بنگلہ دیش کی نئی سیاسی تبدیلی بھارت کے لیے امتحان


Jameel Aahmed Milansaar








بنگلہ دیش کے عوام نے بالآخر بی این پی کو اقتدار سونپ دیا، جو 1971 کی آزادی کی جدوجہد کی حقیقی وارث ہے، جبکہ جماعت اسلامی اس  تحریک کی سخت مخالف رہی۔ وزیراعظم نریندر مودی کا طارق رحمن کو فون کرنا ایک مثبت اشارہ ہے، جہاں انہوں نے تاریخی ثقافتی رشتوں کی بنیاد پر امن و خوشحالی کی خواہش کا اظہار کیا۔ مگر یہ خوشی جزوی ہے، کیونکہ نئی پارلیمنٹ میں جماعت اسلامی کی 77 نشستیں بھارت کے لیے خاردار پھل کی طرح ہیں—سخت گیر، بھارت مخالف 
اور اسلام آباد سے جڑی ہوئی۔

سفارتی امیدیں اور پوشیدہ خطرات

بی این پی نے 212 نشستیں جیتیں، دو تہائی اکثریت سمیٹ لی، اور شیخ حسیبہ کی بھارت سے واپسی کا مطالبہ دہراتے ہوئے بھی ہمسایوں سے برابر تعلقات کی بات کی۔ عبوری حکومت کے دوران اقلیتوں پر حملوں نے نئی دہلی کے دل میں زخم چھوڑ دیے—ہندو، بودھ، عیسائی سب متاثر ہوئے۔ اب بی این پی سے توقع ہے کہ منشور کے مطابق ان کا تحفظ کرے، لیکن 2001-2006 والی اتحادی جماعت اسلامی کا ماضی یاد دلاتا ہے کہ وعدے کاغذ پر خوبصورت ہوتے ہیں، عمل میں کٹھن۔

چین کا ڈھاکہ سے بیلٹ اینڈ روڈ کا گہرا رشتہ بھی نئی دہلی کو بے چین کر رہا ہے، جبکہ بیجنگ اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط کرنے کو بے تاب ہے۔ طارق رحمن کی قیادت میں بی این پی جماعت کو کنٹرول کر پائے گی، یا یہ بھارت دشمنی کی آگ بھڑکائے گی؟
سابق سفارت کاروں کی بے نیازی

ہرش وردھن شرنگلا جیسے ماہرین کہتے ہیں کہ بنگلہ دیش نے اصل سیاسی مفادات والی جماعت کو ووٹ دیا، مگر فرقہ وارانہ انتہا پسندی اور اسلامائزیشن کی شبح ابھی زندہ ہے۔ بی این پی رہنما صلاح الدین احمد شیخ حسیبہ کی گرفتاری کی حمایت تو کرتے ہیں، مگر واضح کرتے ہیں کہ یہ خارجہ محکموں کا معاملہ ہے—ہمسایوں سے برابر رویہ رہے گا۔ محمد یونس کی عبوری حکومت نے تعلقات پہلے ہی کشیدہ کر دیے تھے؛ اب نئی حکومت پر نظر رکھنا ہوگا۔
بھارت کا راستہ آگے

یہ موڑ بھارت کے لیے امتحان ہے۔ مودی کی سفارتی چال درست ہے، مگر جماعت کی طاقت کو نظر انداز نہ کریں۔ بی این پی سے اقلیتوں کے تحفظ، تجارت بڑھانے اور چین کی جھلک کم کرنے کا مطالبہ کریں۔ 1971 کی قربانیاں رائیگاں نہ جائیں—ہمسایہ کی نئی صبح ہمارے لیے بھی روشن ہو، ورنہ جماعت کا سایہ لمبا ہوتا چلا جائے گا۔ نئی دہلی کو فعال سفارت کاری سے کام لینا چاہیے، تاکہ ڈھاکہ سے دوستی مضبوط ہو، دشمنی نہ پھلے پھولی۔

Comments