اُجین شاہی مسجد: مشینری کی خرابی یا جلد بازی؟

جمیل احمد ملنسارؔ، بنگلور |

9845498354


اُجین کی تاریخی شاہی مسجد کے گنبد اور پہلی منزل کو منارہ گرانے کی کارروائی کے دوران نقصان پہنچا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مشینری کی خرابی اور بیلٹ ٹوٹنے سے منارہ گنبد پر گرا، جس سے یہ نقصان ہوا۔ مگر مقامی مسلمان اسے جلد بازی اور دھوکہ قرار دے رہے ہیں، کیونکہ کمیونٹی نے خود حصّہ گرانے کی پیشکش کی تھی اور انتظامیہ پر اعتماد کرتے ہوئے تعاون کیا تھا۔

یہ کارروائی 2028 کے سمہستھا کمبھ کی تیاریوں کے تحت سڑک چوڑی کرنے کے پروجیکٹ کا حصّہ ہے۔ ہائی کورٹ کی اجازت اور فریقین کے معاہدے کے بعد صرف محدود حصّہ (تین فٹ لٹکتی سل اور ایک منارہ) ہٹانا طے پایا تھا، منارہ کو بعد میں دوبارہ
تعمیر کرنے کی شرط کے ساتھ۔


واقعے کے بعد پولیس نے مسلم اکثریتی علاقوں میں بیرکیڈنگ کر دی ہے اور دو کلومیٹر تک نقل و حرکت پر پابندیاں ہیں۔ مسجد
کے سابق صدر ارشد رحمانی کا اس صدمے سے انتقال ہو گیا، جو پورے علاقے میں غم میں اضافہ کر گیا ہے۔

قاضی خلیق الرحمٰن نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ امن و امان قائم رکھیں اور اشتعال انگیزی سے بچیں، ساتھ ہی یقین دلایا ہے کہ جو حصّے معاہدے کا حصّہ نہیں تھے ان کی مرمت جلد شروع کی جائے گی۔

اس پورے واقعے میں سب سے اہم نکتہ اعتماد کا ہے۔ کمیونٹی نے جھگڑے اور بلڈوزر کارروائی سے بچنے کے لیے خود حصّہ گرانے کی ذمہ داری لی، لیکن جب انتظامیہ نے مداخلت کی تو نتائج تباہ کن نکلے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا مرمت کے وعدے کے ساتھ ساتھ باہمی بھروسہ بھی بحال ہو پائے گا؟

Comments

Popular Posts