دیواروں سے ٹپکتی امید کی کہانی: ہبلّی میں کشمیر کا خون گرمانے والا رنجی جیت

دیواروں سے ٹپکتی امید کی کہانی: ہبلّی میں کشمیر کا خون گرمانے والا رنجی جیت

گھر کی دیواروں سے کرناٹک کے دل میں تاریخی کپ


ہبلّی کی دھوپ میں، جہاں کرناٹک کی مٹی تپ رہی تھی، جموں و کشمیر نے تاریخ رقم کی، پانچ عالمی ستاروں سے سجے کرناٹک کو پہلی بار رنجی ٹرافی میں شکست دے دی۔ کیپٹن پراس ڈوگرا کے لڑکوں نے پہلی اننگز کی برتری سے ڈرا کھیلا، اقیب نبی کی 5/54 نے ماینک اگروال اور کے ایل راہل کو تہس نہس کر دیا، قمرن اقبال کی نان تھری 160 نے فیصلہ کن مہر لگائی—پانچ ہزار تماشائیوں کے سامنے۔ "ہمارے لڑکے مقامی میچوں میں لاکھوں کے سامنے کھیلنے کے عادی ہیں،" ڈوگرا ہنسا، دباؤ کو جھٹک دیا۔



2016 میں، پیسر سمیع اللہ بیگ گھر کی دیوار سے ٹینس بال مار رہے تھے، برہان وانی فسادات کی 53 روزہ کرفیو میں—2008 کی بھٹکانے، 2010 کی ہڑتالوں، 2014 کے سیلابوں، 2019 کی آرٹیکل 370 کی تباہی کی یاد تازہ کرتی ہوئی۔ کوئی پری سیزن پریکٹس نہیں، ٹرائلز منسوخ—کشمیر کے کھلاڑی ناآمادہ اترے۔ 2010 میں بشندر سنگھ بیدی کی کوچنگ نے آگ لگا دی: سہواگ، نہرو، ایشانت والی دہلی سے ہار ماننے کو مجبور، 2013-14 میں کوارٹر فائنل، 2014-15 میں ممبئی میں مبمئی فتح، امران ملک، عبدالسماد، راسخ دار جیسے آئی پی ایل ستارے جنم لے گئے۔

جذبہ تو زبردست ہے۔ ستمبر 2025، پلوامہ ضلع رک گیا مقامی فلڈلائٹ میچ کے لیے، سڑکیں بند، پولیس راستہ رواں—وادی کے کونے سے تیس ہزار۔ سری نگر کی عیدگاہوں پر جمعے، اتوار کو بچوں کا ہجوم، گیند بال کی محبت، آئی پی ایل کا خواب نہیں۔ "امید کا فقدان ہے،" بیگ روتے ہیں۔ اسکولوں میں ٹرف نہ کوئی کوچ؛ میٹنگ وکٹوں کا راج۔ انڈر 19 میں خام ٹیلنٹ دنگ، رنجی میں خلا عیاں۔ سری نگر میں ایک ہی جے کے سی اے ٹرف، بدعنوانیوں میں الجھا انتظام۔

قمرن اقبال، خجوریہ کی چوٹ پر فوری طلب، شام تین بجے پرواز پکڑی، صبح آٹھ بجے بیٹنگ: "لڑکوں، کوچز، منتظمین کی محنت—مثون سر، اجے شرما کی سنجیدگی، سینیئرز پراس بھیا، شبھم۔ اقیب زبردست۔"

عمر عبداللہ ہبلّی فائنل دن پہنچے، جوشیلے جشن؛ والد فاروق عبداللہ، سابق جے کے سی اے صدر، فتح کی دعا، فرقوں سے ماورا فخر۔ وہی د رحمان پیرہ نے ٹویٹ کیا: ہندو مسلمان، ایک بیج، انتشار سے بالاتر۔

پھر بھی بیگ خبردار: اکیڈمیز نہیں، زونل کیمپس، بی سی سی آئی نگرانی—فتح بے کار۔ ذہنی طور پر سب سے سخت کشمیری، امید کی کرن کو جان بچا لیتے ہیں، گھر کی صحن سے ہبلّی کی ٹرافی تک۔ فتح پل بھر؛ بناؤ یا بکھرو۔


Comments