جب پاسپورٹ بھی ناکافی ٹھہرا - کون ہے اصلی ہندوستانی؟

   جب پاسپورٹ بھی ناکافی ٹھہرا - کون ہے اصلی ہندوستانی؟




از: جمیل احمد ملنسار
Mobile : 98454 98354

بعض اوقات ایک سرکاری وضاحت محض ایک انتظامی بیان نہیں ہوتی، بلکہ وہ ریاست اور شہری کے تعلق کی نوعیت پر ایک بڑا سوالیہ نشان ثبت کر دیتی ہے۔ حالیہ دنوں میں جب حکومت کی جانب سے یہ وضاحت سامنے آئی کہ پاسپورٹ ہندوستانی شہریت کا قطعی ثبوت نہیں بلکہ بنیادی طور پر ایک سفری دستاویز ہے، تو یہ بات قانونی حلقوں میں شاید کوئی نئی بحث نہ ہو، لیکن عوامی سطح پر اس نے ایک ایسی بے چینی کو جنم دیا ہے جسے محض قانونی اصطلاحات کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ عام آدمی قانون کی باریک بینی، چھان بین اور نکتہ چینی سے نہیں، اپنے تجربات اور ریاست کے رویّے سے نتیجہ اخذ کرتا ہے۔

ایک عام ہندوستانی شہری کے لیے پاسپورٹ محض چند صفحات پر مشتمل ایک سرکاری کتابچہ نہیں ہوتا۔ وہ اسے اپنے وطن کی جانب سے دی گئی ایک سندِ شناخت سمجھتا ہے۔ اس دستاویز کے حصول کے لیے وہ مختلف سرکاری دفاتر کے چکر لگاتا ہے، اپنی شناخت اور رہائش کے ثبوت فراہم کرتا ہے، پولیس ویریفکیشن کے مرحلے سے گزرتا ہے اور کئی سطحوں پر جانچ پڑتال کے بعد اس کے ہاتھ میں وہ دستاویز آتی ہے جسے دنیا بھر کے ممالک اس کی قومی شناخت کے طور پر تسلیم کرتے ہیں۔ چنانچہ جب یہی ریاست یہ کہتی ہے کہ اس دستاویز کو شہریت کی قطعی دلیل نہیں سمجھا جا سکتا تو سوال صرف ایک قانونی نکتے کا نہیں رہتا، بلکہ اعتماد کے ایک وسیع تر بحران کا روپ اختیار کر لیتا ہے۔



قانون یقیناً اپنی جگہ موجود ہے۔ حکومت کے پاس اپنے دلائل ہیں، عدالتی فیصلوں کے حوالے ہیں اور قانونی دفعات کی تشریحات ہیں۔ لیکن جمہوریتوں کی بنیاد صرف قانون کی کتابوں پر نہیں رکھی جاتی۔ ان کی اصل طاقت اس اعتماد میں پوشیدہ ہوتی ہے جو شہری اپنے اداروں اور اپنی ریاست پر کرتا ہے۔ اگر ایک ریاست اپنے شہری کو ایک دستاویز جاری کرے، اس کی شناخت کی توثیق کرے، اسے بین الاقوامی سطح پر اس ملک کا نمائندہ تسلیم کرے اور پھر یہ بھی کہے کہ اس سے اس کی شہریت ثابت نہیں ہوتی، تو لازماً سوال پیدا ہوگا کہ آخر شہری کس بنیاد پر یقین کرے کہ اس کا تعلق اس وطن سے غیر متنازع اور محفوظ ہے؟

یہ سوال کسی سیاسی جماعت کا پیدا کردہ نہیں ہے، نہ ہی یہ محض حزبِ اختلاف کا اعتراض ہے۔ یہ سوال ہندوستان کے کروڑوں عام شہریوں کا ہے۔ وہ کسان جو نسلوں سے اپنی زمین پر کھیتی کر رہا ہے، وہ مزدور جو برسوں سے شہروں کی تعمیر میں اپنا خون پسینہ بہا رہا ہے، وہ طالب علم جو بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرتے ہوئے اپنے پاسپورٹ کو اپنی شناخت سمجھتا ہے، اور وہ بزرگ شہری جس نے آزادی کے بعد کے ہندوستان کو اپنی آنکھوں سے بنتے اور سنورتے دیکھا ہے—سب کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ اگر پاسپورٹ بھی کافی نہیں تو پھر کافی کیا ہے؟

اصل تشویش اس بیان کے قانونی پہلو سے زیادہ اس کے سماجی اور نفسیاتی اثرات سے جڑی ہوئی ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہندوستان میں شہریت، شناخت اور دستاویزات کے گرد گھومنے والی بحثوں نے ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے جس میں یقین کے بجائے تشویش نے جگہ بنائی ہے۔ این آر سی، سی اے اے، آدھار، ووٹر شناختی کارڈ اور دیگر دستاویزات کے حوالے سے ہونے والی بحثوں نے بار بار یہی سوال پیدا کیا ہے کہ ایک عام شہری آخر اپنی ہندوستانیت کو کس معیار پر ثابت کرے گا۔ ریاست کی جانب سے جاری ہونے والی ہر دستاویز کے ساتھ اگر ایک نئی وضاحت منسلک ہو جائے تو عوامی ذہن میں ابہام پیدا ہونا ناگزیر ہے۔




ہندوستان کی سماجی حقیقت بھی اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔ اس ملک میں کروڑوں ایسے لوگ بستے ہیں جن کے پاس مکمل خاندانی ریکارڈ موجود نہیں۔ لاکھوں افراد ایسے ہیں جن کی پیدائش کا اندراج اس دور میں نہیں ہوا جب دیہی علاقوں میں رجسٹریشن کا نظام کمزور تھا۔ بے شمار خاندان قدرتی آفات، فسادات، غربت اور نقل مکانی کے باعث اپنے اہم کاغذات کھو چکے ہیں۔ اگر شہریت کا تصور صرف دستاویزی سختی کے گرد گھومنے لگے تو سب سے پہلے یہی طبقات غیر یقینی اور خوف کا شکار ہوں گے۔ طاقتور افراد کے پاس وسائل، وکلا اور متبادل ذرائع ہوتے ہیں، لیکن ایک عام شہری کے پاس وہی دستاویزات ہوتی ہیں جو ریاست خود اسے جاری کرتی ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں سوال قانون سے آگے بڑھ کر جمہوری فلسفے کا بن جاتا ہے۔ ریاست کا فرض صرف یہ نہیں کہ وہ شہریوں کی شناخت کی جانچ کرے؛ اس کا فرض یہ بھی ہے کہ وہ انہیں ذہنی اور آئینی تحفظ کا احساس دے۔ جمہوریت کا حسن اس بات میں نہیں کہ شہری مسلسل اپنی وفاداری اور اپنی شناخت ثابت کرتا پھرے، بلکہ اس میں ہے کہ ریاست اپنے شہریوں پر اعتماد کرے اور انہیں برابر کا شریکِ وطن سمجھے۔

تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ریاستیں اس وقت کمزور نہیں ہوتیں جب ان کے وسائل کم ہو جائیں؛ وہ اس وقت کمزور ہوتی ہیں جب ان کے شہری ان پر اعتماد کھو بیٹھتے ہیں۔ اعتماد کا رشتہ نہ تو عدالت کے فیصلے سے قائم ہوتا ہے اور نہ ہی کسی سرکاری سرکلر سے۔ یہ برسوں کے رویّوں، پالیسیوں اور طرزِ حکمرانی سے پیدا ہوتا ہے۔ جب شہری یہ محسوس کرنے لگے کہ اس کی شناخت مستقل تشکیک کے دائرے میں ہے تو اس کے دل میں پیدا ہونے والی بے یقینی پورے جمہوری نظام کو متاثر کرتی ہے۔

یہ امر بھی غور طلب ہے کہ وطن کا تعلق صرف کاغذات سے نہیں ہوتا۔ ایک کسان کی زمین سے وابستگی، ایک سپاہی کی قربانی، ایک مزدور کی محنت، ایک استاد کی خدمت اور ایک شاعر کے خواب بھی اس تعلق کا حصہ ہوتے ہیں۔ شہریت صرف ایک قانونی درجہ نہیں بلکہ ایک جذباتی، تہذیبی اور تاریخی رشتہ ہے۔ اگر اس رشتے کو صرف فائلوں اور دستاویزات کی عینک سے دیکھا جائے تو اس کی روح مجروح ہونے لگتی ہے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت قانونی وضاحتوں سے آگے بڑھ کر ایک واضح، شفاف اور عوامی اعتماد پر مبنی موقف اختیار کرے۔ شہریوں کو یہ یقین دلایا جائے کہ ان کی شناخت اور ان کے آئینی حقوق کسی ابہام کا شکار نہیں۔ انہیں یہ احساس ہونا چاہیے کہ ریاست ان سے مسلسل ثبوت طلب کرنے والی اتھارٹی نہیں بلکہ ان کے حقوق کی محافظ ہے۔

کیونکہ آخرکار بحث پاسپورٹ کی نہیں، اعتماد کی ہے۔ سوال کسی ایک دستاویز کا نہیں بلکہ اس یقین کا ہے جو ایک شہری اپنے وطن کے بارے میں رکھتا ہے۔ اگر ریاست کے جاری کردہ سب سے معتبر کاغذات بھی یقین پیدا نہ کر سکیں تو مسئلہ دستاویزات کا نہیں رہتا، ریاستی اعتبار کا بن جاتا ہے۔

وطن صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں ہوتا۔ وطن ایک احساس ہے، ایک تعلق ہے، ایک یقین ہے۔ اور جس دن ایک شہری اپنے ہی وطن میں اپنے وجود کا گواہ ڈھونڈنے لگے، اس دن ریاست کو قوانین کی دفعات سے زیادہ اپنے ضمیر کی آواز سننی چاہیے۔ کیونکہ جمہوریت کی سب سے بڑی دستاویز پاسپورٹ نہیں، عوام کا اعتماد ہوتا ہے۔ اور جب اعتماد متزلزل ہو جائے تو کوئی مہر، کوئی دستخط اور کوئی سرکاری کاغذ اس خلا کو پُر نہیں کر سکتا۔

Comments

Popular Posts