اعلیٰ تعلیم میں عہدے اور خالی آسامیاں: کرناٹک میں اردو اساتذہ کی بھرتی کا المیہ

 

اعلیٰ تعلیم میں عہدے اور خالی آسامیاں: کرناٹک میں اردو اساتذہ کی بھرتی کا المیہ



از: جمیل احمد ملنسارؔ، بنگلور


سرکاریں جب اعداد و شمار پیش کرتی ہیں تو منظر ہمیشہ خوش نما دکھائی دیتا ہے۔ کتنے عہدے پُر ہوئے، کتنے نئے تقرر ہوئے، کتنے ہزار نوجوانوں کو روزگار ملا—یہ اعداد اپنی جگہ اہم ہیں۔ مگر کسی بھی سرکاری دعوے کی اصل حقیقت فائلوں میں نہیں، زمین پر دکھائی دیتی ہے۔

اور کرناٹک میں اردو اساتذہ کی بھرتی کا معاملہ اسی زمینی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

مرکزی حکومت ’’مشن موڈ‘‘ میں ہزاروں خالی عہدے پُر کرنے کی بات کرتی ہے، جن میں بڑی تعداد تدریسی عہدوں کی ہے۔ دوسری طرف کرناٹک حکومت نے 15,000 اساتذہ کی بھرتی کا اعلان کیا ہے۔ بظاہر یہ ایک بڑی اور خوش آئند پیش رفت ہے۔ مگر جب اسی بھرتی میں اردو میڈیم اسکولوں کی ضرورت اور اردو اساتذہ کی خالی آسامیوں کو دیکھا جاتا ہے تو تصویر اچانک بدل جاتی ہے۔

سوال سیدھا ہے: اگر اتنی بڑی تعداد میں اساتذہ کی بھرتی ہو رہی ہے تو اردو اساتذہ کہاں ہیں؟

یہ سوال کسی جذباتی مطالبے سے زیادہ ایک بنیادی تعلیمی ضرورت کا سوال ہے۔

کرناٹک میں اردو میڈیم تعلیم کوئی معمولی یا محدود تجربہ نہیں۔ ریاست میں ہزاروں اردو میڈیم سرکاری اسکول برسوں سے کام کر رہے ہیں۔ ان میں ایسے بچے پڑھتے ہیں جن کے لیے اردو صرف گھر میں بولی جانے والی زبان نہیں بلکہ علم حاصل کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔ ان اسکولوں میں استاد کی کمی کا مطلب محض ایک خالی کرسی نہیں۔ اس کا براہِ راست اثر بچے کی تعلیم پر پڑتا ہے۔

اور یہی وہ نکتہ ہے جسے سرکاری منصوبہ بندی میں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

15,000 اساتذہ کی بھرتی بلاشبہ ایک بڑا قدم ہے۔ لیکن اگر اس بھرتی میں ان اسکولوں کی ضرورت شامل ہی نہ ہو جہاں پہلے سے اساتذہ کم ہیں، تو سوال اٹھنا لازمی ہے۔ اردو میڈیم اسکولوں میں برسوں سے تدریسی خلا موجود ہو اور نئی بھرتی کے باوجود وہ خلا برقرار رہے تو اسے محض ’’انتظامی بھول‘‘ کہہ دینا مسئلے کی سنگینی کو کم کر دیتا ہے۔

یہاں ایک اور غلط فہمی دور کرنا بھی ضروری ہے۔

اردو اساتذہ کی بھرتی کسی ایک طبقے پر احسان نہیں۔ یہ حکومت کی تعلیمی ذمہ داری ہے۔

جس طرح کنڑ میڈیم اسکول میں کنڑ کے استاد کی ضرورت بنیادی سمجھی جاتی ہے، اسی طرح اردو میڈیم اسکول میں اردو پڑھانے والے استاد کی ضرورت بھی بنیادی ہے۔ اس میں رعایت یا خصوصی مہربانی کی کوئی بات نہیں۔ یہ ایک قائم شدہ تعلیمی نظام کو اس کے تقاضوں کے مطابق چلانے کا معاملہ ہے۔

بدقسمتی سے زبان کے سوال پر ہمارے معاشرے میں اکثر غیر ضروری سیاست حاوی ہو جاتی ہے۔ اردو کا نام آتے ہی اسے ایک مخصوص مذہبی شناخت کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے۔ یہ رویہ نہ زبان کو سمجھتا ہے، نہ تعلیم کو۔

زبان کسی ایک مذہب کی ملکیت نہیں ہوتی۔

اردو نے ہندوستان کی تہذیب، ادب، صحافت، موسیقی اور عوامی زندگی میں صدیوں تک اپنا کردار ادا کیا ہے۔ آج بھی یہ ملک کی متعدد ریاستوں میں لاکھوں لوگوں کے لیے اظہار اور تعلیم کی زبان ہے۔ اس لیے اردو میڈیم اسکول کے بچے کو اپنی زبان میں معیاری تعلیم فراہم کرنا کسی طبقے کو خوش کرنا نہیں، بلکہ اس بچے کے تعلیمی حق کا احترام ہے۔

اس مسئلے کا سب سے تکلیف دہ پہلو شاید وہ نوجوان ہیں جو اردو میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد استاد بننے کا خواب دیکھتے ہیں۔

ذرا ان کے بارے میں سوچیے۔

ایک نوجوان برسوں تعلیم حاصل کرتا ہے، امتحانات کی تیاری کرتا ہے، اپنی اہلیت بناتا ہے، گھر والوں کی امیدیں اس سے وابستہ ہوتی ہیں۔ پھر جب سرکاری بھرتی کا موقع آتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی زبان کے لیے ہی مناسب آسامیاں موجود نہیں۔

سرکاری کاغذ پر یہ صرف ’’آسامی نہ ہونے‘‘ کی ایک سطر ہے۔

مگر اس نوجوان کے لیے یہ برسوں کی محنت، انتظار اور امید کا سوال ہے۔

اور اس کہانی کا دوسرا کردار وہ بچہ ہے جو اردو میڈیم اسکول میں بیٹھا اپنے استاد کا انتظار کر رہا ہے۔ اس کے لیے بھی یہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں۔ استاد نہ ہو تو نصاب رہ جاتا ہے، کتاب رہ جاتی ہے، اسکول رہ جاتا ہے—مگر تعلیم کا وہ انسانی رشتہ کمزور پڑ جاتا ہے جس کے بغیر اسکول محض ایک عمارت بن کر رہ جاتا ہے۔

اسی لیے کرناٹک حکومت کو اس معاملے کو محض ایک سیاسی شکایت کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔

وجے پورہ میں اس مسئلے پر احتجاج ہوا ہے۔ اردو میڈیم کے ساتھ مبینہ ناانصافی کے خلاف آوازیں اٹھی ہیں۔ سیاسی سطح پر بھی معاملہ اٹھایا گیا ہے اور 18 اگست کو ایم ایل سی بلقیس بانو کی جانب سے وزیر تعلیم مدھو بنگارپا اور اقلیتی امور کے وزیر یو ٹی خادر سے اس مسئلے پر گفتگو کی اطلاع سامنے آئی ہے۔

یہ اچھی بات ہے۔

لیکن اب اگلا قدم بھی ضروری ہے۔

ملاقات کے بعد فیصلہ ہونا چاہیے، اور فیصلے کے بعد عمل۔

حکومت کو 15,000 اساتذہ کی بھرتی کے عمل کا فوری جائزہ لینا چاہیے اور اردو میڈیم اسکولوں میں موجود حقیقی ضرورت کے مطابق اردو اساتذہ کی آسامیاں شامل کرنی چاہئیں۔ ہر ضلع میں اردو میڈیم اسکولوں کی منظور شدہ، موجود اور خالی تدریسی آسامیوں کا ریکارڈ سامنے آنا چاہیے۔ یہ تفصیل عوام سے چھپانے کے بجائے شفاف انداز میں پیش کی جائے تاکہ معلوم ہو سکے کہ ضرورت کتنی ہے اور تقرری کتنی ہوئی ہے۔

اس کے ساتھ ایک مستقل نظام بھی بننا چاہیے۔

ہر بار اردو اساتذہ کی بھرتی کے لیے احتجاج ہو، وفد ملے، درخواست دی جائے اور پھر حکومت حرکت میں آئے—یہ کوئی پائیدار طریقہ نہیں۔ جہاں اردو میڈیم اسکول موجود ہیں، وہاں طلبہ کی تعداد، کلاسوں اور تعلیمی ضرورت کے مطابق اساتذہ کی باقاعدہ منصوبہ بندی ہونی چاہیے۔ اردو کو ہر نئی بھرتی میں الگ سے یاد کرنے کے بجائے اسے ریاست کے تعلیمی نظام کا مستقل حصہ سمجھنا ہوگا۔

یہ مسئلہ صرف اردو کا نہیں، دراصل حکمرانی کے معیار کا بھی ہے۔

ایک اچھی حکومت وہ نہیں جو صرف بڑے اعداد پیش کرے؛ اچھی حکومت وہ ہے جو یہ بھی دیکھے کہ ان اعداد کے پیچھے کون رہ گیا۔

اگر 15,000 اساتذہ بھرتی ہو رہے ہیں تو یہ خوشی کی بات ہے۔ مگر اس خوشی کا مطلب تب مکمل ہوگا جب ان اسکولوں تک بھی پہنچے جہاں استاد کی کمی پہلے سے موجود ہے۔ ترقی کا اصل امتحان یہی ہے کہ نظام ان لوگوں تک بھی پہنچے جن کی آواز سب سے کم سنائی دیتی ہے۔

اردو اساتذہ آج کسی غیر معمولی رعایت کا مطالبہ نہیں کر رہے۔ وہ صرف یہ پوچھ رہے ہیں کہ جہاں اردو میڈیم اسکول موجود ہیں، جہاں بچے موجود ہیں اور جہاں استاد کی ضرورت موجود ہے، وہاں استاد کی آسامی کیوں موجود نہیں؟

یہ سوال کسی سیاسی جماعت کے خلاف نہیں۔ یہ کسی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی خواہش بھی نہیں۔

یہ ایک سیدھا سا تعلیمی سوال ہے۔

اور اس کا جواب بھی سیدھا ہونا چاہیے۔

اگر اسکول ہے تو استاد چاہیے۔
اگر بچہ ہے تو تعلیم چاہیے۔
اور اگر اردو میڈیم اسکول ہے تو اردو استاد بھی چاہیے۔

اب وقت ہے کہ اس حقیقت کو فائل سے نکال کر فیصلے کی میز تک لایا جائے۔

کیونکہ زبانیں صرف تقریروں سے زندہ نہیں رہتیں۔

زبانیں تب زندہ رہتی ہیں جب ان کے بچے پڑھتے ہیں، ان کے استاد پڑھاتے ہیں، اور حکومت ان کے حقِ تعلیم کو سنجیدگی سے تسلیم کرتی ہے۔

Comments

Popular Posts