The Door That Was Never Locked - وہ دروازہ جو کبھی بند نہ ہوا



You have fallen again. Count it if you like: the tenth time, the hundredth, the thousandth. Now hear what the Lord of the Worlds has been doing all this while: forgiving.

Your sin is a habit. His forgiveness is a character. A habit is something you picked up; a character is who He eternally is. Habits tire, break, and fade. His mercy never tires. Your repetition has never once exhausted His patience, because patience that can run out belongs to creatures, not to the Creator.

The Prophet, peace be upon him, taught that if your sins piled up to the sky and you turned back, Allah would forgive you. Not might. Would. And the Quran addresses those who wronged their own souls with one command: do not despair of the mercy of Allah.

So stop retelling Shaytan's story. He wants you to believe your record is longer than His mercy. It is not even close. The ocean does not notice a stain on one shoreline.

Do not ask how many times you may return. Ask why you are still standing outside a door that was never locked. Get up. Make wudu, stand in prayer, and say it plainly: Ya Allah, forgive me. He has been waiting, and He is not tired.

تم پھر لغزش کھا گئے؟ گن لو، دسویں بار، سویں بار، یا ہزارویں بار۔ مگر یہ بھی سن لو کہ اتنی مدت میں تمہارا رب کیا کرتا رہا: بخشتا رہا۔

تمہارے لیے گناہ ایک عادت ہے، اور اس کے لیے مغفرت ایک شان۔ عادت انسان خود اوڑھ لیتا ہے، شان ذات کے ساتھ ازل سے وابستہ ہوتی ہے۔ عادتیں تھک جاتی ہیں، ٹوٹ جاتی ہیں، دم توڑ دیتی ہیں؛ اس کی رحمت نہ تھکتی ہے، نہ گھٹتی ہے۔ تمہاری بار بار کی خطا نے اس کے حلم کا دامن کبھی تنگ نہیں کیا، کیونکہ جو صبر ختم ہو جائے وہ بندوں کا ہوتا ہے، خالق کا نہیں۔

حدیثِ قدسی میں رب فرماتا ہے کہ اے ابنِ آدم! اگر تیرے گناہ آسمان کی بلندیوں کو چھو لیں اور پھر تو مجھ سے بخشش مانگے، تو میں تجھے بخش دوں گا۔ "شاید" نہیں، "بخش دوں گا"۔ اور قرآن اپنی جانوں پر ظلم کرنے والوں کو ایک ہی صدا دیتا ہے: اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔

اب شیطان کا قصہ سنانا چھوڑ دو۔ وہ چاہتا ہے کہ تم یقین کر لو کہ تمہارا نامۂ اعمال اس کی رحمت سے طویل ہے۔ یہ دعویٰ سراسر باطل ہے۔ سمندر کو ایک کنارے کے داغ کی خبر بھی نہیں ہوتی۔

یہ مت پوچھو کہ کتنی بار لوٹ سکتا ہوں۔ یہ سوچو کہ اس دروازے کے باہر کیوں کھڑا ہوں جو کبھی بند ہوا ہی نہیں۔ اٹھو، وضو کرو، سجدے میں گر جاؤ اور بے تکلف کہہ دو: یا اللہ، مجھے معاف فرما دے۔ وہ منتظر ہے، اور وہ تھکا نہیں۔

Comments