Reflect deeply upon this truth: The more you focus on Allah, the less this world will control you.
The heart that turns constantly toward its Creator finds freedom from the chains of dunya. When your gaze is fixed on Allah’s countenance, the glittering distractions of this fleeting life lose their luster. Wealth, status, praise, and desires no longer dictate your peace, for you know that true contentment lies only in His remembrance.
Allah says in the Qur’an: “Verily, in the remembrance of Allah do hearts find rest” (Surah Ar-Ra’d, 13:28). The one who remembers Allah abundantly walks through trials untouched in spirit, for his trust is anchored in the Eternal, not the temporary. The world tempts, yet the servant who prioritizes salah, dhikr, Qur’an, and sincere duʿā’ rises above its pull.
Imam Ibn al-Qayyim rahimahullah wrote: “The heart becomes corrupted through two things: heedlessness and desires.” Turn away from heedlessness by filling every moment with awareness of Allah, and desires will weaken their grip.
Seek Allah alone. Make Him your priority, and watch how He liberates you from every false master. The closer you draw to Him, the lighter the burdens of this world become, until you walk as a stranger, carrying only the provision of taqwa for the everlasting journey home.
May Allah grant us hearts firmly attached to Him. Ameen.
اس گہری حقیقت پر دل کی گہرائیوں سے غور کیجیے: جتنا آپ اپنی توجہ اللہ کی طرف مرکوز کریں گے، یہ فانی دنیا اتنا ہی آپ پر اپنا
قبضہ کھو دے گی۔وہ دل جو ہر دم اپنے ربّ کی طرف متوجہ رہتا ہے، دنیا کی زنجیریں اسے چھو بھی نہیں پاتیں۔ جب نگاہِ باطن اللہ کی ذاتِ پاک پر جم جاتی ہے تو مال و دولت، عہدہ و منصب، تعریف و توصیف اور نفسانی خواہشیں اپنی چمک دمک کھو بیٹھتی ہیں۔ کیونکہ سچی طمانیت اور اطمینان صرف اللہ کے ذکر میں ہے۔اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ
’’یقیناً اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو سکون ملتا ہے۔‘‘ (سورۃ الرعد: ۲۸)جو شخص کثرت سے اللہ کا ذکر کرتا ہے، وہ دنیا کی آزمائشوں سے گزرتا ہے مگر اس کا باطن محفوظ اور مطمئن رہتا ہے، کیونکہ اس کا بھروسہ ابدی پر ہے، عارضی پر نہیں۔ دنیا لالچ دیتی ہے، مگر وہ بندہ جو نماز، ذکرِ الٰہی، تلاوتِ قرآن اور خالصانہ دعاؤں کو اپنی زندگی کی ترجیح بناتا ہے، دنیا کی گرفت سے بلند تر ہو جاتا ہے۔امام ابنِ قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’دل کی تباہی دو چیزوں سے ہوتی ہے: غفلت اور شہوات۔‘‘ غفلت کو دور کرنے کے لیے ہر لمحہ اللہ کی یاد سے بھر دیجیے، شہوات کی گرفت خود بخود کمزور پڑ جائے گی۔صرف اللہ کو تلاش کیجیے، اسی کو اپنا سب کچھ سمجھیے۔ جتنا قریبِ قربِ الٰہی ہوں گے، دنیا کے بوجھ اتنے ہی ہلکے محسوس ہوں گے۔ یہاں تک کہ آپ ایک مسافرِ راہِ خدا بن کر چلیں گے، صرف تقویٰ کا زادِ سفر لیے، ابدی وطن کی طرف رواں دواں۔اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو اپنی محبت سے اس قدر بھر دے کہ کوئی اور چیز ان میں جگہ نہ پا سکے۔ آمین یارب العالمین۔

Comments
Post a Comment