ماں آ گئی
MAA AGAYI - SHORT STORY
BY : Jameel Aahmed Milansaar
افسانہ : ماں آ گئی.
از: جمیل احمد ملنسار
شہر کے اُس جدید اپارٹمنٹ میں ہر چیز موجود تھی؛ خودکار پردے، آواز سے چلنے والی روشنیاں، روبوٹک ویکیوم کلینر اور دیوار پر لگی ایک بڑی اسکرین جو گھر کے ہر کمرے کو کنٹرول کرتی تھی۔
صرف ایک چیز موجود نہیں تھی: گھر۔
عمر فاروق اکثر یہ جملہ سن کر ہنسا کرتا تھا۔
"گھر تو یہی ہے، پھر کیا کمی ہے؟"
لیکن اُس کی بارہ سالہ بیٹی حنا ہر بار خاموش ہو جاتی۔
اُس دن بھی ایسا ہی ہوا۔ عمر ایک بین الاقوامی آن لائن میٹنگ میں مصروف تھا۔ بیوی سارہ اپنے ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے منصوبے میں لگی ہوئی تھی۔ حنا اپنے کمرے میں تھی اور اس کا چھوٹا بھائی ارسلان ورچوئل گیمز کی دنیا میں گم۔
گھر میں خاموشی تھی، مگر وہ سکون والی خاموشی نہیں، اجنبیت والی خاموشی تھی۔
شام کے وقت دروازے کی گھنٹی بجی۔
عمر نے موبائل ایپ سے دروازہ کھولا۔ اسکرین پر ایک نحیف سی بوڑھی عورت نظر آئی۔
وہ چونک گیا۔ "اماں؟"
چھ برس بعد اُس کی ماں پہلی بار گاؤں سے شہر آئی تھی۔
عمر نے جلدی سے دروازہ کھولا۔ ماں کے ہاتھ میں ایک پرانا کپڑے کا تھیلا تھا اور چہرے پر وہی مانوس مسکراہٹ۔ "بیٹا، سوچا بچوں کو دیکھ آؤں۔"
حنا دوڑتی ہوئی آئی۔ دادی نے اُسے سینے سے لگا لیا۔
اُس لمحے گھر میں پہلی بار کسی انسانی لمس کی خوشبو پھیلی۔
اگلے چند دنوں میں ایک عجیب تبدیلی شروع ہوئی۔
دادی نے کسی کو نصیحت نہیں کی۔کسی کو ڈانٹا نہیں۔
صبح وہ بچوں کے ساتھ ناشتہ کرتی۔ رات کو کہانیاں سناتی۔ کبھی اپنے گاؤں کے آموں کا ذکر کرتی، کبھی اُس دریا کا جہاں اب پانی کم ہو گیا تھا۔
حنا نے پہلی بار موبائل بند کرکے کسی کی بات پوری توجہ سے سنی۔
ارسلان نے گیم کے بجائے دادی سے پتنگ بنانا سیکھا۔
سارہ حیران تھی کہ بچے اب کھانے کی میز پر وقت پر آ جاتے ہیں۔
ایک رات بجلی چلی گئی۔بیک اپ سسٹم بھی خراب تھا۔گھر اندھیرے میں ڈوب گیا۔ارسلان گھبرا گیا۔ "وائی فائی نہیں چل رہا!" حنا نے بےچینی سے موبائل دیکھا۔ تب دادی نے ایک موم بتی جلائی۔ ننھی سی روشنی پورے کمرے میں پھیل گئی۔ "ہماری جوانی میں تو اکثر بجلی چلی جاتی تھی،" دادی ہنس کر بولیں، "پھر ہم باتیں کرتے تھے۔" سب ہنس پڑے۔ پھر باتیں شروع ہوئیں۔ پہلے بچوں نے بات کی۔ پھر سارہ نے۔ پھر عمر نے۔
اور شاید کئی برسوں بعد وہ سب ایک دوسرے کو سن بھی رہے تھے۔
رات گئے جب سب سو گئے تو عمر بالکونی میں کھڑا تھا۔
شہر کی روشنیاں دور تک پھیلی تھیں۔ دادی آہستہ سے اُس کے پاس آ کھڑی ہوئیں۔ "کیا سوچ رہے ہو؟" عمر نے گہری سانس لی۔
"اماں، پتہ نہیں کیوں لگتا ہے کہ یہ گھر بہت بڑا تھا، لیکن خالی تھا۔"
ماں مسکرائیں۔ "گھر دیواروں سے نہیں بھرتے بیٹا۔" عمر نے سر جھکا لیا۔
اُسے یاد آیا کہ پچھلے چند برسوں میں اُس نے بچوں کے لیے بہترین اسکول، بہترین آلات اور بہترین سہولتیں خریدی تھیں، مگر وقت نہیں دیا تھا۔
اگلی صبح ایک عجیب منظر تھا۔
ناشتے کی میز پر سب موجود تھے۔
موبائل ایک طرف رکھے ہوئے تھے۔
کوئی جلدی میں نہیں تھا۔
کوئی اسکرین پر نہیں جھکا تھا۔
کوئی تنہا نہیں تھا۔
حنا نے خوشی سے کہا، "دادی، آپ ہمیشہ ہمارے ساتھ رہیں گی نا؟"
دادی نے جواب دینے کے بجائے عمر کی طرف دیکھا۔
عمر نے پہلی بار بلا تردد کہا:
"ہاں، اماں یہیں رہیں گی۔"
دادی کی آنکھوں میں نمی تیر گئی۔
اور اُسی لمحے حنا نے تالیاں بجا کر اعلان کیا:
"اب ہمارا گھر مکمل ہو گیا!"
سب ہنس پڑے۔
کھڑکی سے صبح کی روشنی اندر آ رہی تھی۔
دیوار پر لگی اسکرین خاموش تھی۔
مصنوعی ذہانت کے آلات بھی خاموش تھے۔
مگر گھر بول رہا تھا۔
محبت کی زبان میں۔ اور اُس دن عمر نے محسوس کیا کہ جدید زمانے میں سب سے بڑی ایجاد شاید کوئی مشین نہیں، بلکہ وہ رشتہ ہے جو انسان کو انسان سے جوڑ دے۔ کیونکہ بعض اوقات گھر میں صرف ایک شخص نہیں آتا۔ اس کے ساتھ وقت آتا ہے، شفقت آتی ہے، یادیں آتی ہیں، اور بکھرے ہوئے دلوں کو جوڑنے والی ایک غیر مرئی روشنی آتی ہے۔ اور اُس روشنی کا نام ہوتا ہے: ماں۔
Comments
Post a Comment