واٹس ایپ سے ٹیلی گرام: کیوں یہ محض ایک متبادل نہیں، بلکہ ایک انقلاب ہے؟
واٹس ایپ سے ٹیلی گرام
کیوں یہ محض ایک متبادل نہیں، بلکہ ایک انقلاب ہے؟
از : جمیل احمد ملنسار - بنگلور
موبائل: 9845498354
ہم سب واٹس ایپ میں الجھے ہوئے ہیں۔ مگر کڑوا سچ یہ ہے کہ ہم ایک مکمل، آزادانہ مواصلاتی پلیٹ فارم استعمال نہیں کر رہے۔ ٹیلی گرام محض ایک متبادل
نہیں؛ یہ ایک انقلاب ہے۔کلاؤڈ اسٹوریج: واٹس ایپ پر کوئی تصویر بھیجیں تو وہ آپ کے فون کی میموری کو کھاتی چلی جاتی ہے۔ ٹیلی گرام میں ایسا نہیں۔ یہاں بھیجا گیا ہر پیغام، ہر تصویر، ہر ویڈیو ٹیلی گرام کی بے پناہ کلاؤڈ اسٹوریج میں محفوظ رہتا ہے۔ آپ کا فون بدل جائے، خالی ہو جائے، آپ کا ڈیٹا وہیں موجود رہتا ہے۔ یہ ایک ڈیجیٹل ورثہ ہے۔
سیکریٹ چیٹ: واٹس ایپ "اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن" کا ڈھول پیٹتا ہے۔ مگر ٹیلی گرام کی 'سیکریٹ چیٹ' سہولت اس سے ایک قدم آگے ہے۔ یہاں بھیجے گئے پیغامات سرور پر بھی محفوظ نہیں ہوتے۔ ایک مقررہ وقت کے بعد وہ خود بخود مٹ جاتے ہیں۔ آپ کی گفتگو صرف آپ اور آپ کے دوست کی ملکیت ہے۔ یہی اصل نجی پن ہے۔
گروپ کی وسعت: واٹس ایپ گروپ میں زیادہ سے زیادہ 512 ارکان ہو سکتے ہیں۔ ٹیلی گرام میں؟ 2,00,000 تک ایک گروپ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ یہ معمولی فرق نہیں؛ یہ ایک معاشرہ بنانے، ایک فکر پھیلانے کا موقع ہے۔ ایک چینل کے ذریعے لاکھوں لوگوں تک پہنچا جا سکتا ہے۔ یہ جمہوریت کی حقیقی شکل ہے۔
شیڈولڈ میسجز: کوئی پیغام ابھی لکھ کر کل صبح 6 بجے بھیجنے کا ٹیلی گرام موقع دیتا ہے۔ یہ معمولی سہولت لگ سکتی ہے۔ مگر یہ آپ کی مواصلات کو اگلے مرحلے پر لے جاتی ہے۔ آپ سو رہے ہوں، مگر آپ کے الفاظ دنیا تک پہنچ رہے ہوں۔
نتیجہ: واٹس ایپ ایک سہولت والا آلہ ہے۔ مگر ٹیلی گرام ایک آزاد پلیٹ فارم ہے۔ یہ آپ کے ڈیٹا کی قدر کرتا ہے، آپ کی نجی حفاظت کرتا ہے، آپ کی آواز کو بلند کرتا ہے۔
ہم واٹس ایپ سے ٹیلی گرام کی طرف منتقل ہوں، تو یہ ایک معمولی ایپ سے ایک انقلابی تحریک کی طرف منتقلی جیسی ہے۔ یہ محض تکنیکی تبدیلی نہیں؛ یہ ذہنیت کی تبدیلی ہے۔
آپ کی نجی زندگی، آپ کا ڈیٹا، آپ کی آزادی — یہ سب آپ کے ہاتھ میں ہے۔ انتخاب کریں۔
Comments
Post a Comment