جب ربیع آئے تو دل بھی قریب ہوں
جب ربیع آئے تو دل بھی قریب ہوں
از: جمیل احمد ملنسارؔ، بنگلور
“محبتِ مصطفیٰ ﷺ صرف دل میں عقیدت رکھنے کا نام نہیں؛ یہ اُس محبت کو اپنے کردار، اپنی زبان اور اپنے معاملات میں زندہ کرنے کا نام ہے۔ اگر ربیع الاول ہمارے دلوں کے فاصلے کم نہیں کرتا تو ہمیں اپنے جشن سے زیادہ اپنے رویّوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔”
۱۲
ربیع الاول کا دن آتا ہے تو فضا میں صرف ایک تاریخ کی بازگشت نہیں ہوتی، دلوں میں ایک عظیم نسبت جاگ اٹھتی ہے۔ یہ وہ نسبت ہے جو کروڑوں مسلمانوں کو صدیوں سے ایک ہی مرکزِ محبت کے گرد جمع کرتی آئی ہے۔ نبیِ رحمت، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذاتِ اقدس سے وابستہ یہ دن ہمیں صرف ماضی کی ایک عظیم یاد کی طرف نہیں لے جاتا، بلکہ ہمارے حال کے آئینے میں بھی ایک بنیادی سوال رکھ دیتا ہے: کیا ہماری زندگی میں اُس محبت کی کوئی روشنی موجود ہے جس کا ہم دعویٰ کرتے ہیں؟
ربیع الاول کا چاند محض ایک نئے اسلامی مہینے کی آمد کا اعلان نہیں کرتا؛ یہ اُس عظیم ہستی ﷺ کی یاد تازہ کرتا ہے جن کی آمد نے انسانیت کو محبت، رحمت، عدل، امانت اور حسنِ اخلاق کا راستہ دکھایا۔ آپ ﷺ نے انسان کو صرف عبادات کا طریقہ نہیں سکھایا، بلکہ انسان بننے کا سلیقہ عطا کیا؛ دل رکھنے کا شعور دیا، دوسرے کے دکھ کو سمجھنے کی بصیرت دی، کمزور کے ساتھ کھڑے ہونے کا حوصلہ دیا اور اختلاف کے باوجود انسانی حرمت کو برقرار رکھنے کا درس دیا۔
اسی لیے ۱۲ ربیع الاول ہمیں خوشی کے ساتھ ساتھ احتساب کی دعوت بھی دیتا ہے۔
ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے کہ جس نبی ﷺ کی محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے، کیا ہماری زبان بھی اُس محبت کی گواہی دیتی ہے؟ کیا ہمارے لہجے میں نرمی ہے؟ کیا ہمارے معاملات میں دیانت ہے؟ کیا ہم اپنے سے کمزور انسان کے ساتھ وہی سلوک کرتے ہیں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں؟ کیا ہم معاف کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں؟ کیا ہم اختلاف کے باوجود کسی انسان کی عزت محفوظ رکھ سکتے ہیں؟
یہ سوال آسان نہیں ہیں، مگر شاید یہی سوال ربیع الاول کی اصل روح کو ہمارے قریب لے آتے ہیں۔
ہم نے اپنے معاشرے میں اختلافِ رائے کو دشمنی بنا لیا ہے۔ ایک معمولی نظریاتی اختلاف برسوں کی رفاقت پر بھاری پڑ جاتا ہے۔ ایک تلخ جملہ تعلق کی پوری تاریخ کو مٹا دیتا ہے۔ ایک غلط فہمی دلوں میں ایسی دیوار کھڑی کر دیتی ہے جسے پھر انا، ضد اور خاموشی مزید بلند کرتی چلی جاتی ہے۔ ہم بسا اوقات لوگوں سے اس لیے نہیں ٹوٹتے کہ انہوں نے کوئی ناقابلِ معافی جرم کیا ہوتا ہے، بلکہ اس لیے ٹوٹ جاتے ہیں کہ ہم میں پہل کرنے کی ہمت نہیں ہوتی۔
ربیع الاول ہمیں اسی مقام پر رکنے اور سوچنے کو کہتا ہے۔
عشقِ رسول ﷺ صرف محفلیں سجانے، نعتیں پڑھنے، چراغاں کرنے یا محبت کے دعوے دہرانے کا نام نہیں۔ یہ سب اپنی جگہ عقیدت کے اظہار کی صورتیں ہو سکتی ہیں، لیکن محبت کی اصل آزمائش وہاں شروع ہوتی ہے جہاں ہماری ذات، ہماری انا اور ہمارے مفادات سامنے آتے ہیں۔ اگر ہم کسی کو معاف نہیں کر سکتے، کسی کا دکھ نہیں سمجھ سکتے، کسی کمزور کے لیے اپنا وقت نہیں نکال سکتے، کسی ناراض شخص کی طرف ایک قدم نہیں بڑھا سکتے، تو ہمیں اپنے دعوائے محبت کے معنی پر ضرور غور کرنا چاہیے۔
نبیِ کریم ﷺ کی سیرت ہمیں بتاتی ہے کہ عظمت کا تعلق صرف قوت سے نہیں، رحمت کے استعمال سے ہے۔ اخلاق کی بلندی اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب انسان بدلے کی قدرت رکھتے ہوئے درگزر کرے، سختی کا جواب حلم سے دے اور اپنے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرے۔
آج، ۱۲ ربیع الاول کے موقع پر، شاید ہمیں اپنے گھروں، اپنے خاندانوں، اپنی بستیوں اور اپنی سماجی زندگی میں ایک چھوٹا سا انقلاب برپا کرنے کی ضرورت ہے۔ کسی ناراض عزیز کو فون کیا جا سکتا ہے۔ کسی پرانی رنجش کو دفن کیا جا سکتا ہے۔ کسی ایسے شخص کو سلام میں پہل کی جا سکتی ہے جس سے مدت سے بات نہیں ہوئی۔ کسی غریب کے دروازے پر خاموشی سے دستک دی جا سکتی ہے۔ کسی پریشان حال انسان کی بات چند لمحے بیٹھ کر سنی جا سکتی ہے۔
یہ چھوٹے کام بظاہر معمولی ہیں، مگر معاشرے انہی معمولی اعمال سے بدلتے ہیں۔
ہمیں ہر اختلاف ختم نہیں کرنا؛ اختلاف انسانی زندگی کا حصہ ہے۔ ہمیں ہر شخص سے متفق ہونا بھی ضروری نہیں۔ لیکن اختلاف کو نفرت میں تبدیل نہ کرنا ہمارے اختیار میں ضرور ہے۔ ہم اپنی رائے رکھ سکتے ہیں اور دوسرے کی عزت بھی۔ ہم اصول پر قائم رہ سکتے ہیں اور دل میں کدورت بھی نہ رکھیں۔ ہم اپنے موقف پر مضبوط رہ سکتے ہیں اور زبان کو شائستہ بھی رکھ سکتے ہیں۔
یہی وہ توازن ہے جس کی آج ہماری اجتماعی زندگی کو شدید ضرورت ہے۔
ربیع الاول ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ محبت صرف جذبات کا نام نہیں، ذمہ داری کا نام بھی ہے۔ جس ہستی ﷺ نے انسانوں کے درمیان اخوت، عدل اور رحمت کو فروغ دیا، اُن کی نسبت سے جڑا ہوا ہر شخص اپنے کردار میں ان اقدار کی حفاظت کا ذمہ دار ہے۔ اگر ہمارے گھروں میں رشتے ٹوٹ رہے ہوں، ہماری گفتگو میں زہر بڑھ رہا ہو، ہمارے معاشرے میں کمزور انسان بے سہارا ہو رہا ہو اور ہم صرف اپنی عقیدت کے اظہار میں مصروف ہوں تو ہمیں رک کر اپنے عمل کا جائزہ لینا چاہیے۔
۱۲ ربیع الاول کو ہمیں صرف یہ نہیں کہنا چاہیے کہ ہم نبی ﷺ سے محبت کرتے ہیں؛ ہمیں اپنی زندگی کو اس محبت کی دلیل بھی بنانا چاہیے۔
آئیے آج کوئی بڑا دعویٰ نہ کریں۔ صرف ایک سچا عہد کریں: ہم کسی کے دل کو اپنی زبان سے غیر ضروری طور پر نہیں توڑیں گے۔ جہاں ممکن ہوگا معافی میں پہل کریں گے۔ رشتوں کو انا پر قربان نہیں کریں گے۔ اختلاف کو دشمنی نہیں بننے دیں گے۔ کمزور کے لیے آواز اٹھائیں گے۔ اور اپنے اخلاق کو اپنی عقیدت کا سب سے نمایاں اظہار بنائیں گے۔
کیونکہ آخرکار نبیِ رحمت ﷺ کی یاد کا سب سے خوبصورت چراغ وہی ہے جو ہمارے اپنے کردار میں روشن ہو۔
ربیع الاول ہمیں صرف نبیِ کریم ﷺ کی یاد نہ دلائے؛ ہمیں اُن کی رحمت، محبت، صبر، عفو، عدل اور حسنِ اخلاق کا زندہ نمونہ بننے کی توفیق دے۔ ہمارے درمیان جو فاصلے ہیں وہ کم ہوں، جو دل ناراض ہیں وہ نرم ہوں، جو رشتے ٹوٹ گئے ہیں وہ جڑیں، اور ہماری اجتماعی زندگی میں وہ رحمت واپس آئے جسے ہم سب اپنے نبی ﷺ کی نسبت سے پہچانتے ہیں۔
اگر ربیع الاول ہمیں ایک دوسرے کے قریب لے آئے، تو شاید یہی اس مہینے کی سب سے خوبصورت خوشی اور محبتِ مصطفیٰ ﷺ کی سب سے خاموش مگر معتبر گواہی ہوگی۔

Comments
Post a Comment