خفیف

 افسانہ : خفیف



از: جمیل احمد ملنسارؔ، بنگلور

 -  17AUGUST 2026


​9845498354

قیصر علی محلے کی نکڑ پر پان کی دکان لگاتا تھا۔ صبح سویرے دکان کھولنا، رات گئے بند کرنا، اور اس دوران آنے جانے والوں سے دو چار باتیں کر لینا، یہی اس کی زندگی کا معمول تھا۔ لوگ اسے "خفیف میاں" کہتے تھے، کیونکہ وہ ہر بات کو ہلکا لے کر ٹال دیتا تھا۔ کوئی جھگڑا ہو، کوئی سیاسی بحث چھڑے، وہ مسکرا کر کہہ دیتا، "چھوڑو بھئی، خفیف سی بات ہے، کیا فرق پڑتا ہے۔" اس کی بیوی، زینب، اکثر اس کی اس عادت پر جھنجھلا جاتی۔ "تم میں غیرت نام کی کوئی چیز نہیں،" وہ کہتی، دنیا تمہارے سر پر چڑھ کر ناچ رہی ہے اور تم چپ بیٹھے ہو۔" قیصر علی ہنس کر ٹال دیتا۔

محلے میں ایک اور کردار تھا، پرکاش، جو قیصر علی کا بچپن کا دوست اور سائیکل مرمت کی دکان چلاتا تھا۔ دونوں کی دوستی اتنی پرانی تھی کہ لوگ کہتے، "رام اور رحیم ایک ہی تھالی میں کھاتے ہیں۔" پرکاش کا بیٹا، ونود، اور قیصر علی کا بیٹا، اسلم، ایک ہی اسکول میں، ایک ہی جماعت میں پڑھتے تھے، اور گہرے دوست تھے۔

مگر شہر کی فضا بدل رہی تھی۔ الیکشن کا موسم تھا۔ ہر دیوار پر بینر، ہر چوراہے پر لاؤڈ اسپیکر، اور ہر زبان پر نفرت کے نعرے۔ ایک نوجوان لیڈر، جسے لوگ "بھیا جی" کہتے تھے، محلے میں اپنا اثر جما رہا تھا۔ اس کی تقریریں آگ اگلتی تھیں، اور اس کے پیچھے نوجوانوں کا ایک ٹولہ چلتا تھا جو رات کو دیواروں پر نفرت انگیز پوسٹر چسپاں کرتا۔

ایک شام، پرکاش کی دکان پر بھیا جی کے چیلے آئے۔ "پرکاش بھائی، آپ اس مسلمان کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہو، شرم نہیں آتی؟" پرکاش نے غصے سے جواب دیا، "قیصر میرا بھائی ہے، تم لوگ کون ہوتے ہو ہمارے رشتوں میں زہر گھولنے والے؟" مگر یہ الفاظ ہوا میں تحلیل ہو گئے، کیونکہ اگلے دن پرکاش کی دکان کے شیشے پر کسی نے سیاہی سے لکھ دیا: "غداروں کا ساتھی۔"

قیصر علی نے یہ سب دیکھا، سنا، اور ہر بار وہی پرانا جملہ دہرایا، "خفیف سی بات ہے، گزر جائے گی۔"

پھر وہ دن آیا جب اسلم اسکول سے روتا ہوا گھر لوٹا۔ چہرے پر خراش کے نشان، قمیض پھٹی ہوئی۔ "ابا، کچھ لڑکوں نے کہا ہم اس ملک کے نہیں ہیں، ہمیں چلے جانا چاہیے۔ میں نے کچھ نہیں کہا، تو دھکا دے دیا۔" اس کے ساتھ ونود بھی آیا، آنکھوں میں غصہ اور شرمندگی، "چاچا، میں نے روکنے کی کوشش کی، مگر وہ لڑکے سنتے کہاں ہیں۔"

قیصر علی کچھ دیر خاموش بیٹھا رہا۔ زینب نے اسلم کو گلے لگایا اور رونے لگی۔ "دیکھ لیا؟ تمہاری خاموشی کا نتیجہ؟ کل کو یہ لوگ ہمارا گھر جلا دیں گے اور تم تب بھی کہو گے خفیف سی بات ہے۔"


رات کو قیصر علی دیر تک جاگتا رہا۔ ذہن میں وہ سارے مناظر گھومتے رہے جنہیں اس نے کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا تھا — محلے کی مسجد کے سامنے نعرے بازی، پرکاش کی دکان پر لکھی گئی عبارت، خبروں میں روز کسی نہ کسی کو "دوسرا" ثابت کرنے کی کوشش۔ ہر بار اس نے سوچا تھا، یہ خفیف سی بات ہے، گزر جائے گی۔ مگر آج معلوم ہوا کہ یہ خفیف سی باتیں مل کر ایک ایسا پہاڑ بن چکی ہیں جو اس کے بیٹے کے مستقبل پر گر پڑا ہے۔صبح ہوئی تو پرکاش خود چل کر قیصر علی کے پاس آیا۔ "دوست، رات کو کچھ لوگ میری دکان کے باہر کھڑے تھے، دھمکیاں دے رہے تھے کہ دکان بند کر دو، ورنہ نتیجہ برا ہوگا۔" قیصر علی نے پرکاش کا ہاتھ تھاما، اور پہلی بار اس کی آنکھوں میں وہ چمک نظر آئی جو خاموشی نہیں، فیصلے کی علامت تھی۔

دونوں دوست سیدھا اس نوجوان کے پاس گئے جس نے پوسٹر لگایا تھا۔ نوجوان، جس کا نام سریش تھا، اپنے ساتھیوں کے ساتھ چائے پی رہا تھا، ہنس رہا تھا۔ پیچھے بھیا جی بھی موجود تھا، تماشا دیکھنے کے انداز میں کھڑا۔

بیٹا،" قیصر علی نے کہا، آواز کانپ رہی تھی مگر رکی نہیں، "تم نے کل جو پوسٹر لگایا، اس نے میرے بچے کا دل توڑ دیا۔ تم مجھے غدار کہتے ہو؟ میں نے اس مٹی میں اپنا باپ دفن کیا ہے، اپنی جوانی گزاری ہے۔"

پرکاش نے بھی آواز ملائی، "اور مجھے میرے بھائی کا ساتھی ہونے پر غدار کہا جاتا ہے؟ یہ کیسا انصاف ہے تمہارا؟"بھیا جی آگے بڑھا، طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ، "میاں، خفیف سی بات پر اتنا غصہ کیوں؟ ہم تو بس اپنی قوم کا حق مانگ رہے ہیں۔



یہ لفظ سنتے ہی قیصر علی کے اندر کچھ پھٹ گیا۔ وہی لفظ جو وہ برسوں سے اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے لیے استعمال کرتا رہا تھا، آج اس کے سامنے طنز بن کر واپس آیا۔

"خفیف؟" اس کی آواز بلند ہوئی، لوگ جمع ہونے لگے، محلے والے، دکاندار، اسکول جاتے بچے، سب رک گئے۔ "تم نے میری زندگی کے ہر ظلم کو خفیف کہہ کر مجھے چپ کرایا، اور میں چپ رہا۔ آج میرا بچہ رو رہا ہے، میرے دوست کی دکان کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور تم پھر وہی لفظ دہرا رہے ہو۔ نہیں میاں، اب کچھ خفیف نہیں۔ ہر بات جو تم لوگ ہم پر تھوپتے ہو، ہر نعرہ جو نفرت بانٹتا ہے، وہ خفیف نہیں، وہ زہر ہے، اور یہ زہر اب میری رگوں میں اتر چکا ہے۔"

مجمع میں سرگوشیاں شروع ہو گئیں۔ ایک بزرگ آگے بڑھا، مولوی صاحب، جو محلے کی مسجد کے امام تھے۔ انہوں نے قیصر علی کے کندھے پر ہاتھ رکھا، "بیٹا، غصہ جائز ہے، مگر انصاف کا راستہ اپناؤ، ہاتھ نہ اٹھاؤ۔" پھر وہ سریش کی طرف مڑے، "اور تم لوگ جو نفرت بانٹتے پھرتے ہو، یاد رکھو، جس دن یہ صبر ٹوٹے گا، وہ دن تمہارے لیے بھی اچھا نہ ہوگا۔"

بھیا جی کی مسکراہٹ اب غائب ہو چکی تھی۔ مجمع کا رخ بدلتا دیکھ کر اس کے ساتھی چپ ہو گئے۔ محلے کی عورتیں بھی نکل آئی تھیں، زینب سب سے آگے، آنکھوں میں آگ لیے۔ "ہم نے برسوں اکٹھے یہ محلہ بسایا ہے، تم جیسے لوگ باہر سے آ کر ہمیں لڑانا چاہتے ہو، یہ ہرگز نہیں ہوگا۔"

پرکاش نے سریش کی آنکھوں میں دیکھا اور کہا، "میں نے تمہیں گود میں کھلایا ہے، بیٹا۔ آج تم مجھے یہ سکھانے آئے ہو کہ میرا دوست کون ہے؟"

سریش کی نظریں جھک گئیں۔ بھیا جی نے موقع بھانپتے ہوئے کہا، "چلو یہاں سے، فضول کا جھگڑا ہے۔" اور اپنے ٹولے کے ساتھ رفو چکر ہو گیا۔

مجمع آہستہ آہستہ چھٹنے لگا، مگر قیصر علی وہیں کھڑا رہا، ہانپتا ہوا، جیسے برسوں کا بوجھ اتار پھینکا ہو۔ اسلم اور ونود دوڑ کر اس کے پاس آئے۔ اسلم نے پوچھا، "ابا، اب سب ٹھیک ہو جائے گا؟"

قیصر علی نے بیٹے کے سر پر ہاتھ رکھا، "ٹھیک تبھی ہوگا جب ہم خاموش رہنا چھوڑ دیں گے۔ خفیف سی باتیں کہہ کر ظلم کو نظرانداز کرنا خود ایک جرم ہے، بیٹا۔ آج سے میں نے یہ لفظ اپنی زبان سے نکال دیا۔"

اس دن کے بعد قیصر علی، پرکاش، اور محلے کے دوسرے لوگوں نے مل کر ایک چھوٹی سی کمیٹی بنائی، جو نفرت انگیز پوسٹروں اور تقریروں کے خلاف آواز اٹھاتی، محلے کے بچوں کو ساتھ بٹھا کر یہ سکھاتی کہ مذہب اور قومیت انسانوں کے درمیان دیوار نہیں، پل ہونی چاہیے۔ بھیا جی جیسے لوگ کچھ عرصہ اور اپنا زہر پھیلاتے رہے، مگر محلے کی متحد آواز کے آگے ان کا اثر دن بدن کمزور پڑتا گیا۔

اور قیصر علی، جسے کبھی "خفیف میاں" کہا جاتا تھا، اب محلے میں اس شخص کے طور پر جانا جاتا جس نے سکھایا کہ خاموشی کبھی کبھی سب سے بڑا ظلم بن جاتی ہے، اور غصہ، جب انصاف کے لیے ہو، ایک مقدس جذبہ ہے۔



ہر ظلم ابتدا میں خفیف سا لگتا ہے، مگر جب خاموشی اسے راستہ دے دے تو وہی خفیف بات ایک دن معاشرے کا سب سے بڑا بوجھ بن جاتی ہے۔ نفرت کے سامنے خاموش رہنا غیر جانب داری نہیں، بلکہ نفرت کو طاقت دینا ہے۔ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا غصہ نہیں، ذمہ داری ہے—اور جب آواز انصاف کے لیے اٹھے تو ایک خاموش انسان بھی پورے محلے کی آواز بن سکتا ہے۔

افسانہ : خفیف — از : جمیل احمد ملنسارؔ

بشکریہ : روزنامہ سالار - بنگلور

17AUGUST 2026


https://sadaemaharashtraurdunews.blogspot.com/2026/08/blog-post_89.html
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
For More Regular Urdu / English Updates - Join the LIknk Below
🔴 https://whatsapp.com/channel/0029VbBtiaH30LKTFW8gzU2e6
..............................................................✍️

Comments

Popular Posts