Friday, 8 May 2026

گورنر کا فیشن شو یا فلور ٹیسٹ؟ تمل ناڈو کی آئینی تذلیل


 گورنر کا فیشن شو یا فلور ٹیسٹ؟ تمل ناڈو کی آئینی تذلیل


از : جمیل احمد ملنسار
Mob: 98454 98354


تمل ناڈو میں آج آئینی رسم کو سیاسی تماشا بنا دیا گیا ہے۔ گورنر کا یہ اصرار کہ وجے حلف لینے سے پہلے راج بھون میں 118 ارکانِ اسمبلی کی حمایت “دکھائیں”، آئینی احتیاط نہیں، آئینی روح سے انحراف ہے۔

پارلیمانی جمہوریت میں حکومت کی اصل سند اسمبلی کے فرش پر بنتی ہے، کسی گورنر کی بیٹھک میں نہیں۔ رائج دستور ی روایت صاف ہے: سب سے بڑی پارٹی یا اتحاد کے لیڈر کو حکومت بنانے کی دعوت دی جاتی ہے، اور اکثریت کا امتحان ایوان میں لیا جاتا ہے۔ اعداد و شمار وہیں گنے جاتے ہیں، اتحاد وہیں پرکھے جاتے ہیں، عوامی مینڈیٹ وہیں عزت پاتا ہے۔ راج بھون میں پیشگی حاضری اور گنتی کا مطالبہ دراصل گورنر کے ذاتی “اطمینان” کو ایوان کے کھلے اعتماد کے بجائے فیصلہ کن بنانے کی کوشش ہے۔

یہ نہ دستور سازوں کا مدعا تھا، نہ آج کے تکامل یافتہ آئینی چلن کا تقاضا۔ برسوں میں کمیشنوں اور عدالتوں نے گورنروں کے صوابدیدی دائرے کو محدود کر کے شفاف فلور ٹیسٹ کی طرف دھکیلا ہے۔ وجہ سیدھی ہے: تاریخ نے بارہا دکھایا کہ گورنروں کا اطمینان سیاسی رنگ اختیار کر لیتا ہے، جب کہ فلور ٹیسٹ، چاہے جتنا شور شرابہ ہو، سب کے سامنے، ریکارڈ پر، اور عدالتی نظرثانی کے قابل ہوتا ہے۔ جب گورنر راج بھون کو ہی ایک چھوٹی سی اسمبلی بنانے پر تلے ہوں تو وہ اسی مبہم، کمرہ بند سیاست کو زندہ کرتے ہیں جسے دستور نے پیچھے چھوڑنے کی کوشش کی تھی۔

موجودہ صورتِ حال میں وجے کا دعویٰ دو ٹوک ہے۔ اس کی پارٹی سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھری ہے۔ کانگریس نے باضابطہ حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔ چھوٹی پارٹیاں ساتھ آنے کے لئے قطار میں ہیں۔ ایسی حالت میں گورنر کا فرض سیاست کی سودے بازی میں ٹانگ اڑانا نہیں، بلکہ واضح مدعی کو بلانا اور ضرورت پڑے تو جلد فلور ٹیسٹ کا حکم دینا ہے۔ اس سے بڑھ کر ہر قدم حد سے تجاوز، اور اس سے کم ہر رویہ ذمہ داری سے فرار ہے۔

گورنر کے حامی کہیں گے کہ معلق اسمبلی میں “احتیاط” ضروری ہے۔ مگر احتیاط اگر تاخیر کا جواز بن جائے تو پھر اسے آئینی حکمت نہیں، سیاسی ہچکچاہٹ کہیں گے۔ جس لمحے راج بھون کو متبادل اسمبلی بنایا جائے، احتیاط کی لکیر پار ہو جاتی ہے۔ اگر ارکان نے اپنی وفاداری دکھانی ہی ہے تو اسپیکر کی نگرا نی میں، ایوان میں، سرِعام ریکارڈ پر کیوں نہ دکھائیں؟ یہی پارلیمانی جواب دہی کی اصل روح ہے۔

قانون سے ہٹ کر اخلاقی پہلو بھی کم اہم نہیں۔ تمل ناڈو کے ووٹر نے تبدیلی کی خواہش کا صاف پیغام دیا ہے، اور وجے اس امید کا سیاسی چہرہ بن کر ابھرا ہے۔ ہر غیر ضروری دن عوام کو یہ تاثر دیتا ہے کہ ان کا مینڈیٹ قابلِ تاخیر اور قابلِ سودے بازی ہے، اور غیر منتخب عہدے عوامی فیصلے پر بریک لگا سکتے ہیں۔ اس سے عدم اعتماد صرف ایک فرد میں نہیں، پورے وفاقی ڈھانچے میں سرایت کرتا ہے۔

المیہ یہ ہے کہ انجام کوئی معمہ نہیں۔ آج نہیں تو کل گورنر کو وجے کو ہی حکومت بنانے کی دعوت دینی ہوگی، تاریخ حلف برداری کا دن طے ہی کرے گی۔ سوال صرف یہ ہے کہ یہ کام آئینی روایت کے ساتھ ہو گا یا غیر ضروری ابہام اور کشمکش کے بعد۔ بدنامی بہرحال دیر کی نہیں، طرزِ عمل کی لکھّی جائے گی۔


آئین اور جمہوریت دونوں کے نقطۂ نظر سے ترتیب واضح ہے: دعوت، حلف، پھر فلور ٹیسٹ۔ گورنر کا کام اس ترتیب کو محفوظ رکھنا ہے، اس میں نئی رکاوٹیں گھڑنا نہیں۔ اس کسوٹی پر دیکھا جائے تو ان کا موجودہ رویہ غلط ہے، اور تمل ناڈو کے ووٹر خاموش تماشائی نہیں، خاموش گواہ بنے سب دیکھ رہے ہیں۔

No comments:

Post a Comment

گورنر کا فیشن شو یا فلور ٹیسٹ؟ تمل ناڈو کی آئینی تذلیل

  گورنر کا فیشن شو یا فلور ٹیسٹ؟ تمل ناڈو کی آئینی تذلیل از : جمیل احمد ملنسار Mob: 98454 98354 تمل ناڈو میں آج آئینی رسم کو سیاسی تماشا بنا...