست دکھائی دیتی تھی، اسے بھی ایک دن اپنی کمزوریوں کا حساب دینا پڑتا ہے۔
دہلی پولیس کی جانب سے حالیہ دنوں میں نئی نسل کے مظاہرین سے نمٹنے کے لیے جاری کی گئی ہدایات اسی بدلتی ہوئی صورتِ حال کی ایک اہم علامت ہیں۔ جنتر منتر پر احتجاج اور جھڑپوں کے بعد پولیس اہلکاروں کو کہا گیا کہ وہ مظاہرین کے اشتعال میں نہ آئیں، غصے میں ردِعمل نہ دیں، بحث سے بچیں اور کیمروں کے سامنے اپنے رویے کا خاص خیال رکھیں۔
بظاہر یہ ایک انتظامی ہدایت ہے، لیکن اس کے اندر ہمارے بدلتے ہوئے عہد کی ایک بڑی کہانی چھپی ہوئی ہے۔
آج احتجاج صرف سڑک پر نہیں ہوتا۔ ہر ہاتھ میں موجود موبائل فون ایک کیمرہ بھی ہے اور ایک خبر کا ذریعہ بھی۔ جو کچھ چند سال پہلے صرف موقع پر موجود لوگ دیکھتے تھے، آج وہ چند لمحوں میں ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتا ہے۔ ایک معمولی واقعہ بھی اچانک پورے ملک میں بحث کا موضوع بن سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ریاستی طاقت کا ہر مظاہرہ اب صرف موقع پر موجود لوگوں تک محدود نہیں رہتا۔ وہ ریکارڈ ہوتا ہے، پھیلتا ہے، اس پر تبصرے ہوتے ہیں اور پھر وہ عوامی حافظے کا حصہ بن جاتا ہے۔
یہ تبدیلی صرف پولیس کے لیے نہیں، پوری ریاستی مشینری کے لیے ایک نیا چیلنج ہے۔
پرانے زمانے میں طاقت کا اظہار اکثر خاموشی پیدا کرتا تھا۔ آج طاقت کا سخت اظہار سوال پیدا کرتا ہے۔
اور آج کے سوال پہلے کی طرح آسانی سے دبائے نہیں جا سکتے۔
دہلی پولیس کی ہدایات کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اہلکار اشتعال میں آکر ایسا ردِعمل نہ دیں جو بعد میں خود پولیس کے خلاف عوامی رائے پیدا کردے۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے، لیکن اس کے ساتھ ایک بنیادی سوال بھی پیدا ہوتا ہے: اگر سامنے کوئی کیمرہ نہ ہو تو کیا پولیس کا رویہ مختلف ہونا چاہیے؟
یقیناً نہیں۔
پولیس کا تحمل صرف کیمرے کے سامنے ضروری نہیں۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے کا اصل وقار اسی میں ہے کہ وہ کیمرے کے سامنے بھی قانون کے مطابق برتاؤ کرے اور کیمرے سے دور بھی۔
ریاستی طاقت کا اصل امتحان یہ نہیں کہ وہ کسی مشتعل ہجوم کو کتنی جلدی خاموش کرا سکتی ہے۔ اصل امتحان یہ ہے کہ وہ اختلاف کرنے والے شہری کے ساتھ کس قدر تحمل، احترام اور قانون پسندی کے ساتھ پیش آتی ہے۔
نئی نسل کو صرف جذباتی، بے صبر یا موبائل فون کی دنیا میں گم نوجوان سمجھنا بھی ایک بڑی غلطی ہوگی۔ یہ نسل سوال کرتی ہے، معلومات تلاش کرتی ہے، مختلف ذرائع کو دیکھتی ہے اور سرکاری دعووں کو اپنی سمجھ کے مطابق پرکھتی ہے۔ اسے شاید خاموش کرایا جا سکتا ہے، لیکن بغیر قائل کیے اس کا اعتماد حاصل کرنا آسان نہیں۔
یہی وجہ ہے کہ آنے والے دنوں میں حکومتوں کے لیے سب سے بڑا سوال صرف انتخابی کامیابی نہیں بلکہ نئی نسل کا اعتماد ہوگا۔
آج کا نوجوان اپنے ملک کے اندر ہونے والے کسی واقعے کو صرف ایک واقعے کے طور پر نہیں دیکھتا۔ وہ اسے دنیا کے دوسرے واقعات کے ساتھ رکھ کر دیکھتا ہے۔ اس کے پاس مختلف ذرائع ہیں، مختلف آراء ہیں اور اپنی رائے بنانے کی آزادی بھی۔ سرکاری بیان اب اس کے لیے آخری سچ نہیں رہا۔
وہ دیکھتا ہے، سنتا ہے، سوال کرتا ہے اور پھر فیصلہ کرتا ہے۔
یہ صورتِ حال ریاست کے لیے ایک چیلنج ضرور ہے، لیکن جمہوریت کے لیے اسے خطرہ سمجھنا درست نہیں۔
ایک باشعور شہری ریاست سے سوال کرتا ہے۔ ایک خوف زدہ شہری صرف حکم سنتا ہے۔
جمہوریت کو باشعور شہری چاہیے، خوف زدہ رعایا نہیں۔
یہی اصول عام شہری کے معاملے میں بھی لاگو ہونا چاہیے۔ اگر پولیس کو نئی نسل کے مظاہرین سے نمٹتے ہوئے تحمل، ضبط اور اشتعال سے بچنے کی ہدایت دی جا سکتی ہے تو عام شہری کے ساتھ روزمرہ کے برتاؤ میں بھی یہی اصول نظر آنا چاہیے۔
قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔
طالب علم ہو یا مزدور، صحافی ہو یا تاجر، مظاہرین ہوں یا عام راہ گیر—کسی کے ساتھ پولیس کا رویہ اس کی سیاسی وابستگی، لباس، زبان یا سماجی حیثیت کے مطابق نہیں بدلنا چاہیے۔
پولیس کا احترام اس وقت بڑھتا ہے جب شہری اسے محض طاقت کے نمائندے کے طور پر نہیں بلکہ قانون کے محافظ کے طور پر دیکھتا ہے۔
یہ فرق معمولی نہیں۔
طاقت شہری کو خوف زدہ کر سکتی ہے، مگر قانون اسے اعتماد دیتا ہے۔
ہندوستان جیسے متنوع ملک میں ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کا رشتہ پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ یہاں اختلاف کو دشمنی سمجھنا، احتجاج کو بغاوت کہنا اور سوال کو ریاست مخالف ذہنیت قرار دینا جمہوری مزاج کے لیے نقصان دہ ہے۔
ایک جمہوریت کی پختگی کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ وہ اپنے مخالف، ناقد اور سوال کرنے والے شہری کے ساتھ کس قدر تحمل سے پیش آتی ہے۔
اسی لیے آج کے سیاسی منظرنامے کو صرف حکومت اور حزبِ اختلاف کی کشمکش سمجھنا کافی نہیں۔ اصل تبدیلی شاید اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔ ایک نئی شہری سوچ پیدا ہو رہی ہے جو حکومت سے جواب چاہتی ہے، اداروں سے شفافیت چاہتی ہے اور پولیس سے احترام کی توقع رکھتی ہے۔
یہ توقعات صرف نوجوانوں تک محدود نہیں رہیں گی۔
جب کوئی نوجوان اپنے تجربے کو موبائل فون کے ذریعے لوگوں تک پہنچاتا ہے تو اس کی بات صرف اس کی عمر کے لوگوں تک نہیں رہتی۔ والدین اسے دیکھتے ہیں، اساتذہ اسے دیکھتے ہیں، ملازمین اور کاروباری افراد اسے دیکھتے ہیں اور عام شہری بھی اس بحث میں شامل ہو جاتے ہیں۔
یوں ایک نوجوان کا تجربہ بہت جلد اجتماعی تجربہ بن سکتا ہے۔
اسی لیے ریاستی اداروں کے لیے اب سب سے اہم چیز طاقت دکھانا نہیں بلکہ اعتماد پیدا کرنا ہے۔
یہ حکومت کے لیے بھی ایک اہم لمحہ ہے۔ اگر نئی نسل کے سوالات کو محض شور سمجھ کر نظرانداز کیا گیا تو فاصلے بڑھیں گے۔ اگر اسے دشمن سمجھا گیا تو بے اعتمادی بڑھے گی۔ لیکن اگر اس کے سوالات سنے گئے، اسے شہری مکالمے کا حصہ سمجھا گیا اور اداروں نے اپنے رویے میں شفافیت اور تحمل پیدا کیا تو یہی نوجوان جمہوری نظام کی سب سے بڑی طاقت بن سکتے ہیں۔
حکومت کے لیے سبق صاف ہے:
ہر اختلاف کو شکست دینا ضروری نہیں ہوتا؛ بعض اختلافات کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔
اور پولیس کے لیے بھی ایک بنیادی بات یاد رکھنا ضروری ہے:
وردی اختیار ضرور دیتی ہے، لیکن اختیار کے ساتھ ذمہ داری بھی آتی ہے۔
آج کا زمانہ ایسا ہے جہاں تقریباً ہر شہری کے ہاتھ میں ایک موبائل فون موجود ہے۔ وہ صرف بات چیت کا ذریعہ نہیں، ایک کیمرہ بھی ہے، ایک خبر کا وسیلہ بھی اور بعض اوقات ایک پورا گواہ بھی۔
لیکن جمہوریت کا حسن یہ نہیں کہ پولیس کیمرے سے ڈرے۔
جمہوریت کا حسن یہ ہے کہ پولیس اہلکار کو کیمرے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہو کہ وہ قانون اور شہری کے وقار کا احترام کرے۔
ریاست کی طاقت کا اصل مقصد شہری کو خوف زدہ کرنا نہیں بلکہ اسے تحفظ کا احساس دینا ہے۔
اقتدار صرف انتخابی اکثریت سے مضبوط نہیں ہوتا۔ اس کے لیے عوام کا اعتماد بھی ضروری ہے۔ اگر شہری کو یقین ہو کہ اس کی بات سنی جائے گی، اس کے سوال کا جواب ملے گا اور اختلاف کی قیمت ذلت یا خوف نہیں ہوگی تو جمہوری نظام مضبوط ہوگا۔
لیکن جب شہری یہ محسوس کرنے لگے کہ اس کی آواز اہم نہیں، اس کا سوال خطرہ ہے اور اس کا اختلاف جرم سمجھا جا سکتا ہے تو بظاہر مضبوط نظام بھی اندر سے کمزور ہونے لگتا ہے۔
شاید ہندوستانی سیاست آج اسی تبدیلی کے دہانے پر کھڑی ہے۔
ایک طرف طاقت کا پرانا انداز ہے، دوسری طرف ایک نئی نسل ہے جو سوال کرنے سے نہیں گھبراتی۔ ایک طرف ریاستی اداروں کی روایتی طاقت ہے، دوسری طرف موبائل فون کا وہ کیمرہ ہے جو چند لمحوں میں کسی واقعے کو پورے ملک کے سامنے لا سکتا ہے۔
اس نئے ہندوستان میں اقتدار کو صرف یہ نہیں سوچنا ہوگا کہ احتجاج کو کیسے قابو کیا جائے۔
اسے یہ بھی سوچنا ہوگا کہ احتجاج پیدا ہی کیوں ہوتا ہے۔
کیونکہ ہر احتجاج کے پیچھے صرف ایک ہجوم نہیں ہوتا۔ کبھی کوئی سوال ہوتا ہے، کبھی کوئی شکایت، کبھی کوئی محرومی اور کبھی یہ احساس کہ اقتدار سن نہیں رہا۔
اور جب ایک نسل کو یہ یقین ہونے لگے کہ اسے سنا نہیں جا رہا تو وہ خاموش نہیں رہتی۔ وہ اپنی آواز کے لیے نئے راستے تلاش کرتی ہے۔
اسی لیے آج کے دور کا سب سے بڑا سیاسی سبق شاید یہی ہے:
اقتدار کی طاقت شہری کو خاموش کرا سکتی ہے، مگر شہری کا اعتماد صرف انصاف، احترام اور شفافیت سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
آخر میں سوال بہت سادہ ہے، مگر شاید سب سے اہم بھی:
ہم عوام سے خوف چاہتے ہیں یا عوام کا اعتماد؟
اس سوال کا جواب ہی آنے والے ہندوستان کے سیاسی مزاج کا تعین کرے گا۔

Comments
Post a Comment