ملال malaal

صنف: افسانہ نگاری
عنوان: ملال
ازقلم : جمیل احمد ملنسارؔ
رابطہ : 



919845498354+
شہر کے لوگ اسے الگ الگ نام دیتے تھے، مگر وہ خود اسے شہرِ نور کہلاتا تھا۔ شاید یہ نام تاریخی طور پر درست نہ ہو، مگر شہر کی فضا — دھند، روشنی اور خاموشی کا جو امتزاج تھا — اسی نے اسے یہ نام دے دیا تھا۔ شام ہوتے ہی گلیاں ایک ایسے سکوت میں ڈوب جاتی ہیں جو شور سے زیادہ بھاری لگتا، اور ہوا میں ایسی نمی ہوتی جیسے کسی پرانے زخم کی پٹی ابھی تک کھلی پڑی ہو۔
اُس شام احمد اپنی چھت پر کھڑا تھا۔ ہاتھ میں چائے کا کپ تھا، مگر چائے سرد پڑی تھی۔ سامنے دھند کا پتلا پردہ تھا، افق دھندلا دکھائی دے رہا تھا۔ احمد ایک مدرسے میں اردو پڑھاتا تھا۔ کام روزمرہ کا تھا — حاضری، سبق، وہی چہرے، وہی میزیں، وہی کتابیں۔ پھر بھی روزمرہ کے بیچ ایک خلا اس کا پیچھا کرتا رہتا۔ اس خلا کا نام وہ کافی عرصے سے زبان پر نہیں لاتا تھا: سمیرا۔
سمیرا گھر کی رونق تھی۔ کچھ ماہ پہلے بیماری نے اسے چھین لیا تھا، مگر جانے کے بعد اس کی یاد اور بھی گہری ہو گئی۔ اس کی آواز، قدموں کی آہٹ، چولہے کے پاس کھڑے ہو کر زیرِلب پڑھنا—یہ سب گھر کی دیواروں میں ایسے بس گئے جیسے خوشبو کپڑوں میں گھس جائے۔ گھر تو تھا، سامان بھی تھا، لوگ سانس بھی لے رہے تھے، مگر سب کچھ کسی نامکمل جملے جیسا محسوس ہوتا۔
زینب، ان کی سولہ سالہ بیٹی، کمرے کے دروازے کے پاس بیٹی کتاب الٹ پلٹ رہی تھی مگر آنکھیں الفاظ پر نہیں، کسی خالی جگہ پر تھیں۔ اس عمر میں دکھ عموماً خاموش رہتا ہے، مگر یہ خاموشی اندر ہی اندر سب کچھ کھا جاتی ہے۔ وہ کبھی ماں کی جگہ نماز کو لپیٹتی، کبھی کھولتی، کبھی آنچل اپنے کندھے پر رکھ لیتی۔ زینب کے لیے ملال کوئی ایک واقعہ نہیں تھا؛ وہ یادوں کی ایک لہر تھی جو کنارے پر آ کر بھی پیچھے نہیں ہٹتی۔
دروازہ کھلا تو حلیم اندر آیا۔ وہ احمد کا چھوٹا بھائی تھا، عمر میں تیس کے قریب، مزاج میں ہلکا پھلکا مگر آنکھوں میں ایک تھکن جو ہنسی کے پیچھے چھپی رہتی تھی۔ وہ بازار سے ایک سادہ سا گلدان لایا تھا۔
“گھر میں رنگ بھی ہونا چاہیے نا؟” حلیم نے مسکراتے ہوئے کہا۔
احمد نے گلدان کی طرف دیکھا، پھر حلیم کی طرف۔ ایک جملے میں اس نے بھائی کی کوشش بھی دیکھی اور اس کا بے نام اضطراب بھی۔ حلیم کی نوکری کچھ عرصے سے پکی نہیں تھی۔ وہ ہنستا تھا، مگر اس کی ہنسی اکثر اس کے دکھ کا پردہ ہوتی۔
پھر محلے کی سلیمہ بیگم آئیں۔ بزرگ تو تھیں مگر باتوں میں زندگی کی سچائیاں تھیں۔ قدم آہستہ، بول چال میں وہ مہر تھی جو بند دل کھول دیتی۔ بیٹھتے ہی انہوں نے چائے مانگی اور کہا، “بیٹا، ملال نیا نہیں ہوتا۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم اسے کتنی دیر تک اپنے ساتھ لے چلتے ہیں۔ کچھ دکھ آدمی کو توڑ دیتے ہیں، اور کچھ نرم کر دیتے ہیں۔”
احمد نے غور سے سلیمہ بیگم کی بات سنی۔ محسوس ہوا یہ نصیحت نہیں، تجربے سے اترنے والی حقیقت تھی۔
رات گہری ہوئی تو شہرِ نور کی گلیوں میں چراغ ایک ایک کر کے جلنے لگے۔ دور کہیں مسجد سے عشا کی اذان سنائی دی۔ احمد نے چھت سے اترتے ہوئے سمیرا کی آخری بات یاد کی: “گھر وہ جگہ نہیں جہاں صرف چار دیواری ہوں؛ گھر تو وہ ہے جہاں دل ایک دوسرے کے دکھ کو سمجھیں۔”
اندر آ کر زینب نے سر اٹھا کر دیکھا۔ آنکھوں میں نمی تھی، مگر وہ شکست کی نہیں—ایک سوال تھا۔
“ابا، ماں کی یاد کبھی کم ہوتی ہے کیا؟” زینب نے پوچھا۔
احمد چلّاتی خاموشی کے بعد بولا، “یاد کم نہیں ہوتی، بیٹا۔ بس انسان اس کے ساتھ جینا سیکھ لیتا ہے۔”
حلیم نے گلدان کھڑکی کے پاس رکھا۔ “تو پھر ملال ہمیشہ رہے گا کیا؟” اس نے پوچھا۔
“رہتا تو ہے، مگر اپنی شکل بدل لیتا ہے۔ کبھی آنسو بن کر نکل آتا ہے، کبھی خاموشی بن جاتا ہے، کبھی کسی اداس غزل کا مصرعہ بن جاتا ہے، اور کبھی صبح کی پہلی روشنی بن کر لوٹ آ جاتا ہے،” سلیمہ بیگم نے کہا۔
وہ چاروں دیر تک بیٹھے رہے اور باتیں کرتے رہے۔ زینب نے ماں کی یاد میں لکھی کچھ سطریں پڑھی۔ حلیم نے اپنی مایوسیوں کا ذکر کیا۔ سلیمہ بیگم نے اپنی جوانی کا ایک پرانا دکھ سنایا جو برسوں کے بعد بھی ان کی آواز میں سنائی دیتا تھا۔ اور احمد، جو طویل عرصے تک چپ رہا، آخرکار بولا، “میں سمجھتا تھا ملال ہمیں زندگی سے دور کر دے گا، مگر شاید وہ ہمیں زندگی کے اور قریب لے آتا ہے۔”
یہ بات کہتے ہی احمد کے اندر کہیں جم سی ہوئی یخ تہہ پگھلتی محسوس ہوئی۔
اگلی صبح ہلکی دھند چھائی ہوئی تھی۔ زینب نے ماں کی پرانی ڈائری کھولی اور ایک سطر کاغذ پر کاٹ کر کھڑکی کے پاس رکھ دی:
“جو چیز چلی جاتی ہے، وہ ہمیں خالی نہیں چھوڑتی؛ وہ ہمیں اندر سے گہرا بنا دیتی ہے۔”
حلیم نے بازار جانے سے پہلے احمد کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ سلیمہ بیگم نے کافی عرصے بعد اپنے بیٹے کو فون کیا۔ احمد نے چھت پر جا کر خالی کپ کو دیکھا اور سمجھا کہ دکھ ابھی ہے، مگر اب وہ تنہائی نہیں رہا۔
شاید اسی شہر میں ہر صبح ایک جیسی نہیں نکلتی۔ اس دن کی صبح تھوڑی مختلف تھی۔ ملال موجود تھا، مگر اس نے دلوں میں ایک نرم روشنی جل دی—جو دکھ کو ختم نہیں کرتی، بس اس میں رہنے کا حوصلہ دیتی ہے۔
اور شاید یہی زندگی ہے:
غم کے بیچ بھی محبت کا قائم رہنا، اور ملال کے اندر بھی
انسان کا انسان رہ جانا۔




Comments

Popular Posts