Sunday, 30 November 2025

رانچی کی چکنی پچ پر وراٹ کا تخت نشینی - ہبھارت کی 17 رنز کی فتح




جمیل احمد ملنسار

کرکٹ کا میدان وراٹ کے لیے محض گھاس کا ٹکڑا نہیں، بلکہ وہ تخت ہے جہاں وہ بادشاہ بنتے ہیں۔ رانچی کے جے ایس سی اے اسٹیڈیم میں اتوار کو یہی منظر نظر آیا— ایک ایسی سنچری جو نہ صرف اعداد و شمار کی فتح تھی بلکہ جذبے کی للکار بھی۔ 120 گیندوں پر 135 رنز، 52ویں ون ڈے سنچری— یہ وراٹ کا وہ انداز تھا جو کلاسیکی خوبصورتی کو تیزی کے جذبے سے ملاتا ہے۔ بھارت نے 8 وکٹ پر 349 رنز بنائے، اور جنوبی افریقہ 332 پر ڈھیر ہوا۔ 17 رنز کی یہ جیت محض اسکور بورڈ کی نہیں، بلکہ ایک عہد کی یاد تازہ کرنے والی تھی۔

نئی گیند سے ہرشت رانا کا طوفان— تین وکٹیں، صرف 11 رنز پر پروٹیز کے تین ستون گرے۔ ٹمبا باووما، ایڈن مارکرم، راسی وین ڈر ڈوسن— سب رانا کا شکار۔ پھر مارکو جانسن کا 84 رنز کا طوفان اور میتھیو بریٹزکے کی نصف سنچری نے 69 گیندوں میں 97 رنز جوڑے۔ کوربن بوش کے 62 نے امید جگائی، مگر کلدیپ یادو کی 4 وکٹیں اور ارشدیپ سنگھ کی سمجھداری نے میچ سنبھال لیا۔ یہ میچ لڑائی تھی— جہاں ہر گیند ایک موڑ، ہر وکٹ ایک سبق۔

وراٹ کی اننگز کا جادو یہ تھا کہ پچ سست ہونے پر بھی ان کا بلّا بولتا رہا۔ شریاس آئیر کے 67 اور سوریا کمار کے 45 نے سہارا دیا، مگر وراٹ وہ ستون تھے جن کی چھاؤں میں ٹیم نے بڑا اسکور کھڑا کیا۔ یہ سنچری محض رنز نہیں، بلکہ ایک پیغام تھی— کہ 37 برس کی عمر میں بھی یہ شیر جوان ہے۔

میچ کے بعد وراٹ کا بیان: "پچ سست ہوگئی تھی، 340 پلاس نے فائدہ دیا۔" یہ الفاظ نہ صرف حکمت بتاتے ہیں بلکہ تجربے کی گہرائی بھی۔ چیمپئنز ٹرافی سے پہلے یہ اننگز بھارت کو یقین دلاتی ہے کہ ان کا مرکزی ستون ابھی مضبوط ہے۔ رانچی کا ہجوم ان کے نام کا نعرہ لگاتا رہا— یہ محبوبیت کی گواہی تھی-

رائے پور میں بدھ کو دوسرا میچ— سیریز 1-0 سے بھارت کے ہاتھ میں۔ مگر یہ میچ وراٹ کی کہانی کا باب ہے، جو ادب کی طرح دل میں بسی رہے گی۔ کرکٹ میں کبھی کبھی اعداد سے زیادہ جذبات جیتتے ہیں، اور آج یہی ہوا۔

Friday, 28 November 2025

خون سے رنگے ہوئے ووٹر لسٹ کا المیہ






بھارت وہ ملک ہے جہاں جمہوریت کا نعرہ ہر طرف گونجتا ہے، مگر اس کے پیچھے چھپی سچائی کچھ اور ہے — سناٹا اور موت کی سرگوشی۔ انتخابی کمیشن کے افسر، جنہیں بوث لیول آفیسرز (BLOs) کہا جاتا ہے، اصل میں جمہوریت کے خاموش محافظ ہیں۔ یہ لوگ نہ کال کوٹھریوں میں بیٹھے ہیں، بلکہ گلیوں کوچوں، دیواروں پر نام لکھتے ہوئے، شہریوں کی جانچ پڑتال کرتے ہیں۔​

یہ سب کچھ خصوصی جامع تجدید (SIR) کے نام پر ہو رہا ہے، جس کا مقصد ووٹر لسٹ کو "صاف" کرنا ہے۔ اس کے تحت ہر ووٹر کی جانچ ہوتی ہے تاکہ کوئی "بھوت ووٹر" باقی نہ رہے اور انتخاب صاف ہو۔ مگر اس "صفائی" کا بوجھ وہی اٹھاتے ہیں جنہیں معاشرہ نظر انداز کرتا ہے۔
بی ایل او کی موتوں کا سلسلہ: کیا یہ محض اتفاق ہے؟

کیا آپ جانتے ہیں کہ مغربی بنگال میں صرف ایک سال میں 40 سے زائد بی ایل او موت کا شکار ہو چکے؟


ایک معصوم استانی نے زہر پی لیا، جبکہ غریب افسر ریت پر گر کر جان دے دی۔


ہزاروں بی ایل او تھکاوٹ، بیماری اور دباؤ سے زندگی ہار رہے ہیں — کیا یہ "محنت" ہے یا خون کا دریا؟
کیا ہم ان قربانیوں کو بھول جائیں گے؟​

سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے پر الزام لگاتی ہیں کہ یہ سب مخالف ووٹروں کو ختم کرنے کا منصوبہ ہے۔ الیکشن کمیشن کہتا ہے کہ یہ محنت کا دباؤ ہے، کوئی سازش نہیں۔ مگر عوام کی نظر میں یہ زہر کی بوتل ہے، نہ کہ دوا۔

جنوبی ہندوستان کے دیہات، شمالی پنجاب کے کھیت، مغرب کے جنگلات، یہاں تک کہ دمن و دیو کے چھوٹے جزائر میں بھی بی ایل او کی صورتحال ایک جیسی ہے۔ انہیں نہ کوئی اضافی تنخواہ ملتی ہے، نہ کام کرنے کے حالات بہتر ہیں۔ بس ایک روزمرہ کا عہدہ اور دھندلی روشنی میں محنت کا بار۔

سیاستدان عوام کو جمہوریت کا نعرہ دیتے ہیں، مگر جب ان کے محافظوں پر ایسا دباؤ پڑتا ہے کہ وہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں، تو یہ جمہوریت خود سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔ جب نظام اپنے محافظوں کو مارنے لگے، تو اس کا وجود خود مشکوک ہو جاتا ہے۔

یہی چھوٹے چھوٹے لوگ، چھوٹے چھوٹے محافظ، جنہیں ہم روزمرہ کی زندگی میں بھلا دیتے ہیں، ہمارے جمہوری نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ ان کی قربانی کے بغیر کوئی انتخاب حقیقی معنوں میں آزاد اور شفاف نہیں ہو سکتا۔
آخر میں: اب جاگنے کا وقت آ گیا!


آئیں، آج سے عہد کریں کہ ان خاموش شہداؤں کی آواز بنیں گے — سڑکوں پر، سوشل میڈیا پر، اور ہر فورم پر ان کی جدوجہد کو بلند کریں گے۔ اگر ہم خاموش رہے تو یہ جمہوریت نعروں اور لاشوں کا مجموعہ بن جائے گی، مگر اگر ہم اٹھے تو یہ نظام اپنی ریڑھ کی ہڈی کو مضبوط بنا لے گا۔ انقلاب کی ابتدا یہیں سے ہوتی ہے — ہمارے ہاتھوں میں، ہماری آواز میں​

Thursday, 27 November 2025

دو دشمن، دو جنگ: شیطان اور نفس کی حقیقت




شیطان کے وسوسے اور نفس کے وسوسے — اصل فرق کیا ہے؟


انسان کی زندگی میں دو بڑے دشمن ایسے ہیں جو ہمیشہ اسے اللہ کے راستے سے ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں:
شیطان اور نفس۔
دونوں کا مقصد ایک ہی ہے لیکن دونوں کا طریقہ اور حملے کا انداز ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہے۔

شیطان کا وسوسہ یہ ہے کہ وہ انسان کو کسی بھی گناہ میں مبتلا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
وہ گناہوں کو خوبصورت بنا کر دکھاتا ہے، ان میں لذت اور آسانی دکھاتا ہے تاکہ انسان فوراً اس کی طرف مائل ہو جائے۔

اگر وہ انسان کو ایک گناہ میں نہیں گرا پاتا تو فوراً کوئی دوسرا گناہ سامنے لے آتا ہے۔
اسے اس سے غرض نہیں کہ انسان کون سا گناہ کرے، بس یہ چاہتا ہے کہ انسان اللہ کی نافرمانی کرے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"اور اگر شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ آئے تو فوراً اللہ کی پناہ مانگو"
*(سورہ اعراف: 200)*

اس کے مقابلے میں نفس کا وسوسہ زیادہ گہرا، زیادہ طاقتور اور زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔
نفس ہمیشہ ایک مخصوص گناہ کی طرف انسان کو کھینچتا ہے—
وہ گناہ جو انسان کی طبیعت اور اس کی خواہش کے مطابق ہو۔
اگر انسان ایک بار اس گناہ سے بچ بھی جائے تو نفس بار بار اسی طرف واپس لے جانے کی کوشش کرتا ہے۔
نفس اس وقت تک چین نہیں لینے دیتا جب تک اس کی اپنی خواہش پوری نہ ہو جائے۔

شیطان کا حملہ وقتی ہوتا ہے، مگر نفس کا حملہ بار بار دہرانے والا، ضدی اور مضبوط ہوتا ہے۔

علماء فرماتے ہیں کہ:
"شیطان تو اللہ کے ذکر سے بھاگ جاتا ہے،
مگر نفس وہ دشمن ہے جو مرنے تک ساتھ رہتا ہے۔"

اسی لیے نفس کا مقابلہ کرنا سب سے بڑا جہاد کہا گیا ہے۔
نفس انسان کے اندر بیٹھا ہوا دشمن ہے، اسے پہچاننے میں وقت لگتا ہے، لیکن جب انسان اپنے نفس کی حقیقت جان لیتا ہے تو پھر وہ اللہ کی پہچان تک پہنچ جاتا ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ:

شیطان مختلف گناہوں کی دعوت دیتا ہے۔

نفس ایک ہی گناہ کی طرف بار بار دھکیلتا ہے۔

شیطان کمزور ہے، نفس طاقتور ہے۔

شیطان سے نجات اللہ کی پناہ سے ہے۔

اور نفس سے نجات مسلسل مجاہدے اور تربیت سے ہے۔

اللّٰہ تعالیٰ ہمیں شیطان کے وسوسوں اور نفس کے دھوکے
اور دونوں کے شر سے محفوظ فرمائے۔

*آمین یارب العالمین*

transform the above text in polished natural urdu adapt islamic scholar Moulana Syed Mustafa Rifai Jeelani Nadvi style of narration and style of writing

السلام علیکم ورحمة الله وبرکاتہ

انسان کی زندگی میں دو بڑے دشمن ہمیشہ اس کے ایمان اور عمل کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں: شیطان اور نفس۔ دونوں کا مقصد اگرچہ یکساں ہے یعنی انسان کو اللہ کی رضا سے دور کرنا، لیکن ان کا طریقہ کار اور حملے کا انداز یکسر مختلف ہوتا ہے۔

شیطان کا وسوسہ ایک بیرونی فتنے کی مانند ہے جو انسان کو ہر طرح کے گناہوں میں ملوث کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ گناہوں کو حسنِ ظن اور آسانی کے ساتھ پیش کرتا ہے تاکہ انسان جلدی اس کی طرف مائل ہو جائے۔ اگر وہ ایک گناہ میں ناکام رہے تو فوراً کوئی اور گناہ پیش کر دیتا ہے، اور اسے اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ وہ کونسا گناہ ہو، بس اللہ کی نافرمانی ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: "اور اگر شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ آئے تو فوراً اللہ کی پناہ مانگو" (سورہ الاعراف: 200) کیونکہ شیطان اللہ کے ذکر سے بھاگتا ہے۔

مگر نفس کا معاملہ قدرے گہرا اور پیچیدہ ہے۔ نفس ایک اندرونی دشمن ہے، جو انسان کے دل و دماغ میں بیٹھا رہتا ہے اور اسے ایک خاص گناہ کی طرف بار بار راغب کرتا ہے، وہی گناہ جس سے انسان کی فطرت اور خواہش میل کھاتی ہو۔ نفس کی ضدی فطرت ہے، یہ اس وقت تک چین نہیں پاتا جب تک اس کی خواہش پوری نہ ہو جائے۔ اس کی محنت مسلسل، مسلسل اور زیادہ طاقتور ہوتی ہے۔ علماء فرماتے ہیں: "شیطان تو اللہ کے ذکر سے بھاگ جاتا ہے، مگر نفس وہ دشمن ہے جو مرنے تک ساتھ رہتا ہے۔" یہی وجہ ہے کہ نفس کے خلاف جہاد کو سب سے بڑا جہاد کہا گیا ہے۔

حضرت نظام الدین اولیاء رحمہ اللہ نے فرمایا کہ نفس اور شیطان دونوں ہماری زندگی کے دو بڑے دشمن ہیں، مگر نفس کو پہچاننا اور اس کی تربیت کرنا اللہ کی معرفت کی سیڑھی ہے۔ شیطان فراخدل ہے، بس انسان کو گناہ کرانا چاہتا ہے، خواہ کوئی بھی گناہ ہو، اور جب انسان اللہ کی پناہ مانگتا ہے تو وہ بھاگ جاتا ہے۔ نفس کی ضد برائیوں کی جڑ ہے، جسے روکنا ایک دائمی مشق اور تربیت کا محتاج ہے۔

پس خلاصہ یہی ہے کہ:

- شیطان مختلف گناہوں کی دعوت دیتا ہے، اور اس کا وسوسہ وقتی اور بدلتا رہتا ہے۔

- نفس مخصوص گناہ کی طرف انسان کو بار بار مائل کرتا ہے، اور بار بار وہی گناہ دہرانے کی ضد کرتا ہے۔

- شیطان کمزور ہے، اور ذکرِ الہی سے بھاگتا ہے۔

- نفس طاقتور اور ضدی ہے، جو مسلسل خواہشات کی تکمیل چاہتا ہے۔

- شیطان سے نجات اللہ کی پناہ میں ہے۔

- نفس کی تربیت، اصلاح اور مسلسل جدوجہد سے نجات ممکن ہے۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو شیطان کے وسوسوں اور نفس کے دھوکے سے محفوظ رکھے، اور ہمیں اپنی بارگاہ میں ہمیشہ استقامت اور تقویٰ کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین۔

یہ بیان مولا سیّد مصطفیٰ رفاعی جیلانی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کے اسلوب تربیتی اور روحانی نثر کی عکاسی کرتا ہے جس میں گہرائی، روحانیت اور متوازن بیان ہوتا ہے جو انسان کو اپنے اندر جھانکنے اور نفسیاتی جہاد کے لیے متحرک کرتا ہے.

Wednesday, 26 November 2025

The Indian Constitution: Embodying Equality, Liberty, and Fraternity



The intrinsic essence of India's Constitution is its embodiment of freedom and justice, conceived not merely as a legal document but as a living, dynamic covenant foundational to the nation's spirit. Adopted on November 26, 1949, and brought into force on January 26, 1950, this Constitution emerged from intense intellectual and political struggle, primarily shaped by Dr. B.R. Ambedkar and other leaders who envisioned it as a comprehensive symbol of collective national aspirations. It transcends mere legal terminology to function as the silent music of life, reflecting a commitment to equality, liberty, and fraternity that surpasses divisions of religion, caste, and creed.



The Constitution's core principles establish India as a sovereign, socialist, secular, and democratic republic, guaranteeing social, economic, and political justice to all citizens while safeguarding their fundamental rights and duties. Its comprehensive structure—executive, legislative, and judiciary—enables a governance framework grounded in the rule of law and collective responsibility. Its preamble and provisions collectively symbolize a promise to uphold justice, dignity, and equality, emphasizing that political democracy must be supported by social and economic equity for sustainable national progress.

Dr. Ambedkar's vision underscores the inseparability of rights and responsibilities, advocating that citizens must balance their freedoms with duties towards nation-building and social harmony. The Constitution, therefore, is a profound instrument for reform and equilibrium in Indian society. November 26 is celebrated annually as Constitution Day to honor not only the document itself but also the enduring endeavor to realize its ideals through continuous social engagement, legal adherence, and moral commitment, thus ensuring it remains a beacon illuminating India's future path.

This transformation maintains the original themes with an academic tone emphasizing constitutional principles, historical context, philosophical foundations, and socio-political responsibilities embedded in India's constitutional framework.

Saturday, 22 November 2025

جنگل کا بادشاہ اور مشہور مکھی

جنگل کا بادشاہ اور مشہور مکھی
جمیل احمد ملنسار
9845498354


کہتے ہیں، ایک گھنے اور سرسبز جنگل میں ایک شیر بادشاہ رہتا تھا — شیر سنگھ۔ سر پر سنہری ایال، آنکھوں میں غرور کی چمک، اور دھاڑ ایسی کہ سارا جنگل کانپ اٹھے۔ سب جانور اُس سے ڈرتے بھی تھے اور عزت بھی کرتے۔ مگر ایک مدّ مقابل ایسا بھی تھا جو نہ خوف کھاتا تھا نہ ادب کرتا — ایک ننھی سی مکھی،فریڈی نامی۔

فریڈی کوئی عام مکھی نہ تھی۔ وہ اپنی شوخیوں اور شرارتوں کے باعث جنگل بھر میں مشہور تھی۔ روز وہ کسی نہ کسی بہانے شیر بادشاہ کی کھال پر جا بیٹھتی، اور گُدگُدی کرنے لگتی۔ بیچارا شیر کبھی پنجہ مارے، کبھی دھاڑے، مگر فریڈی ہر بار اُڑ جاتی، اور بادشاہ صاحب کی ناک میں دم کر دیتی۔

ایک روز شیر تنگ آ کر گرجا،
"اے ننھی مکھی! آخر تو مجھے کیوں ستاتی ہے؟ میں تو جنگل کا بادشاہ ہوں، تجھ جیسی ذرا سی مخلوق میرے بس کا روگ نہیں!"

فریڈی نے کان کے پیچھے سے قہقہہ لگایا،
"بادشاہ سلامت! بات چھوٹی یا بڑی ہونے کی نہیں، مزے کی ہے۔ ایک چھوٹی سی مکھی بھی بڑے سے بڑے بادشاہ کی نیند حرام کر سکتی ہے!"

اور پھر ایک دوپہر، جب شیر سنگھ درخت کی چھاؤں میں مزے کی نیند لینے لگا، فریڈی نے اپنی سب سے شرارتی چال چلی۔ وہ آہستہ سے آیا اور بادشاہ کی ناک پر جا بیٹھا۔ ایک زور سے ڈنک لگایا!
ہاچھو! شیر زور سے چھِینکا، لپٹ کر لڑھکتا ہوا پہاڑی سے نیچے جا گرا اور سیدھا تالاب میں جا پڑا۔
چھپّاااااااااااااااااااااش!

شیر بھیگا ہوا، شرمندہ، اور عجیب و غریب سی خارش میں مبتلا تھا۔ سب جنگلی جانور چھپ چھپ کر ہنسنے لگے۔ فریڈی نے ہوا میں قلابازی کھائی اور بولا،
"دیکھا بادشاہ سلامت؟ کبھی کبھی سب سے چھوٹا جھٹکا سب سے بڑے کو ہلا دیتا ہے!"

شیر نے اس دن کے بعد فریڈی سے خفا ہونا چھوڑ دیا۔ اب جب بھی وہ مکھی آتی، شیر ہنسنے لگتا۔ اُس نے سمجھ لیا کہ زندگی میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر غصہ کرنے کے بجائے، کبھی کبھی ان پر مسکرانا بہتر ہے۔

یوں جنگل بھر میں "شیر بادشاہ اور مکھی فریڈی" کی کہانی مزاحیہ داستان بن گئی، جو ہر شاگفتہ شام تالاب کے کنارے سنائی جاتی — اور جسے سن کر ننھے جانوروں کے قہقہے گونج اٹھتے تھے۔

---

The Lion and the Infamous Flea

A Short Story by Jameel Milansaar - 98454 98354

In the heart of the jungle ruled the mighty lion, King Leo, proud and powerful with a majestic mane and a roar that echoed for miles. He was feared and respected by all animals—except for one tiny adversary: Freddy, the flea.

Now Freddy wasn’t just any flea. He was notorious among jungle critters for his cheeky antics and annoying persistence. Every day, Freddy would sneak onto King Leo and bite him in the most ticklish spots. The mighty lion would jump, roar, and thrash, but Freddy was too quick, always slipping away to plot his next little torment.

“Why do you bother me, tiny pest?” King Leo roared one day, pawing at his fur. “A lion such as I should not be troubled by something as insignificant as a flea!”

Freddy chuckled quietly from behind Leo’s ear. “Ah, but it’s not about size, Your Majesty. It’s about the little things, you see. One little flea can turn your noble roar into a fit of scratching madness!”


One afternoon, as King Leo tried to nap under a tree, Freddy launched his sneakiest attack yet—right on Leo’s nose! The king sneezed so hard that he accidentally rolled down a hill, landing in a pond with a splash.

Splash! Leo was soaked, disgraced, and incredibly itchy. The animals nearby giggled. Freddy looked quite pleased with himself. “See, Your Majesty? Sometimes the tiniest troubles shake the greatest beasts.”

From then on, King Leo learned to laugh at Freddy’s playful bites, realizing that even the biggest problems don’t have to ruin your day—sometimes it's the tiny, unexpected moments that keep life interesting and remind you not to take things too seriously.

And in the jungle, the tale of the lion and the flea became the funniest story told around the watering hole—much to Freddy’s delight.

Friday, 21 November 2025

The Fall of Tejas: A Wake-Up Call Beyond the Crash

An Indian #Tejas fighter jet crashed during a live demonstration at the #DubaiAirShow on November 20, 2025, killing Wing Commander #NamanshSyal; My Blog on the same "The Fall of Tejas: A Wake-Up Call Beyond the Crash"

Jameel Aahmed Milansaar.
Bangalore.
email: sharejameel@gmail.com

The tragic crash of the Tejas fighter jet at the Dubai Air Show, resulting in the untimely death of Wing Commander Namansh Syal, is not merely a somber incident to be mourned in silence. It is a stark and painful indictment of the multifaceted challenges that beleaguer India’s indigenous defense production initiatives, especially under the much-vaunted “Make in India” banner. This catastrophe is less a freak accident and more a manifestation of systemic neglect—an indictment not just of one mismanaged aircraft, but of a broader malaise afflicting the nation’s defense establishment.

To dissect this tragedy is to peer into the heart of India’s contradictions: those of pride entwined with hubris, ambition tattered by complacency, and patriotism fractured by privilege. The valor and sacrifice of Wing Commander Syal, a brave pilot in his mid-30s hailing from humble Himachal Pradesh, stand in sharp contrast to the stark disparities that mark Indian society—where scions of political dynasties cruise comfortably in luxury while the scions of the middle class bear the brunt of inadequate support systems, risking their lives in aircraft plagued by structural failures and neglected maintenance.

This is a moment for India’s defense leadership—notably the Indian Air Force (IAF)—to confront some uncomfortable truths. Reports of oil leaks, deferred maintenance, and upgrades pushed through with an air of inflated confidence were not the stuff of idle rumours or foreign propaganda; they were warnings long ignored. It is testimony to an ingrained culture where the sheen of “indigenization” and nationalistic slogans often masks a disquieting reality: corners cut on safety protocols, urgent technical advisories brushed aside in favor of optical illusions of progress.

The Tejas, envisioned as a flagship of India’s aspirations for aerospace self-reliance, has soared into an unfortunate legacy of sorrow rather than the promised heights of pride. This is not simply about an aircraft crashing—this is about what that crash symbolically represents: a nation’s lofty dreams throttled by systemic negligence and unchecked pride. The rhetoric of “Make in India” must transition from hollow catchphrase to actionable accountability.

We owe it to Wing Commander Syal—and to every soldier, pilot, and technician putting their lives on the line—to demand nothing less than candid admissions, rigorous investigations, and sweeping reforms. The Indian Air Force Chief and the defense leadership must lead with transparency and humility, acknowledging failures and instituting robust safety and maintenance protocols. Technologies must not only be developed indigenously but perfected with meticulous care and unwavering commitment to human life.


For a country that prides itself on ancient wisdom and fierce patriotism, it is a bitter irony that patriotism today is bifurcated. The privileged few are shielded by their wealth and connections, while the valorous many—especially from the middle and lower-middle classes—are sent to the frontlines with inadequate safeguards. To see politicians fly comfortably in foreign jets while our young pilots perish in hastily upgraded indigenous aircraft is to witness the jarring dissonance between rhetoric and reality.

This is no time for pious platitudes or symbolic gestures; slogans will not save lives, only accountability will. The sacrifice of Wing Commander Namansh Syal must galvanize a national reckoning. Only then can India’s defense ambitions move from tragic headlines to triumphant tales of genuine progress. The wings of “Make in India” must not carry us to graves but uplift a nation determined to rise with integrity and courage.

In memory of our martyred pilot, the call is clear: It is time for a thorough cleansing of complacency, a reiteration of commitment to excellence, and an unwavering dedication to those who serve with bravery—regardless of their social standing. India’s pride must be measured not only in technological feats but in how fiercely it protects and values the lives behind those feats. That is the true hallmark of a sovereign and just nation's patriotism.

Thursday, 20 November 2025

فیض احمد فیض

Death anniversary of iconic poet Faiz Ahmad Faiz today ...
Faiz Ahmad Faiz died from complications of lung and heart disease in 1984 in Lahore, Pakistan. He passed away shortly after being nominated for the Nobel Prize for Literature.

آج ہم فیض احمد فیض کے یومِ وفات پر اُنہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں—
وہ شاعر جنہوں نے لفظوں کو محبت، جدوجہد اور انسان دوستی کا رنگ دیا۔

 فیض احمد فیض —وہ نام جو غم کو نغمہ، اور خواب کو ہمت بنانا جانتا تھا۔
اُن کی یاد ہمیشہ زندہ رہے گی۔


مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ
میں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات
تیرا غم ہے تو غم دہر کا جھگڑا کیا ہے
تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات
تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے
تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہو جائے
یوں نہ تھا میں نے فقط چاہا تھا یوں ہو جائے
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا

ان گنت صدیوں کے تاریک بہیمانہ طلسم
ریشم و اطلس و کمخاب میں بنوائے ہوئے
جا بہ جا بکتے ہوئے کوچہ و بازار میں جسم
خاک میں لتھڑے ہوئے خون میں نہلائے ہوئے

جسم نکلے ہوئے امراض کے تنوروں سے
پیپ بہتی ہوئی گلتے ہوئے ناسوروں سے
لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجے
اب بھی دل کش ہے ترا حسن مگر کیا کیجے

اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ

Wednesday, 19 November 2025

ایودھیا: انقلاب کے دھاگے میں تضاد


از: جمیل احمد ملنسار


ایودھیا، جہاں ماضی کے قصے اور جدید تمنائیں دست و گریباں ہیں۔ اس صورت میں ایودھیا ایک درویش کی مانند سامنے آتا ہے، جسے حالات نے دولت مند تو بنا دیا، لیکن اس کے مزاج میں سادگی اب بھی رچی بسی ہے۔
رام مندر سے امبیڈکر اسٹیڈیم تک

ایک زمانہ تھا کہ ایودھیا رام کے قصے سننے والوں کی سرزمین تھی — پرسکون، زائرانہ، روایتوں میں گم۔ گزشتہ پندرہ برسوں میں وہاں بدلاؤ کی آندھی چل گئی: سڑکیں، عمارتیں، اور سب سے بڑھ کر رام مندر کا افتتاح جس نے لاکھوں عقیدتمندوں کو کھینچ لیا۔
تضاد کا نیا میدان

اب ایودھیا میں صرف مندر نہیں، کرکٹ اسٹیڈیم بھی بن رہا ہے — ڈاکٹر امبیڈکر کے نام پر! کیا عجیب منظر ہے: رام کی سرزمین پر امبیڈکر کا نام، کھیل کے میدان میں سیاست کا تماشہ۔ چالیس ہزار تماشائی، بجٹ میں دُگنا اضافہ، اور پرانی کہانی — تاخیریں، شفافیت پر سوالات، عوامی ترقی کے نام پر مالی گڑبڑیں۔
ناموں کا کھیل

سوشل میڈیا پر شور ہے: "یہ مذہبی توہین ہے!" "اسے شری رام اسٹیڈیم کہو!" گویا ہر دور کی لڑائی نئے روپ میں سامنے آئی ہے؛ جیسے بابری مسجد اور رام جنم بھومی کا قضیہ اب ناموں کی جنگ میں بدل گیا ہو۔
امبیڈکر: عقل کا چراغ

ڈاکٹر امبیڈکر وہ ہیں جنہوں نے آئین لکھا، ذات پات سے لڑا، سماجی انصاف کی بات کی۔ ان کی کتاب Riddles in Hinduism میں سوال اٹھائے، دیومالائی قدروں کو پرکھا — آج ان کا نام رام کے شہر میں کرکٹ کی پچ پر گونج رہا ہے؛ یہ صرف تضاد نہیں، ہندوستانی معاشرے کی اصلی تصویر ہے۔
تہذیبی میل جول اور جشن

کرکٹ یہاں صرف کھیل نہیں، نئی تہذیب بن چکی ہے۔ ذات و مذہب کی دیواریں گر گئیں، صرف کھیل باقی ہے۔ حکومت کہتی ہے تبدیلی آگئی، مگر اصل سوال تو یہی ہے کہ ہم اس شور میں اپنی پہچان بچا سکتے ہیں یا نہیں۔
اختتامی نوٹ: تضاد میں اتفاق

ایودھیا کی موجودہ داستان دراصل ہندوستان کی تقدیر ہے۔ پرانی روایتیں، تیز رفتار ترقی، اور شناخت کی چھاپ — سب ایک قالین کے اُلجھے دھاگے میں بندھے ہیں۔ 2026 میں جب اسٹیڈیم بن جائے گا، وہاں کھیل کم، تماشہ زیادہ ہو گا۔ رام کی دھرتی پر امبیڈکر کا نام — یہ ہندوستانی وحدت اور تضاد کی سب سے خوبصورت علامت ہے۔

(مصنف آل انڈیا ملی کونسل کے مرکزی رکن ہیں۔)


Ayodhya's Transformation: From Ram Mandir to Ambedkar Cricket Hub – A Story of Progress and Paradox



By : Jameel Aahmed Milansaar.
Bangalore.





In the heart of India, where ancient narratives intersect with modern aspirations, Ayodhya stands as a symbol of both reverence and reinvention. Once a quiet pilgrimage town steeped in the lore of Lord Ram, it has undergone a remarkable transformation over the past decade and a half, emerging as a vibrant hub of infrastructure and cultural resurgence. The inauguration of the grand Ram Temple earlier this year marked a pivotal chapter in this story, drawing millions in pilgrimage and underscoring the city's spiritual significance. Yet, as Ayodhya continues to evolve—with its new international airport, upgraded highways, and a host of developmental projects—one particular initiative has sparked a lively debate: the construction of a state-of-the-art cricket stadium named after Dr. B.R. Ambedkar.

This multi-sport complex, designed to accommodate cricket, hockey, badminton, and more, with a capacity for up to 40,000 spectators, represents more than just a venue for games. Initially budgeted at ₹75 crore, the project has seen costs escalate to around ₹150 crore due to delays and additional expenditures—a familiar tale in India's public infrastructure endeavors. Allegations of financial irregularities have even prompted a complaint to the Lokayukta, highlighting the need for greater transparency in such ventures. 

But it is the naming choice that has ignited passions on social media platforms like X, where voices from various quarters decry it as an affront to religious sentiments. Calls to rename it "Shree Ram Stadium" echo the fervor that has long defined Ayodhya's history, from medieval conflicts to the protracted legal battles over the Babri Masjid-Ram Janmabhoomi site.


Dr. Ambedkar, the architect of India's Constitution and a tireless crusader against caste discrimination and social inequality, occupies a unique place in our national pantheon. In his seminal work, Riddles in Hinduism, he offered critical perspectives on mythological figures, including Ram and Krishna, viewing them through the lens of rationality and social justice rather than unquestioned divinity. Placing his name on a stadium in Ram's sacred precincts might seem paradoxical at first glance—a juxtaposition of myth and modernity, devotion and dissent. Yet, this decision aligns with India's foundational ethos of "unity in diversity," a principle Ambedkar himself championed.In a nation where cricket transcends barriers of caste, religion, and region, serving as a unifying force, the stadium could embody a subtle nod to inclusivity. After all, the Bharatiya Janata Party-led government, which has spearheaded Ayodhya's revival, argues that the city's progress—from a "sleepy town" to a bustling metropolis—should not be overshadowed by selective controversies.

This episode invites us to reflect on the broader Indian paradox: our ability to weave together seemingly incompatible threads into a cohesive tapestry. Ayodhya's journey mirrors the nation's own—marked by historical grievances, rapid development, and ongoing dialogues on identity. As the stadium nears completion, projected for 2026, it promises to host not just matches but moments of collective joy, where fans from all walks of life converge under floodlights, cheering boundaries and forging bonds. In the spirit of Ram's ideals of justice and fairness, honoring Ambedkar here is less an irony and more a reminder that India's strength lies in its pluralism. Amid the noise, perhaps it's time to embrace this complexity, celebrating a country that thrives on its contradictions. After all, in the grand game of nation-building, every player—divine or human—has a role.

Tuesday, 18 November 2025

Karnataka Scouts Shine at Rashtrapati Bhavan Celebration; Bengaluru Public School Unit Receives National Honour





Children’s Day Celebration at Rashtrapati Bhavan; Karnataka Scouts Unit Earns National Recognition

New Delhi: The grand halls of Rashtrapati Bhavan brimmed with excitement as President Droupadi Murmu hosted a vibrant Children’s Day celebration, welcoming students from across India—including a proud delegation from the Hindustan Scouts and Guides Karnataka, Bengaluru Public School Unit.

Organised to mark Children’s Day and honour the vision of the nation’s first Prime Minister, the event brought together over a hundred students from various states at the Rashtrapati Bhavan Cultural Centre. Representing Karnataka, eight bright students from the Bengaluru Public School Unit attended the function, accompanied by Dr. Afshad Ahmed BZ (Managing Trustee), Mr. Rajiv VR (Headmaster), Mrs. Sunita Angadi (Coordinator), and Mrs. Padma Priya (Science Teacher). Their selection recognized their exemplary community service and commitment to the Scouts’ ideals of discipline, teamwork, and service.

The celebration began with a ceremonial welcome, followed by interactive sessions with the President, who shared uplifting insights on the importance of integrity, hard work, and nation-building. She reminded her young audience, “Children are the future of our nation. It is essential to nurture them into confident and responsible citizens.”

The atmosphere turned festive as participants showcased their talents through cultural performances and creative displays that reflected India’s diversity and youthful spirit. The Karnataka Scouts stood out for their active participation and enthusiasm.

Adding joy to the occasion, President Murmu distributed sweets and gifts, leaving the children delighted and inspired. Many students expressed that meeting the President was a “once-in-a-lifetime experience” that renewed their resolve to serve society selflessly.

Speaking to reporters, Dr. Afshad Ahmed BZ described the invitation as “an unprecedented honour” and said it would encourage future participation in Scouts and Guides activities across Karnataka.

The event marked a proud milestone for the Hindustan Scouts and Guides Karnataka – Bengaluru Public School Unit, celebrating youth leadership and the enduring values of the scouting movement in nation-building.






Monday, 17 November 2025

 مدینہ منورہ کی شاہراہ پر المناک حادثہ 42 ہندوستانی عمرہ زائرین جاں بحق، بیشتر کا تعلق حیدرآباد سے

"یہ حادثہ صرف ایک سانحہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی دل کا زخم ہے — جو دیر تک رستا رہے گا۔"


خصوصی رپورٹ: جمیل احمد ملنسار
مدینہ منورہ، سعودی عرب — پیر کی صبح ایک دل دہلا دینے والے حادثے نے پوری امتِ مسلمہ کو غم و اندوہ میں مبتلا کر دیا۔ 17 نومبر 2025 کو مدینہ مکرمہ سے مکہ مکرمہ جانے والی ایک بس، جس میں ہندوستان کے پینتالیس عمرہ زائرین سوار تھے، مکہ۔مدینہ شاہراہ پر ایک ڈیزل ٹینکر سے جا ٹکرائی۔ ٹکر اتنی شدید تھی کہ دیکھتے ہی دیکھتے پوری بس شعلوں میں گھر گئی۔ اس مہیب حادثے میں بیالیس زائرین جاں بحق ہوگئے جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل تھے۔ صرف ایک مسافر زندہ بچ سکا۔

حادثہ رات تقریباً ایک بج کر تیس منٹ (بھارتی وقت کے مطابق) پیش آیا، جب زیادہ تر مسافر نیند میں تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ کسی کے پاس فرار کا موقع نہ تھا۔

متوفیان کا تعلق زیادہ تر ریاستِ تلنگانہ کے شہر حیدرآباد اور اس کے اطراف سے بتایا جا رہا ہے۔ شناخت کا عمل جاری ہے۔ سولہ افراد کی شناخت ہو چکی ہے جن میں عبدالمحمد، محمد مولانا، سہیل محمد، مستان محمد، پروین بیگم، زکیہ بیگم، شوکت بیگم، فرحین بیگم، ذہین بیگم، محمد منظور، محمد علی، اور غوثیہ بیگم کے نام شامل ہیں۔ جاں بحق افراد کے جسدِ خاکی مدینہ منورہ میں رکھے گئے ہیں جہاں فرانزک تجزیہ اور وطن واپسی کی تیاری کی جا رہی ہے۔

سعودی حکام کے ساتھ بھارتی سفارتی اور تلنگانہ کی حکومتی ٹیمیں مسلسل رابطے میں ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کی مدد اور میتوں کی حوالگی کے لیے کنٹرول روم قائم کر دیے گئے ہیں۔

وزیرِ اعظم نریندر مودی اور نائب صدرِ جمہوریہ نے اس سانحے پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے اور متوفیان کے لواحقین سے ہمدردی کے ساتھ مکمل تعاون کا وعدہ کیا ہے۔

یہ المناک حادثہ اس ابدی حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ عبادت کے سفر میں بھی آزمائشیں پیش آتی ہیں۔ عمرہ کے اس سفر پر روانہ ہونے والے ان پروانوں کا دل بیت اللہ کی حاضری کے شوق سے لبریز تھا، مگر تقدیر نے انہیں وہیں بلا لیا جہاں سے کوئی پلٹ کر نہیں آتا۔

ہندوستانی برادری ان بیالیس جاں بحق زائرین کی یاد میں سوگوار ہے، جن کا روحانی سفر سرزمینِ حرم ہی میں اختتام پذیر ہوا۔ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں تاکہ آئندہ ایسے سانحات سے بچاؤ ممکن ہو۔




Tragic Bus-Tanker Collision Claims Lives of 45 Indian Umrah Pilgrims Near Medina

Special Report: Jameel Aahmed Milansaar


Medina, Saudi Arabia – In a devastating accident early Monday, November 17, 2025, a bus carrying 45 Indian Umrah pilgrims en route to Mecca collided with a diesel tanker on the Medina-Mecca highway. The collision caused a massive fire that engulfed the bus, resulting in the tragic deaths of 42 pilgrims, largely women and children, with only one survivor reported.

The victims, primarily from Hyderabad and the surrounding region in Telangana, India, were asleep during the accident around 1:30 am IST, leaving little chance for escape. Identification efforts are ongoing, with 16 victims officially identified and some publicly named. The names released by authorities so far include Abdul Mohammed, Mohammed Moulana, Sohail Mohammed, Mastan Mohammed, Parveen Begum, Zakiya Begum, Shoukat Begum, Farheen Begum, Zaheen Begum, Mohammed Manzoor, Mohammed Ali, and Ghousiya Begum. Their remains are being kept in Madinah for forensic analysis and preparations for repatriation.

Indian and Telangana officials are coordinating closely with Saudi authorities, providing support to the victims’ families and managing the repatriation process. The Telangana government has established control rooms for assisting families awaiting updates on their loved ones.

Prime Minister Narendra Modi and Vice President have expressed deep condolences to the families and reaffirmed the government’s commitment to providing all possible assistance during this tragic time.

This heartbreaking incident is a grim reminder of the risks faced by pilgrims undertaking the sacred journey of Umrah. Authorities continue to investigate the exact cause of the collision and are working on measures to prevent such tragedies in the future.

The Indian community mourns the loss of the 42 souls whose spiritual journey ended in this tragic accident in Saudi Arabia. More details will be reported as the situation develops.

Sunday, 16 November 2025

Jameel Aahmed Milansaar A Brief Intro



Jameel Aahmed Milansaar, based in Bangalore, is a highly respected scholar, researcher, and visionary community leader with extensive experience spanning over decades. He holds the prestigious position of General Assembly Member at the Institute of Objective Studies (IOS), New Delhi, a leading organization dedicated to scholarly research and intellectual advancement. Over the years, he has actively contributed to the global academic community by presenting numerous international research papers, including landmark presentations at the 25th and 30th anniversary celebrations of the IOS, underscoring his commitment to advancing knowledge across disciplines.

In addition to his academic stature, Mr. Milansaar plays a pivotal role in socio-political advocacy as a Central Member of the All India Milli Council, New Delhi, where he engages in thought leadership on critical national and community issues. He also lends his expertise as the Chief Advisor to Sathya Jyothi College, Bangalore, guiding one of the premier educational institutions in shaping future generations.

As the Founder President of the Noble Aim Foundation for Community Development, a distinguished Muslim think tank, he channels his passion for social welfare and intellectual empowerment into meaningful community initiatives that foster development, dialogue, and inclusive growth. His multifaceted leadership reflects a deep dedication to scholarship, education, and community service, making him a prominent figure in both national and international forums.

Saturday, 15 November 2025

فولادی ارادے، نازک قسمت — اندرا گاندھی کی کہانی

*از : جمیل احمد ملنسار* بنگلور
9845498354 
آج کے دن، 31 اکتوبر  کو، اندرا گاندھی کے المناک قتل کی اکتالیسویں برسی کے موقع پر پیش کردہ میرا خراجِ عقیدت پر مبنی مضمون۔   

ہندوستان کی تاریخ میں چند شخصیات ایسی ہیں جن پر رائے دینا ہر شخص اپنا حق سمجھتا ہے۔ اندرا گاندھی بھی انہی میں سے ایک ہیں۔ کچھ انہیں دیوی درگا کہتے تھے، جو عدمِ فیصلہ کے عہد میں فیصلے کرنے والی عورت تھی، اور کچھ کے نزدیک وہ آمر تھی، جس نے جمہوریت کو اپنے عزم اور انا کے تابع کر دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ دونوں تھیں — نجات دہندہ بھی، اور سزا دینے والی بھی۔

اندرا کو غربت یا گمنامی نے نہیں تراشا، بلکہ ایک خاص شاہانہ فضا میں ان کی شخصیت نے جنم لیا۔ پنڈت نہرو کی بیٹی ہونے کے باوجود انہیں ابتدا میں سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ ان کے سیاسی رفقا نے انہیں “گونگی گڑیا” کہا، مگر جب وہ بولیں تو سارا منظر بدل گیا۔ ان کی خاموشی میں ایک ایسی طاقت چھپی تھی جس نے مرد سیاست دانوں کو بے بس کر دیا۔ جب کانگریس دو حصوں میں بٹی، تو اندرا نے واضح کر دیا کہ وفاداری اب پارٹی سے نہیں بلکہ ان سے ہے۔ رفتہ رفتہ ہندوستان کی سیاست ایک عورت کے گرد سمٹنے لگی۔

ان کی شخصیت میں عوامی میل جول کم، وقار زیادہ تھا۔ نہرو فلسفیوں کے دوست تھے، شاستری کسانوں کے محبوب، مگر اندرا ایک اکیلے وجود کی علامت تھیں۔ ان کا انداز، ان کی چال، یہاں تک کہ ان کا خاموش رہنا بھی ایک سیاسی بیان تھا۔ سادہ سفید ساڑھی ان کے ضبط، نظم، اور خوداعتمادی کی علامت بن گئی۔ وہ جانتی تھیں کہ طاقتور عورت کو مسکراتے ہوئے کم، خاموش رہ کر زیادہ بامعنی ہونا پڑتا ہے۔

مگر یہی مضبوطی ان کی کمزوری بھی بنی۔ ایمرجنسی کے دنوں میں انہوں نے جمہوریت سے کہا کہ تھوڑا صبر کرو، آزادی وقتی طور پر مؤخر ہو سکتی ہے۔ انہی دنوں ملک نے جانا کہ قوت اور آمرانہ روش میں کتنا باریک فاصلہ ہوتا ہے۔ 1977 میں جب وہ اقتدار سے محروم ہوئیں تو عوام نے صرف ان کے فیصلوں کو نہیں بلکہ ان کے غرور کو مسترد کیا۔ مگر وہ لوٹ آئیں — زخمی، مگر شکستہ نہیں۔ اندرا ہمیشہ لوٹتی تھیں، جیسے تقدیر بھی ان سے معافی مانگتی ہو۔

ان کی اصل علامت ان کے کارناموں سے زیادہ ان کے وجود میں تھی۔ انہوں نے ثابت کیا کہ قیادت کا لباس ساڑھی بھی ہو سکتا ہے، کہ ایک عورت فوجی سلام قبول کر سکتی ہے، اور پارلیمنٹ میں بغیر چیخے کمرہ خاموش کرا سکتی ہے۔ اندرا نے ہندوستانی عورت کو بتایا کہ بلند عزائم گناہ نہیں، بقا ہیں۔ مگر ان کی کہانی ایک انتباہ بھی ہے — کہ جب طاقت شخصی ہو جائے تو دیوی بھی اپنے ہی سایے سے ڈرنے لگتی ہے۔

ان کی موت تقدیر کی لکھی ہوئی سطر تھی — انہی ہاتھوں سے گولی کھا کر جنہوں نے انہی کو روز سلام کیا تھا۔ انہوں نے ایک بار کہا تھا کہ “میرا خون ہندوستان کی مٹی کو طاقت دے گا۔” شاید دیا۔ مگر اس نے یہ بھی یاد دلا دیا کہ یہ ملک اپنے قائدین سے محبت نہیں کرتا، صرف ان کے زوال پر ماتم کرنا جانتا ہے۔
مضمون نگار ال انڈیا ملّی کونسل کے مرکزی رکن ہیں۔

Friday, 14 November 2025

نتیش کمار کی دسویں واپسی: بہار کی سیاست کا ضدی مستقل







تحریر: جمیل احمد ملنسار
موبائل: 9845498354

بہار، جہاں سیاست ہمیشہ غیر متوقع موڑ لیتی ہے، وہاں نتیش کمار ہی وہ واحد شخصیت ہیں جو ہر اتھل پتھل کے درمیان ایک مستقل نشان کی طرح قائم رہے۔ اتحاد بنتے اور ٹوٹتے رہے، رہنما ابھرے اور گرے، وفاداریاں بدلتی رہیں—مگر ایک تار ایسا بھی ہے جو گزشتہ پچیس برسوں سے ان تمام اتار چڑھاؤ کے ساتھ جڑا ہوا ہے: نتیش کمار کی خاموش مگر پُراعتماد موجودگی۔

اگر وہ اس بار پھر حلف اٹھاتے ہیں تو یہ ان کی بطور وزیر اعلیٰ دسویں مدت ہوگی—جو خود ہندوستانی سیاسی تاریخ میں ایک غیر معمولی ریکارڈ ہے۔ ان کا پہلا دورِ اقتدار سنہ 2000 میں صرف سات دنوں پر محیط تھا، ایک ایسا مختصر تجربہ جسے اُس وقت شاید کسی نے سنجیدگی سے نہ لیا ہو۔ لیکن آج، دو دہائیاں بیت جانے کے بعد، وہ بہار کے سب سے دیرپا رہنما کے طور پر سامنے ہیں—کبھی تھکے ہوئے محسوس ہوتے ہیں، کبھی خاموش، مگر کبھی غیر متعلق نہیں ہوتے۔
انجینئرنگ سے سیاست تک کا سفر

1951 میں بختیارپور میں پیدا ہونے والے نتیش کمار نے پٹنہ کے بہار کالج آف انجینئرنگ سے گریجویشن کیا۔ اُس زمانے میں تکنیکی تعلیم یافتہ افراد کا سیاست میں قدم رکھنا غیر معمولی بات تھی۔ مگر اس نوجوان انجینئر نے پیشہ ورانہ زندگی کے بجائے عوامی خدمت کا راستہ چُنا۔

1980 کی دہائی کے آخر میں وہ پارلیمنٹ پہنچے اور 1990 کی دہائی تک مرکزی سیاست میں نمایاں ہو گئے—ریلوے، زراعت اور سڑک و ترسیل جیسے محکموں کے وزیر کے طور پر خدمات انجام دیں۔

انھیں قریب سے جاننے والے کہتے ہیں کہ وہ ایک سوچے سمجھے، متوازن فیصلہ کرنے والے اور کم جذباتی رہنما ہیں—یہی وہ اوصاف ہیں جنہوں نے انہیں ذات پات اور مفادات کی پیچیدہ گتھیوں میں الجھی سیاستِ بہار میں کسی طرح قائم رکھا۔
ذاتی زندگی، خاموشی اور سادگی

سیاست کے شور سے الگ، نتیش کا ذاتی جہان حد درجہ خاموش ہے۔ 1973 میں منجو کماری سنہا سے ان کی شادی ہوئی، مگر بیگم کی وفات کے بعد وہ رفتہ رفتہ زیادہ گوشہ نشین ہوتے گئے۔ ان کا اکلوتا بیٹا، نشاط کمار، ہمیشہ عوامی زندگی سے دور رہا، البتہ حالیہ برسوں میں یہ قیاس ضرور کیا گیا کہ وہ ہرنوت سے انتخاب لڑ سکتے ہیں—یعنی باپ کی پرانی نشست سے۔ چاہے یہ سچ ہو یا محض قیاس، اس خاندان کی سیاسی شناخت آج بھی صرف ایک ہی نام سے وابستہ ہے—نتیش کمار۔
صحت کی بحث اور انسانی پہلو

طویل قیادت کے ہر سفر میں صحت کا سوال لازمی ابھرتا ہے۔ پرشانت کشور نے کہا تھا کہ وہ "جسمانی طور پر تھک چکے ہیں"، جبکہ تیجسوی یادو نے انہیں "تھکا ہوا وزیر اعلیٰ" قرار دیا۔ بی جے پی کے رکنِ پارلیمان منوج تیواری نے اس پر رحم دلی سے کہا کہ "وزیر اعلیٰ کچھ کمزور سے ہیں، مگر صحت کو سیاست نہ بنایا جائے۔"

یہ سب فطری باتیں ہیں۔ تقریباً بیس برس تک ایک پیچیدہ ریاست کی قیادت کرتے رہنا، مختلف اتحاد سنبھالنا، تھکا دینے والا کام ہے۔ مگر ہر شکست کے بعد ان کا لوٹ آنا—مزید محتاط، مزید حقیقت پسند—انہی کا امتیاز ہے۔
ایک ضدی مستقل کی میراث

نتیش کمار کا سفر صرف سیاسی پائیداری نہیں، بلکہ مزاحمت اور انطباق کی کہانی ہے۔ ہر اتحاد—چاہے بی جے پی سے ہو یا آر جے ڈی سے—انہوں نے بہار کی ترقی، سڑکوں کے جال اور نظم و نسق کی بہتری کو اپنی شناخت بنایا۔ ناقدین انہیں موقع پرست کہتے ہیں، حامی انہیں حالات کے مطابق قائد سمجھتے ہیں۔

شاید دونوں ٹھیک ہیں۔ شاید نتیش کی اصل طاقت ان کی لچک میں ہے، ان کی اس فن کارانہ صلاحیت میں کہ وہ ہر طوفان میں کشتی کو کنارے پر رکھتے ہیں۔

جب 2025 کے انتخابی نتائج منظر عام پر آئیں گے، تو نعرہ “بہار کا مطلب نتیش کمار” کسی حد تک تھکا دینے والا ضرور محسوس ہوگا، مگر اس کے پیچھے برسوں کی مستقل مزاجی، محنت اور سیاست کی نازک بصیرت پوشیدہ ہے۔

دس بار وزارتِ اعلیٰ کسی کے لیے بہت زیادہ ہو سکتا ہے—مگر بہار جیسی ریاست میں، جہاں سیاسی استحکام ایک نایاب نعمت ہے، نتیش کمار کی یہی ضدی مستقل مزاجی شاید ان کی سب سے پائیدار کامیابی بن جائے۔



Nitish Kumar 10th Time? The Reluctant Constant of Bihar Politics


Nitish Kumar 10th Time? The Reluctant Constant of Bihar Politics


By Jameel Aahmed Milansaar 

Mobile ; 9845498354


In a state where politics thrives on unpredictability, Nitish Kumar remains the one enduring constant. Bihar has witnessed alliances form and break, leaders rise and fall, and party loyalties test gravity itself—but one thread has run through it all for nearly 25 years: Nitish Kumar’s quiet, methodical presence at the helm.

If he takes oath this time, it will mark his tenth stint as Chief Minister—an extraordinary record even by Indian political standards. His career began with a brief seven-day tenure in 2000, a political cameo that few took seriously then. Yet, two decades later, he stands as Bihar’s most durable political figure—worn, occasionally weary, but never irrelevant.
From Engineering Circuits to Political Circles

Born in Bakhtiarpur in 1951, Nitish Kumar graduated in engineering from Bihar College of Engineering, Patna. It was a time when technocrats rarely entered politics, yet the young engineer chose public life over a stable profession. He entered Parliament in the late 1980s and by the 1990s had established himself in national politics, serving as Union Minister for Railways, Agriculture, and Surface Transport.

Those who have seen him work describe him as a leader of deliberate pace, precise choices, and rare emotional display—traits that perhaps helped him survive Bihar’s whirlpool of caste arithmetic and alliance fragility.
The Personal and the Political

Off-stage, Nitish’s life has been remarkably private. He married Manju Kumari Sinha in 1973; her passing years later left him visibly changed, retreating further into the solitude of public duty. His only son, Nishant Kumar, has largely stayed away from political life, though recent speculation suggested he might contest from Harnaut—Nitish’s own old constituency. Whether that happens or not, the family’s political legacy remains synonymous with the father’s name alone.
The Health Question and the Human Factor

As in every long leadership journey, questions about Nitish Kumar’s health have surfaced. Political strategist Prashant Kishor termed him “physically tired,” while RJD’s Tejashwi Yadav called him “a tired Chief Minister.” BJP MP Manoj Tiwari, on the other hand, appealed for compassion, admitting that the CM seemed “a bit unwell” but insisting that health should not become politics.

It is perhaps natural. Leading a complex state for nearly twenty years, often balancing competing coalitions, would exhaust any leader. Yet, his ability to return from political setbacks—each time more understated, more pragmatic—continues to define his image.
The Legacy of a Reluctant Constant

Nitish Kumar’s story is more than political endurance; it is about persistence in the face of changing wind directions. For every alliance he has joined—whether with the BJP, RJD, or others—he has maintained a moral anchor in development politics, road connectivity, and law and order. Critics accuse him of ideological drift; supporters call him adaptable to Bihar’s unique political climate.

Perhaps both are true. Perhaps Nitish Kumar’s resilience lies not in rigidity but in his capacity to keep the ship afloat in turbulent waters.

As Bihar’s 2025 verdict unfolds, the slogan “Bihar ka matlab Nitish Kumar” rings with both admiration and fatigue. He is the chief minister who seems reluctant to stop, even when the journey has tested both his body and spirit.

Ten times may sound excessive for any leader—but in Bihar, where stability is the rarest politician’s virtue, Nitish Kumar’s constancy might just be his most enduring achievement.

The Writer is All India Milli Council Central Member

Tuesday, 11 November 2025

زوہران ممدانی: ایک غیر متوقع میئر اور نئی سیاسی صبح






نیویارک شہر کی گہماگہمی، اس کے شور و شغب اور پیچیدہ سیاسی منظرنامے میں کچھ کہانیاں ایسی ہیں جو دل و دماغ کو یکساں طور پر اپنی گرفت میں لے لیتی ہیں۔ انہی میں سے ایک ہے زوہران ممدانی کی کہانی — ایک نوجوان، پُرجوش اور ترقی پسند رہنما کی، جو ریاستی اسمبلی کے رکن کے طور پر اپنی پہچان بنانے کے بعد حیرت انگیز طور پر میئر کی کرسی تک جا پہنچے۔

اگرچہ ان کا باضابطہ عہدہ تاحال کویِنس کے چھتیسویں ضلع کی نمائندگی کرنے والے ریاستی اسمبلی ممبر کا ہے، مگر عوامی مباحثوں اور سیاسی قیاس آرائیوں میں وہ پہلے ہی "نیویارک کے آنے والے میئر" کے طور پر زیرِ گفتگو ہیں — اور یہی بات اس بات کی گواہی ہے کہ ممدانی نے روایتی سیاسی راستوں سے ہٹ کر ایک نیا، غیر معمولی سفر اختیار کیا ہے۔

ممدانی کی سیاست جڑوں سے اُبھری ہوئی ہے — عوامی تحریکوں، جمہوری سوشلسٹ نظریات، اور ان گنت عام لوگوں کی آرزوؤں سے بنی ہوئی سیاست۔ ان کی حالیہ میئر کی حیثیت سے فتح، جو بیشتر ماہرین کے لیے ناقابلِ یقین تھی، محض ذاتی کامیابی نہیں بلکہ ایک نئے سیاسی مزاج کی آمد کا اشارہ ہے — ایسا مزاج جو ترقی پسندی، شمولیت اور نسلی و فکری تنوع پر مبنی ہے۔

"غیر متوقع میئر" کی کہانی دراصل کسی ایک شخص کے عہدہ سنبھالنے کی نہیں، بلکہ اس علامت کی ہے جو وہ اپنے ساتھ لاتے ہیں — ایک نئے سیاسی سانچے کی تشکیل۔
ان کا منشور سادہ مگر انقلابی ہے: سستی رہائش، مزدوروں کے حقوق، بچوں کی عالمگیر نگہداشت، اور عوامی تحفظ کا نیا تصور۔ ان نعروں نے نیویارک کے مختلف طبقات کو ایک نکتے پر اکٹھا کر دیا ہے — وہ سب جو تبدیلی کے خواہاں ہیں، جنہیں ممدانی میں اپنی محرومیوں اور خوابوں کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔

ممدانی کی ممکنہ میئرشپ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ سیاست کے راستے اب کسی سیدھی لکیر پر نہیں چلتے۔
یہ زمانہ ان رہنماؤں کا ہے جو روایتی سیاسی کارخانوں سے نہیں بلکہ محلّوں، جلسوں اور دلوں سے ابھرتے ہیں — وہ جو نوجوان توانائی کو عملی بصیرت کے ساتھ جوڑتے ہیں۔
ممدانی کا سفر، اسمبلی سے میئر کی طرف، اس نئی سیاست کی علامت ہے جس میں حیرت اب استثنا نہیں، معمول بن چکی ہے۔

آنے والے دنوں میں زوہران ممدانی کی کہانی شاید میئر کے عہدے کی آزمائش سے کم اور اس وعدے سے زیادہ جڑی ہوگی جو ان کی قیادت اپنے اندر رکھتی ہے — ایک ایسا وعدہ جو سیاسی جدت، شمولیت اور اصلاح کا پیامبر بن سکتا ہے۔
ان کی کامیابی ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ قیادت کے معنی شاید بدل چکے ہیں، اور اب راستے وہ نہیں جو ماضی میں طے کیے گئے تھے۔

یوں "غیر متوقع میئر" کا عنوان کسی عجلت یا مبالغے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک دعوت ہے — دعوتِ غور و فکر:
کہ ہم اس سیاسی سفر کو قریب سے دیکھیں جو شاید قیادت کے نئے معنی رقم کرے،
ایک ایسے عہد میں جو تبدیلی کا بھوکا ہے۔



Abul Kalam Azad Tamil

Monday, 10 November 2025

مولانا ابوالکلام آزاد کی چائے کی محبت اور زندگی کی سادگی

9845498354جمیل احمد  ملنسار، بنگلور۔


مولانا ابوالکلام آزاد اپنی پوری زندگی میں صرف ایک عظیم سیاستدان اور ہندوستان کے ممتاز تحریک آزادی کے مجاہد ہی نہیں بلکہ علم و ادب کے وہ بلند پایہ ستارہ تھے جنہوں نے نہ صرف اپنے قلم سے نسلوں کو روشنی دکھائی بلکہ اپنی زندگی کے روزمرہ معمولات میں ایک خاص مطابقت اور ضبط بھی رکھی۔ ان کی زندگی کی ایک دلفریب اور دل چسپ روایت ان کی چائے کی محبت ہے، جو ان کے متحرک اور پیچیدہ کردار کے بالمقابل ان کی سادگی اور وقت کی قدر کی گواہ ہے۔


مولانا ابوالکلام آزاد کا یہ کہنا کہ وہ صبح صادق سے پہلے اپنی چینی جاسمین چائے خود بناتے تھے، اس وقت گھر میں کسی کو جگائے بغیر، ان کی خود انحصاری، اصول پسندی اور اپنے آپ کو وقت دینے کی صلاحیت کی نشانی ہے۔ گھر کی خاموشی میں چائے کی خوشبو، ان کے ذہن کی مشقتوں میں ایک نرم لمحہ تھا، جو کسی بھی بڑے سیاسی فیصلے سے کم اہمیت نہیں رکھتا تھا۔
مولانا ابوالکلام آزاد کی ولادت 1888 میں مکہ مکرمہ میں ہوئی، جہاں ان کا خاندان اسلام کے علمی روایات کا بانی تھا۔ ان کے والد، مولانا خیر الدین، ایک معروف عالم تھے جن کے زیر تربیت انہوں نے اپنی علمی بنیادیں مضبوط کیں۔ عربی، فارسی اور اردو ثقافتوں کے گہرے اثرات نے ان کی ذوق میں ایک انوکھا رنگ بھرا جس میں چائے کی خاص پسند—چینی جاسمین چائے—بھی شامل تھی۔ اپنے نوجوانی کے دور میں انہوں نے صحافت کا آغاز کیا اور آزادی کی تحریک میں مسلم اور ہندو برادری کو متحد کرنے کی کوشش کی۔
ان کے روزانہ کے معمولات میں چائے ایک مقدس رسم تھی۔ وہ خود اٹھتے اور بغیر دودھ یا چینی کے صرف سفید چینی جاسمین چائے پکاتے۔ یہ ان کی سادگی، خوداعتمادی اور دوسروں کو تکلیف نہ دینے کی عکاسی کرتا تھا۔ ان کا مذہب اور شخصیت ان کے اس معمول میں جھلکتا تھا، جہاں چائے کے چند کپ ان کی سوچ اور غور و فکر کا ذریعہ بنتے۔
ان کے سیاسی اور سماجی زندگی میں بھی چائے کا ذکر آتا ہے۔ گاندھی جی، نہرو اور دیگر رہنماؤں کے ساتھ ملاقاتوں میں اکثر چائے کا تذکرہ ہوتا تھا، جو ان کے سماجی روابط اور ثقافتی شناخت کی عکاسی کرتا تھا۔ برطانوی راج میں چائے کی ثقافت عام تھی، مگر مولانا آزاد کی پسندیدہ چائے چینی جاسمین تھی جو ان کے عالمی روح اور ہندوستانی پہچان کے امتزاج کو ظاہر کرتی ہے۔ اس زمانے کے ادیبوں اور دانشوروں میں بھی چائے کا ایک خاص سحر تھا جس نے ان کے تخلیقی اور فکری کاموں کو متاثر کیا۔
مولانا آزاد کی چائے کی محبت انہیں صرف ایک سیاسی شخصیت تک محدود نہیں رکھتی بلکہ انھیں ایک رہنما کے ساتھ ساتھ ہم جیسا آدمی بناتی ہے۔ ان کے بارے میں لکھی گئی کتب اور سوانح میں یہ پہلو اکثر سامنے آتا ہے کہ یہ معمولی سی عادت ان کی زندگی کی سنجیدگی اور روحانی سکون کا اظہار تھی۔ آج بھی ان کی چائے کی یہ روایت ان کی شخصی زندگی کی سادگی، نظم و ضبط اور خوشی کا مظہر ہے۔
مولانا ابوالکلام آزاد کا وصال 1958 میں ہوا لیکن ان کی یادگار ریاستی خدمات، تعلیمی اصلاحات اور آزادی کی جدوجہد میں ان کے کردار کے علاوہ ان کی چائے کی محبت نے انسانوں کے دلوں میں ایک الگ جگہ بنائی ہے۔ ان کی زندگی کی یہ ایک منفرد روایت، ان کے علمی اور سیاسی مراحل میں توازن کی داستان سناتی ہے اور ہمیں یہ باور کراتی ہے کہ بڑے خیالات رکھنے والے لوگ بھی چھوٹے چھوٹے خوشیوں میں گہرائی اور محبت پا سکتے ہیں۔
لہٰذا، جب بھی ہم چائے کے کپ کے ساتھ کوئی لمحہ گزاریں تو مولانا آزاد کی اس روایت کو یاد رکھیں جو محض ایک شاعرانہ عادت نہیں بلکہ ایک جذبہ، وقت کی قدر، اور زندگی کی گہری صحیح تصویر پیش کرتی ہے۔ ان کے اس انسانی پہلو کو جان کر ہمیں عشروں پرانے قصے نہ صرف یاد آئیں گے بلکہ وہ ہمارے دلوں میں آج بھی زندہ ہوں گے۔

تیغ و ایمان کے علمبردار- ٹیپو سلطان: وہ جو جھکا نہیں


ٹیپو سلطان کی زندگی اور جدوجہد کا آج کے سیاسی اور سماجی پس منظر میں تقابلی جائزہ لینا نہایت اہم ہے۔ ان کا اصولِ عدم تعاون برطانوی حکمرانی سے آزادی کے لیے ایک مضبوط پیغام تھا، جو آج بھی قوموں کی خودمختاری کے دفاع میں ہمیں روشنی فراہم کرتا ہے۔

آج کے ہندوستان میں، جہاں آزادی کی تحریک نے نئی شکلیں اختیار کر لی ہیں، ٹیپو سلطان کی قربانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ قومی وقار اور خودمختاری صرف نصاب کی کتابوں کا حصہ نہیں بلکہ ایک زندہ جذبہ ہے جو ہر دور میں قابلِ حفاظت رہتا ہے۔ موجودہ سیاسی حالات میں جب مقامی اور عالمی سطح پر خودمختاری کو کئی چیلنجز درپیش ہیں، ٹیپو کی مثال ہمیں استقلال اور جذبے کے ساتھ اپنی شناخت اور حق کے لیے کھڑے ہونے کی ترغیب دیتی ہے۔

ٹیپو سلطان کی حکمرانی میں جس طرح انہوں نے اپنے دور کے عالمی سیاست کے تقاضوں کو سمجھا اور مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات استوار کیے، وہ آج کے سفارتی توازن اور عالمی تعلقات سے بھی ہم آہنگی رکھتا ہے۔ یہ امر اس بات کا ثبوت ہے کہ خودمختاری کا دفاع صرف عسکری محاذ تک محدود نہیں بلکہ ایک سیاسی اور سفارتی جنگ بھی ہے۔

آج کی نسل کو چاہیے کہ وہ ٹیپو سلطان جیسے تاریخی رہنماؤں کے اصولوں سے سیکھے، جو صرف جبر کے خلاف مزاحمت نہیں بلکہ ایک جدید، خودمختار اور ترقی پسند معاشرہ قائم کرنے کی جدوجہد بھی تھے۔ ایسے قائدین کی یاد میں نہ صرف

اٹھارویں صدی کے آخر میں جب برصغیر پر برطانوی سامراج کا سایہ پھیلنا شروع ہوا تو جنوبی ہند سے ایک ایسی شخصیت ابھری جس نے سامراجی طاقتوں کے غرور کو للکارا۔ یہ شخصیت ٹیپو سلطان کی تھی — ’’شیرِ میسور‘‘، جنہوں نے اپنی بصیرت، جرأت اور سیاسی فراست سے حریتِ وطن کی ایک لازوال داستان رقم کی۔

ٹیپو سلطان 1751 میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی عمر ہی سے ان کی تربیت علم، جنگی حکمتِ عملی اور خودداری کے اخلاق پر ہوئی۔ والد حیدر علی کے بعد جب 1782 میں انہوں نے میسور کی باگ دوڑ سنبھالی تو انہوں نے ایک ایسی سلطنت کی بنیاد رکھی جو ترقی، عدل اور عسکری قوت کا مرکز بن گئی۔

ان کے دورِ حکومت میں مالی نظم بہتر ہوا، زراعت و صنعت کو فروغ ملا، اور سڑکوں اور قلعوں کے نظام میں نمایاں ترقی ہوئی۔ ان کا سب سے انقلابی کارنامہ جنگی راکٹوں کی تیاری تھی جس نے اس دور کے جدید ترین ہتھیاروں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ مورخین مانتے ہیں کہ یہی تجربات بعد میں یورپی فوجی ٹیکنالوجی کی بنیاد بنے۔

ٹیپو سلطان نہ صرف ایک بادشاہ تھے بلکہ اپنی فکر میں ایک سیاسی مفکر بھی تھے۔ انہوں نے جان لیا تھا کہ انگریزوں کی تجارت دراصل سیاسی قبضے کی پیش خیمہ ہے۔ اسی لیے انہوں نے فرانس اور ترکی جیسے ممالک سے اتحاد کر کے برطانوی برتری کے خلاف ایک بین الاقوامی توازن پیدا کرنے کی کوشش کی۔

انگریزوں کے لیے ٹیپو سلطان ایک ناقابلِ تسخیر رکاوٹ تھے۔ مرہٹوں اور نظامِ حیدرآباد کو ساتھ ملا کر برطانوی قوتوں نے چار جنگیں لڑی، مگر ٹیپو نے ہر معرکہ میں برتری اور جرأت کا علم بلندی پر رکھا۔

1799 کی چوتھی جنگ میں جب سرنگاپٹنم کا پہاڑوں جیسا قلعہ دشمن کے محاصرے میں آیا تو ٹیپو سلطان نے آخری سانس تک میدانِ جنگ میں رہنے کا فیصلہ کیا۔ وہ شہید ہوئے مگر جھکے نہیں۔ ان کی زندگی نے ثابت کیا کہ عزت کی موت غلامی کی زندگی سے کہیں بہتر ہے۔

ٹیپو سلطان کے بعد ان کی سلطنت کو تقسیم کر دیا گیا، مگر ان کی قربانی نے ہندوستان کی آزادی کی آگ کو ایک نئی روشنی دی۔ وہ محض ایک حکمران نہیں، ایک کردار تھے — جنہوں نے یہ سکھایا کہ قوموں کی زندگی میں خودداری ہی وہ جوہر ہے جو غلامی کی زنجیروں کو توڑ سکتا ہے۔

ٹیپو سلطان کے یہ الفاظ آج بھی تاریخ کی دیواروں سے گونجتے ہیں:
“شیر کی ایک دن کی زندگی، بھیڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے۔”
آج جب ہم اپنی تاریخ پر نگاہ ڈالتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ ٹیپو سلطان کی جدوجہد محض ایک شخص کی نہیں، تاریخی فہم بلکہ آج کے مسائل کے حل کے لیے بھی رہنمائی پنہاں ہے۔

Tipu Sultan: The Fearless King Who Defied the British

In late 18th-century India, a determined king from the south became one of the greatest obstacles to British ambitions: Tipu Sultan, famously known as the “Tiger of Mysore.” His story is a thrilling tale of resistance, innovation, and military brilliance.

Tipu’s Early Days

Born in 1751, Tipu Sultan was the eldest son of Hyder Ali, a commander who seized power in Mysore and built it into a strong kingdom. Even as a young prince, Tipu showed extraordinary talent—studying the Quran, mastering languages, and learning the arts of war and diplomacy from early childhood. By the time he was seventeen, he was already entrusted with key military tasks and had a front-row seat to the political struggles of southern India.
A Visionary Leader

Tipu Sultan was not just a fighter; he was a reformer. Once he became king in 1782, he transformed Mysore with bold ideas: reorganising taxes, encouraging industry, building new roads, and inventing new ways to wage war. Under his rule, Mysore prospered and became famous for silk production and rocket technology. Tipu’s rockets made headlines—not only for their impact in battle, but also because British soldiers would later study them and develop their own.
The British Fear

Why was Tipu Sultan such a problem for the British East India Company?


First, Mysore’s location blocked the British from joining their southern territories; Tipu’s army threatened crucial trade and travel routes.



Second, Tipu refused to cooperate or compromise, consistently resisting British pressure and expanding his own reach, even reaching out for help from France and Turkey to create stronger alliances.


Finally, his charisma and bold leadership inspired others to resist colonial rule, causing the British to worry about a wider revolt.
The Grand Alliance Against Tipu

The British soon realized they couldn’t bring Tipu down alone. So they formed a powerful alliance—with the Marathas and the Nizam of Hyderabad, rivals of Mysore who also wanted a share of power. Together, they pledged to defeat Tipu and divide his kingdom.
The Marathas brought resources and armies from western India.
The Nizam provided additional troops and political support.

In exchange, the British offered to split Mysore’s lands and keep their new partners happy.

The Last Stand

The final conflict came in the Fourth Anglo-Mysore War (1799). Tipu Sultan faced an army of nearly 50,000 led by British generals, alongside thousands of Maratha and Nizam soldiers. Against overwhelming odds, Tipu defended his capital, Srirangapatna, with heroism. Tragically, he was killed fighting at the gates—never surrendering, never fleeing.

With Tipu’s death, his sons were exiled, and the once-great Mysore kingdom was carved up among the victors. The British gained total control over southern India, laying foundations for the Raj that would rule the country for over a century.
Remembering Tipu Sultan


Tipu Sultan’s legacy endures. He is celebrated for his courage, his vision, and his refusal to live under foreign rule. His innovations—rocketry, progressive administration, and diplomatic outreach—were ahead of their time. He embodied the spirit of resistance, inspiring freedom fighters long after his fall.

Indians remember Tipu not just as a regional king, but as a national hero who stood up against the most powerful force of his era. The words allegedly spoken by him still inspire: “It is better to live like a tiger for one day than live like a sheep for a hundred years”.

Tipu Sultan, the Tiger of Mysore, left behind a story for the ages—a story of a king who dared to challenge empire, and whose roar echoes in history’s memory.


The Last Effort of Tippoo Saib at Seringapatam by B. Clayton, 1840