Monday, 18 May 2026

تمل ناڈو کی ترقی کے پیچھے چھپی بے چینی



نوجوانوں کی بے چینی اور تمل ناڈو کا سیاسی مستقبل


از : جمیل احمد ملنسار
Mob: 98454 98354



تمل ناڈو میں اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے، اسے صرف ایک معمول کی سیاسی تبدیلی سمجھنا بڑی غلطی ہوگی۔ انتخابی جلسوں کے شور، ٹیلی ویژن مباحثوں کی گرمی اور سیاسی نعروں کے ہنگامے کے نیچے ایک ایسی بے چینی جنم لے رہی ہے جو خاص طور پر نوجوان نسل کے اندر بہت گہری ہوچکی ہے۔ یہ بے چینی کسی نظریاتی بحث کا نتیجہ نہیں بلکہ روزگار، مستقبل اور معاشی تحفظ سے جڑی ہوئی وہ تلخ حقیقت ہے جسے آج کا نوجوان اپنی روزمرہ زندگی میں محسوس کررہا ہے۔

شاید کئی دہائیوں میں پہلی مرتبہ تمل ناڈو کا نوجوان اس بنیادی سیاسی اور معاشی معاہدے پر سوال اٹھا رہا ہے جس نے ریاست کو طویل عرصے تک استحکام دیا۔ وہ معاہدہ یہ تھا کہ تعلیم، صنعتی ترقی اور فلاحی سیاست مل کر نئی نسل کو ایک محفوظ اور باوقار مستقبل فراہم کریں گے۔ لیکن اب نوجوانوں کو لگنے لگا ہے کہ یہ وعدہ کمزور پڑچکا ہے۔

آج تمل ناڈو کی سیاست میں جو ہلچل دکھائی دے رہی ہے، اس کی اصل وجہ صرف نئے چہروں کا ابھرنا یا پرانی سیاسی قوتوں کی کمزوری نہیں ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ موجودہ سیاسی اور معاشی نظام سے مایوس ہوچکا ہے۔ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ یہ نظام، اپنی تمام کامیابیوں کے باوجود، اب ان کے خوابوں اور ضروریات کا جواب دینے کی صلاحیت کھوچکا ہے۔

یہ بات درست ہے کہ تمل ناڈو کو ہندوستان کی کامیاب ترین ریاستوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ صنعتیں یہاں آتی ہیں، سرمایہ کاری بڑھتی ہے، بڑی کمپنیاں اسے اپنی پسندیدہ منزل سمجھتی ہیں، اور معاشی اعداد و شمار بھی متاثر کن نظر آتے ہیں۔ مختلف حکومتوں نے برسوں تک اسی ترقیاتی ماڈل کو اپنی کامیابی کا ثبوت بناکر پیش کیا ہے۔

لیکن معاشی ترقی کی چمکتی ہوئی تصویروں کے پیچھے ایک دوسری حقیقت بھی موجود ہے، اور وہ حقیقت نوجوان نسل کی زندگیوں میں صاف دکھائی دیتی ہے۔

آج ہزاروں تعلیم یافتہ نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لیے روزگار کی تلاش میں بھٹک رہے ہیں۔ اچھی تعلیم اب اچھی نوکری کی ضمانت نہیں رہی۔ بہت سے نوجوان اپنی صلاحیت سے کم درجے کے کام کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ کچھ عارضی ملازمتوں کے درمیان جھول رہے ہیں جہاں نہ مستقبل کا تحفظ ہے اور نہ ہی معاشی استحکام۔ ایک ایسی نسل جسے یہ یقین دلایا گیا تھا کہ تعلیم انہیں سماجی ترقی اور بہتر زندگی دے گی، آج شدید مایوسی کا شکار ہے۔

یہی مایوسی اب سیاست کا رخ بدل رہی ہے۔

آج کا نوجوان صرف نعروں یا روایتی فلاحی وعدوں سے مطمئن نہیں ہے۔ وہ عزت کے ساتھ جینا چاہتا ہے۔ وہ ایسی تعلیم چاہتا ہے جو واقعی مواقع پیدا کرے۔ وہ ایسی ملازمت چاہتا ہے جس سے زندگی تعمیر ہوسکے۔ وہ ایسے شہر چاہتا ہے جہاں رہنا ممکن ہو، اور ایسا نظام چاہتا ہے جو انسان کو مستقل غیر یقینی کیفیت میں نہ دھکیل دے۔

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ تمل ناڈو کی بڑی سیاسی قیادت اب بھی ماضی کی زبان بول رہی ہے۔ روایتی سیاسی موضوعات اپنی اہمیت ضرور رکھتے ہیں، مگر وہ اس نوجوان کے خوف کا جواب نہیں دے سکتے جو انجینئرنگ کی ڈگری کے باوجود مستقل نوکری حاصل نہیں کرپارہا، یا اس گریجویٹ کی بے چینی ختم نہیں کرسکتے جو معاشی ترقی کے دعووں کے باوجود اپنے لیے سکڑتے ہوئے مواقع دیکھ رہا ہے۔

اسی خلا میں نئے سیاسی چہرے غیر معمولی توجہ حاصل کررہے ہیں۔

ان کے گرد جو جوش دکھائی دیتا ہے، اسے صرف شخصیت کا کرشمہ سمجھنا حقیقت کو آسان بنادینا ہوگا۔ اس جوش کے پیچھے دراصل برسوں کی جمع شدہ مایوسی ہے جو اب سیاسی اظہار ڈھونڈ رہی ہے۔ نوجوان کسی نظریاتی انقلاب سے زیادہ اس امید سے جڑے ہوئے ہیں کہ شاید کوئی تو ایسا ہو جو ترقی یافتہ تمل ناڈو کی تصویر اور عام نوجوان کی غیر محفوظ زندگی کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے کو تسلیم کرے۔

لیکن صرف امید کافی نہیں ہوتی۔

سیاسی چہروں کی تبدیلی ہمیشہ معاشی حقیقتوں کو تبدیل نہیں کرتی۔ نئی قیادت کا آنا خود بخود روزگار پیدا نہیں کرتا، نہ تعلیمی نظام کی خامیوں کو دور کرتا ہے اور نہ برسوں سے جمع ہوتی ہوئی معاشی کمزوریوں کا علاج بن جاتا ہے۔ اکثر جمہوریتوں میں عوامی غصے کو یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ گویا اس کے پاس پہلے سے تیار کوئی متبادل نظام بھی موجود ہے، حالانکہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہوتی ہے۔

تمل ناڈو آج ایسے سوالات کے سامنے کھڑا ہے جنہیں مزید ٹالا نہیں جاسکتا۔ آخر اتنی سرمایہ کاری کے باوجود روزگار کیوں پیدا نہیں ہورہا؟ صنعتی ترقی کے باوجود تعلیم یافتہ نوجوان غیر محفوظ کیوں ہیں؟ ہزاروں نوجوان بہتر مواقع کی تلاش میں ریاست سے باہر جانے پر کیوں مجبور ہیں؟ اور معاشی ترقی کے دعووں کے باوجود مستقبل کا خوف اتنا گہرا کیوں ہوتا جارہا ہے؟

یہ سوالات نعروں، سوشل میڈیا مہمات یا سیاسی تماشوں سے حل نہیں ہوں گے۔

تمل ناڈو کے نوجوانوں میں جو سیاسی توانائی دکھائی دے رہی ہے، اسے محض جذباتی جوش کے طور پر نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ دراصل برسوں کی معاشی بے چینی، مایوسی اور عدم تحفظ کا سیاسی اظہار ہے۔ اس جوش کے پیچھے ایک تھکی ہوئی نسل کھڑی ہے — ایسی نسل جو مسلسل غیر یقینی حالات، سکڑتے ہوئے مواقع اور ایک بے حس نظام سے اکتا چکی ہے۔

یہ نوجوان کسی معجزے کا مطالبہ نہیں کررہے۔ وہ صرف یہ پوچھ رہے ہیں کہ کیا اس نظام میں اب بھی اتنی صلاحیت باقی ہے کہ وہ تعلیم، روزگار اور باعزت زندگی کے درمیان ٹوٹتے ہوئے رشتے کو دوبارہ جوڑ سکے؟

اصل سوال یہی ہے، اور آنے والے دنوں میں تمل ناڈو کی سیاست کو اسی سوال کا جواب دینا ہوگا۔

No comments:

Post a Comment

تمل ناڈو کی ترقی کے پیچھے چھپی بے چینی

نوجوانوں کی بے چینی اور تمل ناڈو کا سیاسی مستقبل از : جمیل احمد ملنسار Mob: 98454 98354 تمل ناڈو میں اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے، اسے صرف ایک م...