میدان میں اترنے کا وقت، حاشیے پر رہنے کا نہیں
نوجوانوں کی جدوجہد کے ساتھ مسلم اداروں کی شرکت اور اتحاد کا سوال
از : جمیل احمد ملنسار - بنگلور
9845498354
ملک کی فضا میں ایک نئی صدا گونج رہی ہے۔ یہ صدا کسی پرانی سیاسی جماعت کی نہیں، نہ کسی منجھے ہوئے قائد کی ہے۔ یہ جنریشن زی کی آواز ہے، ان نوجوانوں کی جن کے ہاتھ میں موبائل ہے، آنکھوں میں سوال ہے اور دل میں یہ چبھن کہ ان کا مستقبل ان کی آنکھوں کے سامنے گروی رکھا جا رہا ہے۔ یہ نوجوان کسی کے بلاوے پر نہیں نکلے، اپنے ضمیر کی پکار پر نکلے ہیں۔ ان کے پاس نہ کسی جماعت کا جھنڈا ہے، نہ کسی سرپرست کا سایہ، مگر ان کے پاس وہ چیز ہے جو بڑی بڑی تنظیموں کے پاس بھی اکثر نہیں ہوتی، یعنی بے لوث جذبہ اور بے خوف زبان۔ اور جب ضمیر سڑکوں پر اترتا ہے تو اقتدار کے ایوانوں میں بے چینی پھیلتی ہے، تخت کی چولیں ہلتی ہیں اور مصلحت کے پردے سرکنے لگتے ہیں۔اس وقت سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ مسلمان کہاں ہیں؟ اس تحریک میں ان کی شرکت اور حصہ داری کتنی ہے؟ اور اگر نہیں ہے تو کیوں نہیں ہے؟
یہ بات نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ مسلمان خاموش نہیں رہے۔ مسلم پرسنل لا کے تحفظ کے لیے وہ بولے، علما نے بیانات دیے، ملی تنظیموں نے یادداشتیں پیش کیں اور عوام نے دستخطی مہمات چلائیں۔ وقف کی املاک کے دفاع میں انہوں نے احتجاج کیا، مساجد، مدارس، قبرستانوں اور درگاہوں کی زمینوں کو بچانے کے لیے آواز اٹھائی۔ ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظرثانی یعنی ایس آئی آر کے نام پر جو اندیشے سر اٹھا رہے ہیں، ان پر بھی بے چینی کا اظہار ہوا۔ مگر المیہ یہ ہے کہ یہ سب آوازیں الگ الگ دائروں میں گونجتی رہیں۔ ہر احتجاج اپنے احاطے میں محصور رہا، ہر تنظیم نے اپنے پلیٹ فارم سے اپنی بات کہی، اور یوں بہت سی ندیاں بہیں مگر کوئی دریا نہ بن سکا۔ منتشر آوازیں ایوانوں تک پہنچتے پہنچتے شور بن جاتی ہیں اور مجتمع آواز مطالبہ بن جاتی ہے۔ ہم نے شور تو بہت کیا، مطالبہ بننے کی منزل تک کم ہی پہنچے۔ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ ہمارا مسئلہ اس حکومت سے جڑا ہوا ہے۔ یہ بات کسی تعصب کی بنیاد پر نہیں، واقعات کی بنیاد پر کہی جا رہی ہے۔ موجودہ حکومت کے آنے کے بعد مسلمانوں کے انفرادی اور اجتماعی مسائل میں جو اضافہ ہوا، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ طلاقِ ثلاثہ پر قانون سازی ہوئی اور اس کے ذریعے مسلم گھرانوں کے خالص دینی اور عائلی معاملات میں ریاست کو مداخلت کا راستہ ملا۔ شہریت ترمیمی قانون نے ہماری شہریت پر سوالیہ نشان لگایا اور این آر سی کے سائے نے لاکھوں گھرانوں کی نیندیں اڑا دیں۔ ہجومی تشدد نے کتنے ہی گھر اجاڑ دیے، کتنے ہی بوڑھے باپوں کے جوان بیٹے چھین لیے، اور افسوس یہ کہ بہت سے معاملات میں انصاف کی رفتار ظلم کی رفتار سے بہت پیچھے رہی۔ بلڈوزر کو عدالت کا متبادل بنا دیا گیا اور مکان گرانے کو سزا کا نام دے دیا گیا۔ وقف ترمیمی قانون نے ہماری دینی و ملی املاک کے تحفظ کو خطرے میں ڈال دیا۔ یہ فہرست طویل ہے اور ہر نام کے پیچھے ایک زخم ہے۔ جب ہمارا مسئلہ ہی اس نظام سے ہے تو ہم اس نظام کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز سے لاتعلق کیسے رہ سکتے ہیں؟
یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں اپنی روش پر نظرثانی کرنی ہوگی۔ ہم نے ایک عرصے سے یہ طرز اپنا رکھا ہے کہ نتیجے کی توقع تو پوری رکھتے ہیں، مگر میدان میں اترنے کی زحمت نہیں کرتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ حالات بدل جائیں، مگر بدلنے والوں کی صف میں کھڑے ہونے سے کتراتے ہیں۔ دور سے تائید کر دینا، بیان جاری کر دینا، ایک پوسٹ لگا دینا اور دل ہی دل میں دعا مانگ لینا حمایت ضرور ہے، مگر وہ حمایت دکھائی نہیں دیتی، اور جو حمایت دکھائی نہ دے وہ تاریخ کے حساب میں شمار نہیں ہوتی۔ اقتدار کے ایوان صرف وہ چہرے گنتے ہیں جو سامنے نظر آتے ہیں، وہ دعائیں نہیں گنتے جو پسِ پردہ مانگی جاتی ہیں۔ کسی بھی ظالم طاقت کے خلاف اصل تقاضا تو یہ تھا کہ ہم خود پہل کرتے اور قیادت کرتے، کیونکہ جس قوم کے پاس صبر، صداقت اور شہادت کی ایسی روشن تاریخ ہو، اسے دوسروں کے پیچھے چلنا زیب نہیں دیتا۔ مگر جب دوسرے میدان میں آ چکے ہیں تو کم از کم ان کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا ہمارا فرض بنتا ہے۔ جو میدان میں اترا ہو، اس کے ساتھ اتر کر ہی کام کیا جاتا ہے، باہر بیٹھ کر حوصلہ افزائی کرنے سے نہ جنگیں جیتی جاتی ہیں، نہ تحریکیں۔جنریشن زی کے نوجوانوں، سماجی کارکنوں اور دیگر اٹھنے والی آوازوں کے ساتھ مسلم اداروں کی شمولیت اب ناگزیر ہو چکی ہے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ، جماعتِ اسلامی ہند اور جمعیۃ علمائے ہند، یہ وہ ادارے ہیں جنہیں ملت نے اعتماد بخشا ہے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ کے پاس علمی وقار اور مسلکوں کی نمائندگی ہے، جماعتِ اسلامی کے پاس منظم فکر اور تربیت یافتہ کارکن ہیں، اور جمعیۃ علمائے ہند کے پاس ایک وسیع اور منظم کیڈر موجود ہے جو گاؤں گاؤں اور قصبے قصبے پھیلا ہوا ہے۔ یہ کیڈر اگر منظم طریقے سے اس احتجاج کا حصہ بنے تو بے سمت جوش کو سمت مل سکتی ہے، نوجوانوں کے ولولے کو تجربے کا سہارا مل سکتا ہے، اور احتجاج کی تعداد ہی نہیں، اس کا وزن بھی بڑھ سکتا ہے۔ جمعیۃ کا کیڈر اپنی تنظیمی صلاحیت کے ساتھ جب سڑک پر آئے گا تو اس کی موجودگی محض ایک گروہ کی موجودگی نہیں ہوگی، وہ ایک پیغام ہوگا کہ یہ ملک ہمارا ہے، اس کا آئین ہمارا ہے اور اس کے مستقبل کے فیصلوں میں ہم تماشائی نہیں، شریک ہیں۔ یہ طاقت مسجدوں اور مدرسوں کی چار دیواری میں بند رکھنے کی نہیں، اسے آئین کے دائرے میں رہ کر پرامن انداز سے میدان میں لانے کی ضرورت ہے۔اتحاد کا ایسا موقع ہمیں شاید پھر نہ ملے۔ ہم مسلکی اور جماعتی اختلافات کی دیواریں اٹھائے کھڑے رہتے ہیں، جبکہ ضرورت نے بڑی بڑی دشمنیوں کو ہم نوالہ بنا دیا ہے۔ ایران کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ اپنے نظریاتی تحفظات کے باوجود وہ بڑی طاقتوں کے ساتھ صف بندی پر آمادہ ہوا، کیونکہ بقا کا تقاضا اناؤں سے بڑا ہوتا ہے۔ سیاست کی دنیا میں کوئی دوستی دائمی ہوتی ہے نہ کوئی دشمنی، صرف مفاد دائمی ہوتا ہے، اور جو قومیں اپنے مفاد کی پہچان رکھتی ہیں وہ اختلاف کو اپنے حق میں مؤخر کر دیتی ہیں۔ جب ایک ریاست مصلحت کے لیے اختلاف پسِ پشت ڈال سکتی ہے تو ایک ملت اپنے وجود کے لیے ایسا کیوں نہیں کر سکتی؟ ہمارے ہاں تو اختلاف عقائد کا بھی نہیں، اکثر ترجیحات اور طریقۂ کار کا ہوتا ہے، اور ایسے اختلاف کو بقا کے مسئلے پر قربان کر دینا کوئی بڑی قربانی نہیں۔
اور یہ بھی سوچنا ہوگا کہ اگر آج ہم نے یہ موقع گنوا دیا تو کل ہم کس منہ سے شکایت کریں گے۔ جو تحریک آج نوجوان اٹھا رہے ہیں، اگر وہ ہماری شرکت کے بغیر کامیاب ہوئی تو ہمارے حصے میں شکر گزاری بھی نہیں آئے گی، اور اگر ناکام ہوئی تو ہم پر یہ الزام آئے گا کہ ہم نے ساتھ نہیں دیا۔ دونوں صورتوں میں گھاٹا ہمارا ہے۔ البتہ اگر ہم شریک ہوں تو کامیابی میں ہمارا حق بھی ہوگا اور ہماری آواز بھی۔اب حاصلِ کلام یہ ہے کہ ہمیں چند باتیں طے کر لینی چاہئیں۔اول، مسلم قیادت اور ادارے یہ اعلان کریں کہ وہ جمہوری اور آئینی مطالبات کے لیے اٹھنے والی ہر تحریک کے ساتھ کھلے عام کھڑے ہیں۔ یہ اعلان مبہم بیان کی صورت میں نہیں، واضح لائحۂ عمل کی صورت میں ہو۔دوم، پرسنل لا، وقف اور ووٹر فہرست جیسے مسائل کو الگ الگ لڑنے کے بجائے ایک مشترکہ مطالبات نامے کی صورت میں پیش کیا جائے۔ جب سب تنظیمیں ایک زبان میں بولیں گی تو ان کی بات کو نظر انداز کرنا آسان نہ ہوگا۔سوم، جمعیۃ علمائے ہند اور دیگر تنظیمیں اپنے کیڈر کو منظم، باوقار اور پرامن شرکت کی ہدایت دیں، اور ہر ضلع و قصبے میں ذمہ دار افراد مقرر کیے جائیں جو نظم و ضبط کی نگرانی کریں۔چہارم، نوجوانوں کی قیادت کو دبانے کے بجائے ان کے ساتھ مکالمہ کیا جائے۔ ہمارے بزرگوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ آج کے احتجاج کی زبان وہی ہے جو نوجوان بولتے ہیں، اور ان کے انداز پر ناک بھوں چڑھانے کے بجائے ان کے جذبے کو سمت دینا زیادہ دانش مندی ہے۔پنجم، ہر قدم میں نظم و ضبط اور آئینی دائرہ ملحوظ رہے تاکہ ہماری شرکت ہماری طاقت بنے، کسی کے لیے بہانہ نہ بنے۔ ہمارا ہتھیار ہماری تعداد کے ساتھ ہمارا کردار بھی ہونا چاہیے۔ششم، اس شرکت کو وقتی ابال نہ بنایا جائے۔ ایک دن کا مظاہرہ خبر بنتا ہے، مگر مسلسل جدوجہد تاریخ بنتی ہے۔ ہمیں اپنی شرکت کو قانونی چارہ جوئی، عوامی بیداری اور سیاسی مکالمے کے ساتھ جوڑ کر ایک مستقل حکمتِ عملی کی شکل دینی ہوگی۔تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ ایک ہی ہوتا ہے: جو میدان میں تھے، ان کا نام لکھا جاتا ہے، اور جو دور سے دیکھتے رہے، ان کا ذکر صرف حاشیے میں آتا ہے۔ فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم متن میں ہوں گے یا حاشیے میں۔
Comments
Post a Comment