کلدیپ نیر: اردو کے چراغ کو روشن رکھنے والا صحافی
کلدیپ نیر: اردو کے چراغ کو روشن رکھنے والا صحافی
از: جمیل احمد ملنسارؔ، بنگلور
23
اگست ہندوستانی صحافت کی تاریخ میں ایک ایسے نام کی یاد تازہ کرنے کا دن ہے جس نے نصف صدی سے زیادہ عرصے تک قلم کو عوامی شعور، جمہوری اقدار اور انسانی حقوق کے لیے وقف رکھا۔ کلدیپ نیر کا شمار ان صحافیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے خبر کو محض اطلاع نہیں، بلکہ سماج کے ضمیر کی آواز سمجھا۔ ان کی صحافت کا دائرہ سیاست، سفارت کاری، انسانی حقوق، ہندو-مسلم تعلقات، بھارت-پاکستان روابط اور جمہوریت کے بنیادی سوالات تک پھیلا ہوا تھا۔ لیکن ان کی شخصیت کا ایک پہلو ایسا بھی ہے جسے آج کی نسل نسبتاً کم جانتی ہے: اردو زبان سے ان کی گہری وابستگی۔
کلدیپ نیر کو عموماً انگریزی صحافت کے ایک بڑے نام کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ ان کے کالم ملک کے بڑے انگریزی اخبارات میں شائع ہوتے تھے، ان کی کتابیں بین الاقوامی سطح پر پڑھی جاتی تھیں اور وہ برطانیہ میں ہندوستان کے ہائی کمشنر بھی رہے۔ لیکن ان کی فکری اور تہذیبی جڑیں اردو سے وابستہ تھیں۔ تقسیمِ ہند سے پہلے کے سیالکوٹ کی گلیوں میں پروان چڑھنے والی ان کی شخصیت پر اردو زبان اور اس کی تہذیب کے نقوش ہمیشہ قائم رہے۔
یہ محض ایک جذباتی تعلق نہیں تھا۔ کلدیپ نیر نے اردو کو اپنی شناخت کا حصہ سمجھا۔ ان کے مضامین اور کالم جب اردو اخبارات میں شائع ہوتے تو ان کا انداز انگریزی تحریروں کے ترجمے جیسا نہیں لگتا تھا بلکہ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ایک ایسا شخص گفتگو کر رہا ہو جو زبان کی روح سے واقف ہو۔ ان کی تحریروں میں سادگی تھی، روانی تھی اور سب سے بڑھ کر ایک انسانی درد تھا۔ یہی درد انہیں دوسروں سے ممتاز بناتا تھا۔
اردو کے حوالے سے ان کا سب سے اہم کارنامہ شاید یہ تھا کہ انہوں نے اس زبان کو کسی مذہبی یا سیاسی خانے میں محدود کرنے کی کوششوں کی مسلسل مخالفت کی۔ ان کے نزدیک اردو ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی میراث تھی۔ وہ بارہا لکھتے اور کہتے رہے کہ اردو صرف ایک زبان نہیں بلکہ ہندوستانی تاریخ، ثقافت اور گنگا جمنی روایت کا ایک اہم حوالہ ہے۔ ایسے وقت میں جب زبانوں کو شناختی سیاست کا ہتھیار بنایا جا رہا تھا، کلدیپ نیر اردو کے حق میں ایک معتدل، باوقار اور مؤثر آواز بن کر سامنے آئے۔
ان کی کتابوں اور کالموں میں تقسیمِ ہند کے زخموں کا ذکر بار بار ملتا ہے، لیکن وہ نفرت کی داستان نہیں سناتے۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ تاریخ کی سب سے بڑی المیوں کے باوجود انسانیت اور مکالمہ ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وہ بھارت اور پاکستان کے درمیان امن کی کوششوں کے سب سے مضبوط حامیوں میں شمار کیے جاتے تھے۔ واہگہ بارڈر پر شمعیں روشن کرنے کی علامتی مہم ہو یا دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان رابطوں کی وکالت، ان کے خیالات میں ہمیشہ ایک انسانی اور تہذیبی رشتہ موجود رہتا تھا۔
آج جب صحافت تیزی، سنسنی اور نظریاتی تقسیم کے دباؤ کا شکار ہے، کلدیپ نیر کی تحریریں ایک مختلف معیار کی یاد دلاتی ہیں۔ وہ ہمیں بتاتی ہیں کہ صحافی کا کام صرف سوال اٹھانا نہیں بلکہ سماج کے ضمیر کو زندہ رکھنا بھی ہے۔ اسی طرح ان کا اردو سے تعلق ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ زبانیں دیواریں نہیں بلکہ پل بناتی ہیں۔
کلدیپ نیر کی برسی پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ ہم ان کی صحافتی دیانت، انسانی اقدار اور اردو سے ان کی محبت کو یاد رکھیں۔ ان کا قلم خاموش ہو چکا ہے، لیکن ان کے خیالات آج بھی زندہ ہیں۔ اور اردو کے صفحات پر بکھرے ان کے الفاظ اب بھی یہ گواہی دیتے ہیں کہ ایک سچا صحافی اپنے زمانے سے آگے جیتا ہے۔

Comments
Post a Comment