بھیگی چھتری



 

بھیگی چھتری

ازقلم : جمیل احمد ملنسارؔ

بارش اس شام شہر پر یوں اتری تھی جیسے آسمان کئی دن سے روکے ہوئے آنسو ایک ساتھ بہا دینا چاہتا ہو۔ سڑکوں پر گاڑیوں کی سرخ اور زرد بتیاں پانی میں ٹوٹ کر بکھر رہی تھیں۔ فٹ پاتھ پر لوگ چھتریوں کے نیچے سمٹے ہوئے تھے اور ہر شخص کے ہاتھ میں ایک روشن موبائل تھا۔ یوں لگتا تھا جیسے شہر میں ہزاروں چراغ ہیں، مگر کسی کے چہرے پر روشنی نہیں۔

سلمان بھی اسی ہجوم کا ایک آدمی تھا۔

دفتر سے نکلتے ہوئے اس نے موبائل دیکھا۔ باس کا پیغام تھا، بینک کا الرٹ تھا، ایک آن لائن دکان کی پیش کش تھی اور سوشل میڈیا پر چند مبارک بادیں۔ سب کچھ تھا، سوائے اس ایک پیغام کے جس کا اسے کئی دنوں سے انتظار تھا۔

گھر پہنچ کر کوئی اس سے پوچھے، ’’آج دن کیسا گزرا؟‘‘

بس اسٹاپ پر پہنچا تو اس کی نظر ایک بوڑھے آدمی پر پڑی۔ وہ بارش میں بھیگ رہا تھا۔ سفید قمیص کندھوں سے چپک گئی تھی اور ہاتھ میں پکڑا موبائل بار بار بجھ جاتا تھا۔

سلمان نے قریب جا کر پوچھا، ’’بابا، چھتری نہیں ہے؟‘‘

بوڑھے نے موبائل کی طرف دیکھ کر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، ’’ہے تو سہی۔ بیٹی نے آن لائن منگوائی تھی۔ پیغام آیا ہے کہ راستے میں ہے۔‘‘

سلمان نے پوچھا، ’’آپ کی بیٹی کہاں رہتی ہیں؟‘‘

’’دبئی۔‘‘

ایک لمحے کے لیے دونوں خاموش رہے۔ بارش ان کے درمیان بولتی رہی۔

سلمان نے اپنی چھتری بوڑھے کی طرف بڑھا دی۔’’آپ خود کیسے جائیں گے؟‘‘

میں تو روز بھیگتا ہوں۔ سلمان نے بےاختیار کہا۔

بوڑھے نے اس کی طرف غور سے دیکھا۔ شاید اس نے جملے کے پیچھے چھپی ہوئی تھکن سن لی تھی۔

’’بیٹا، بھیگنا برا نہیں ہوتا۔ اکیلے بھیگنا برا ہوتا ہے۔‘‘یہ کہہ کر وہ چھتری لے کر چل دیا۔

سلمان دیر تک بارش میں کھڑا رہا۔ اس نے موبائل نکالا۔ اسکرین پر پھر کئی پیغامات تھے۔ اس نے سب بند کر دیے۔اگلی صبح بس اسٹاپ کے پاس ایک چھوٹی سی پلاسٹک کی تھیلی پڑی تھی۔ اندر ایک نئی چھتری تھی اور ایک تہہ کیا ہوا کاغذ۔

اس پر لکھا تھا:

’’کل آپ بھیگ رہے تھے۔ آج میری باری تھی کہ میں آپ کو بھیگنے سے بچاؤں۔—یوسف‘‘

سلمان نے چھتری کھولی۔ آسمان صاف تھا۔

وہ مسکرایا۔ پھر اسے خیال آیا کہ شاید انسان کی زندگی میں کچھ لوگ بارش کی طرح آتے ہیں؛ خاموش، بےخبر اور مختصر۔ مگر جاتے جاتے مٹی میں ایسی خوشبو چھوڑ جاتے ہیں جسے کوئی الگورتھم، کوئی اسکرین اور کوئی مصنوعی تعلق پیدا نہیں کر سکتا۔اس دن سلمان نے پہلی بار اپنے موبائل کی رابطہ فہرست کھولی۔ بہت سے نام تھے۔ کچھ ایسے بھی جن سے برسوں بات نہیں ہوئی تھی۔اس نے سب کو پیغام نہیں بھیجا۔

صرف ایک نمبر ملایا۔’’امی، آپ جاگ رہی ہیں؟‘‘

دوسری طرف چند لمحے خاموشی رہی، پھر ایک بہت مانوس آواز آئی:

’’ہاں بیٹا… تم ٹھیک ہو؟‘‘

سلمان نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔

بارش ختم ہو چکی تھی، مگر شہر کی سڑکیں اب بھی بھیگی ہوئی تھیں۔

اس نے آہستہ سے کہا:

’’آج ٹھیک ہوں، امی۔‘‘


Comments

Popular Posts