منی پور جل رہا ہے، اور دہلی نے لاشیں گننا سیکھ لیا ہے
منی پور جل رہا ہے، اور دہلی نے لاشیں گننا سیکھ لیا ہے
منی پور جل رہا ہے، اور دہلی نے لاشیں گننا سیکھ لیا ہے
از: جمیل احمد ملنسارؔ، بنگلور
کچھ سانحات کے ساتھ حکومتوں کا رویہ وقت کے ساتھ بدل جاتا ہے۔
شروع میں یقین دہانیاں ہوتی ہیں۔ پھر مذمتیں۔ پھر کمیٹیاں بنتی ہیں،
معاوضوں کا اعلان ہوتا ہے، امن کی اپیلیں ہوتی ہیں، مزید سکیورٹی فورسز
بھیج دی جاتی ہیں۔ پھر آہستہ آہستہ وقت گزرتا ہے۔ خبریں کم ہو جاتی ہیں۔
ٹیلی ویژن کے بریکنگ نیوز بدل جاتے ہیں۔ اور ایک دن پورا سانحہ چند اعداد
میں سمٹ جاتا ہے۔
306 ہلاک۔49 لاپتہ۔ یہ اعداد وزیر داخلہ نے منی پور اسمبلی میں پیش کیے ہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ صرف اعداد ہیں؟
نہیں۔
306 کا مطلب صرف 306 نہیں ہوتا۔ان میں سے ہر شخص کا ایک نام تھا۔ ایک گھر تھا۔ ایک ماں، ایک باپ، بیوی،شوہر، بچے یا بہن بھائی تھے۔ کسی کے انتظار میں شاید آج بھی گھر کا دروازہ دیر تک کھلا رہتا ہوگا۔ کسی کی تصویر آج بھی دیوار پر لگی ہوگی۔ کسی کے بچے نے شاید ابھی تک یہ ماننے سے انکار کیا ہوگا کہ وہ واپس نہیں آئے گا۔
اور پھر 49 لوگ لاپتہ ہیں۔موت، جتنی بھی دردناک ہو، کبھی کبھی ایک آخری حقیقت بن جاتی ہے۔ لیکن لاپتہ ہونا؟ وہ موت سے بھی زیادہ بے رحم انتظار ہے۔ کسی کو نہیں معلوم کہ وہ زندہ ہے یا مر چکا ہے۔ کسی کو یہ بھی نہیں معلوم کہ کس بات کا انتظار کیا جائے—ایک فون کال کا، کسی سرکاری اطلاع کا، کسی لاش کے ملنے کا یا کسی ایسے معجزے کا جس پر عقل یقین نہیں کرتی، مگر دل پھر بھی آس لگائے بیٹھا رہتا ہے۔
یہ صرف منی پور کا سوال نہیں ہے۔یہ ہندوستان سے سوال ہے۔ آخر ایک جمہوری اور آئینی ملک میں یہ سب اتنے عرصے تک کیسے چلتا رہا؟
مئی 2023 میں ہونے والا ’’ٹرائبل سولیڈیریٹی مارچ‘‘ موجودہ تشدد کا فوری
سبب بنا۔ یہ مارچ میتی برادری کے درج فہرست قبائل (Scheduled Tribe) کا
درجہ حاصل کرنے کے مطالبے کے خلاف نکالا گیا تھا۔
لیکن یہ کہنا کہ منی پور کا بحران اسی دن شروع ہوا، حقیقت سے نظریں چرانا ہوگا۔منی پور کی جغرافیائی اور سیاسی ساخت ہمیشہ پیچیدہ رہی ہے۔ میتی تقریباً 53 فیصد ہیں اور بنیادی طور پر امپھال ویلی میں آباد ہیں۔ دوسری طرف ناگا اور کوکی سمیت قبائلی برادریاں، جو تقریباً 40 فیصد آبادی پر مشتمل ہیں، زیادہ تر پہاڑی علاقوں میں رہتی ہیں۔یہ صرف آبادی کے اعداد نہیں ہیں۔ان کے پیچھے زمین کے جھگڑے ہیں، شناخت کا مسئلہ ہے، سیاسی نمائندگی ہے،جنگلات اور زمین کے حقوق ہیں، ہجرت کا خوف ہے، وسائل کی تقسیم کا سوال ہے اور ایک دوسرے پر برسوں سے قائم بداعتمادی ہے۔
مئی 2023 میں تشدد شروع ہوا، لیکن اس کے لیے زمین بہت پہلے سے تیار ہو چکی تھی۔ یہ کہنا درست ہوگا کہ آگ اس دن لگی، مگر سوال یہ بھی ہے کہ بارود وہاں کس نے اور کب سے جمع ہونے دیا تھا؟ تاریخ کو سمجھنا ضروری ہے، لیکن تاریخ کو حکومت کی ناکامی کا بہانہ نہیں بنایا جا سکتا۔ ریاست کا کام یہ نہیں کہ وہ انتظار کرے کہ سیاسی اختلاف ایک دن بندوقوں،لاشوں اور جلتے ہوئے گھروں میں تبدیل ہو جائے۔ ریاست کا کام اس سے پہلے حرکت میں آنا ہوتا ہے۔
منی پور میں یہی نہیں ہوا۔ تشدد کے ابتدائی مہینوں میں ایسا لگتا تھا جیسے منی پور میں دو الگ دنیا آباد ہیں۔ ایک وہ جو سرکاری بیانات میں دکھائی دیتی تھی: سکیورٹی آپریشن، امن کی کوششیں، حالات پر نظر اور انتظامیہ کی سرگرمیاں۔ اور دوسری وہ منی پور جو عام لوگ دیکھ رہے تھے: ریلیف کیمپ، جلے ہوئے گھر، خالی بستیاں، مسلح گروہ، بند راستے اور خوف زدہ بچے۔
ہندوستان نے پہلے بھی فرقہ وارانہ اور نسلی تشدد دیکھا ہے۔ منی پور کا
المیہ صرف یہ نہیں تھا کہ تشدد ہوا۔ المیہ یہ تھا کہ وہ ختم نہیں ہوا۔
شروع کے چند دنوں میں کوئی حکومت حیرت کا اظہار کر سکتی ہے۔ کچھ ہفتوں تک انتظامی مشکلات کا حوالہ دے سکتی ہے۔ لیکن جب ہفتے مہینوں میں بدل جائیں اور مہینے برسوں میں، تو پھر مسئلہ صرف حالات کی پیچیدگی نہیں رہتا۔
پھر سوال حکومت کی صلاحیت اور ارادے کا ہوتا ہے۔فروری میں صدر راج نافذ ہونا اس بات کا اشارہ تھا کہ پہلے والا انتظامی ڈھانچہ صورتحال پر قابو پانے میں ناکام ہو چکا تھا۔ بعد میں صدر راج ختم ہوا اور نئی حکومت قائم ہوئی۔ آئینی انتظام بحال ہو گیا۔لیکن لوگوں کا اعتماد بحال ہوا یا نہیں؟
یہ سوال کہیں زیادہ اہم ہے۔ حکومتیں بدلنا آسان ہے۔لوگوں کے دلوں سے خوف نکالنا مشکل۔ کاغذوں پر امن بحال کیا جا سکتا ہے۔یادوں میں نہیں۔
منی پور پر بحث کرتے ہوئے سب سے آسان کام اعداد گنوانا ہے۔میتی 53 فیصد۔قبائلی 40 فیصد۔لیکن انسان صرف آبادی کے اعداد نہیں ہوتے۔
کسی ملک کا آئین اس لیے نہیں بنایا جاتا کہ اکثریت جو چاہے، اسے خود بخود درست قرار دے دیا جائے۔ اور اقلیتوں کے حقوق اس لیے نہیں ہوتے کہ اکثریت ان پر مہربانی کرے۔ حقوق، حقوق ہوتے ہیں۔ان کا فیصلہ آبادی کی تعداد سے نہیں ہونا چاہیے۔لیکن یہاں ایک اور سچ بھی ہے۔کسی بڑی برادری کے خدشات کو صرف اس لیے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ وہ تعداد میں زیادہ ہے۔
منی پور کے مسئلے کا حل یہ نہیں کہ ایک طرف کو صحیح اور دوسری کو غلط قرار دے دیا جائے۔ کیونکہ تشدد کے بعد سب سے پہلا کام کسی ایک کمیونٹی کو جتوانا نہیں ہوتا۔
سب سے پہلا کام ریاست کو دوبارہ غیرجانبدار ثابت کرنا ہوتا ہے۔جب ایک شہری کو یہ یقین نہ رہے کہ قانون اسے برابر تحفظ دے گا، تو پولیس
بھی مشکوک لگنے لگتی ہے۔ تحقیقات بھی مشکوک ہو جاتی ہیں۔ گرفتاریاں بھی مشکوک۔ خاموشیاں بھی مشکوک۔
اور پھر ریاست صرف امن نہیں کھوتی۔وہ اپنی ساکھ کھونے لگتی ہے۔
دہلی میں ایک عجیب سی عادت ہے۔جو بحران ٹی وی کی اسکرین سے اتر جائے، وہ آہستہ آہستہ قومی بحث سے بھی اترنے لگتا ہے۔لیکن کسی مسئلے کا خبروں سے غائب ہو جانا، اس کا ختم ہو جانا نہیں ہوتا۔منی پور اس کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔306 اموات کے بعد چند سوال پوچھے جانے چاہییں۔کون ناکام ہوا؟ کس نے خطرے کو کم سمجھا؟ کیا وارننگز موجود تھیں؟ تشدد کو شروع میں کیوں نہیں روکا جا سکا؟کتنے لوگ اب بھی بے گھر ہیں؟کتنے گھر جلے؟
کتنی عبادت گاہیں تباہ ہوئیں؟کتنے ہتھیار آج بھی گردش میں ہیں؟
اور قتل، آتش زنی اور جنسی تشدد کے کتنے ملزمان واقعی قانون کے کٹہرے تک پہنچے؟ یہ سوالات صرف حکومت پر تنقید کے لیے نہیں ہیں۔ یہ ان خاندانوں کا حق ہیں جنہوں نے اپنا سب کچھ کھو دیا۔اور ایک سوال شاید سب سے مشکل ہے: تین سال کی نفرت اور خوف کے بعد امن کی شکل کیا ہوگی؟ یہ سوال کسی پریس کانفرنس میں حل نہیں ہوگا۔ نہ ہی چند سکیورٹی بریفنگز سے۔ کیونکہ امن صرف فائرنگ رک جانے کا نام نہیں۔
امن وہ ہے جب ایک کوکی خاندان اور ایک میتی خاندان دونوں کو یقین ہو کہ ایک ہی قانون ان دونوں کی حفاظت کرے گا۔
دہلی کو ایک سوال کا جواب ابھی بھی دینا ہے۔منی پور کو اتنے عرصے تک اس حد تک نظر انداز کیوں ہونے دیا گیا؟ یہ سوال اس لیے تکلیف دہ ہے کیونکہ اس سے ہندوستانی سیاست کی ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے۔
ہر موت ایک جیسی قومی توجہ حاصل نہیں کرتی۔ہر سانحہ ایک جیسی سیاسی اہمیت نہیں رکھتا۔کچھ حادثات پر پورا ملک رک جاتا ہے۔
کچھ المیے صرف مقامی خبر بن کر رہ جاتے ہیں۔اور کچھ، وقت گزرنے کے بعد، معمول بن جاتے ہیں۔منی پور کے ساتھ شاید سب سے بڑا ظلم یہی ہوا۔
لوگوں نے اس کے بارے میں سننا چھوڑ دیا، جبکہ وہاں کے لوگ ابھی بھی اس کے نتائج کے ساتھ زندہ تھے۔
تشدد نے صرف لوگوں کو نہیں مارا۔اس نے منی پور کے ذہن کو بدل دیا۔بستیوں کے درمیان فاصلہ بڑھا۔ لوگوں کے درمیان خوف بڑھا۔ سڑکیں دوبارہ کھل سکتی ہیں۔ بازار دوبارہ آباد ہو سکتے ہیں۔ حکومتیں دوبارہ بن سکتی ہیں۔ فورسز واپس جا سکتی ہیں۔ لیکن جن لوگوں نے اپنا گھر جلتے دیکھا ہو، ان سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اب سب کچھ معمول پر آ گیا ہے۔یادیں سرکاری نوٹیفکیشن سے نہیں مٹتیں۔ہندوستان خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہتا ہے۔منی پور ایک زیادہ مشکل سوال پوچھتا ہے: جب کسی شہری کو ریاست کی سب سے زیادہ ضرورت ہو، تو اس وقت جمہوریت اس کے یے کیا کرتی ہے؟جمہوریت کا امتحان صرف انتخابات میں نہیں ہوتا۔ اس کا امتحان اس وقت ہوتا ہے جب لوگ خوف زدہ ہوں، ادارے دباؤ میں ہوں اور حکومت کو یہ فیصلہ کرنا ہو کہ سچ کا سامنا کرنا ہے یا صرف بحران کو سیاسی طور پر سنبھالنا ہے۔ منی پور ایسا ہی امتحان ہے۔ اور یہ ماننے میں کوئی فائدہ نہیں کہ سب کچھ ٹھیک ہو گیا ہے۔
ابھی بہت کچھ باقی ہے۔ 306 ہلاک اور 49 لاپتہ صرف ایک تنازعے کا حساب نہیں ہیں۔ یہ اس تاخیر کا حساب بھی ہیں جس نے حالات کو بگڑنے دیا۔
یہ سیاسی ہچکچاہٹ کا حساب ہیں۔ یہ انتظامی ناکامی کا حساب ہیں۔
اور یہ اس سوال کا حساب ہیں کہ آخر ایک ریاست کے لوگوں کو کتنی دیر تک جلناپڑتا ہے تاکہ باقی ملک ان کی طرف سنجیدگی سے دیکھے۔منی پور کو مزید وعدوں کی ضرورت نہیں۔اسے جواب چاہیے۔ذمہ داری طے ہونی چاہیے۔انصاف ہونا چاہیے—اور ایسا انصاف جس پر ہر برادری کو اعتماد ہو۔
لاپتہ لوگوں کے خاندانوں کو جواب ملنا چاہیے۔بے گھر لوگوں کو اپنے گھروں میں عزت اور تحفظ کے ساتھ واپس جانے کا حق ملناچاہیے۔اور ایک ایسا سیاسی حل تلاش کرنا ہوگا جس میں کسی بھی برادری سے یہ نہ کہا جائے کہ مستقل خوف میں رہو اور اسے امن سمجھ لو۔تب تک، یہ اعداد ہمارے سامنے رہیں گے۔306 ہلاک۔49 لاپتہ۔سرکاری فائلوں میں شاید یہ صرف اعداد ہوں۔
لیکن حقیقت میں یہ خالی کرسیاں ہیں۔ماؤں کا انتظار ہے۔بچوں کے سوال ہیں۔وہ فون کالیں ہیں جو کبھی واپس نہیں آئیں۔وہ گھر ہیں جن کی راکھ میں شاید اب بھی کسی کی زندگی دفن ہے۔اور وہ 49 خاندان ہیں جو شاید ہر دستک پر دروازے کی طرف دیکھتے ہوں گے۔دہلی نے مرنے والوں کو گننا سیکھ لیا ہے۔اب اسے یہ بھی ثابت کرنا ہوگا کہ **وہ زندہ لوگوں کو بچانا جانتی ہے۔
Comments
Post a Comment