جمہوریت کا تہوار یا سیاسی میدانِ جنگ: 23 اپریل تامل ناڈو بدل دے گا!
تامل ناڈو میں 23 اپریل 2026 کو ہونے والے اسمبلی انتخابات کی مہم منگل کی شام، یعنی 21 اپریل کو ختم ہو گئی۔ ووٹنگ سے پہلے 48 گھنٹے کی خاموشی کا دور شروع ہو چکا ہے۔ اس بار 234 نشستیں داؤ پر لگی ہیں، اور چار فریقوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے: اقتدار میں ڈی ایم کے، واپسی کی کوشش میں اے آئی اے ڈی ایم کے، اداکار وجے کی ٹی وی کے ہلچل مچا رہی ہے، جبکہ این ٹی کے سیمن کی جماعت جمے ہوئے لڑ رہی ہے۔
ڈی ایم کے کو ووٹروں کی اکتاہٹ کا سامنا ہے، اور وجے اقلیتی ووٹ چھیننے کی پوزیشن میں ہے۔ مقابلہ سخت ہے، شاید کوئی پارٹی اکثریت نہ پا سکے۔ ملک کی بڑی سے بڑی سیاسی شخصیات میدان میں اتریں۔ وزیراعظم مودی نے روڈ شو کیے اور ہجوم کھنچا۔ ڈی ایم کے سربراہ اور موجودہ وزیراعلیٰ ایم کے ستالن اپنے لوگوں کے درمیان سڑکوں پر اترے دکھائی دیے—یہ تامل ناڈو کی عوام کے لیے بالکل نئی بات تھی کہ کوئی وزیراعلیٰ سڑکوں پر چلتے ہوئے ان کے پاس سے گزرے اور ان سے بات کرے۔ اداپادی پالانیشوامی، اے آئی اے ڈی ایم کے جنرل سیکریٹری، اس بار بھی بی جے پی سے ہاتھ ملاکر جیت کی تلاش میں قصبوں میں گھومے۔
اداکار و سیاستدان وجے ستالن حکومت کے خلاف آگ اگل رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ انہیں اور ان کی پارٹی کے امیدواروں کو عورتوں اور نوجوانوں کی زبردست حمایت حاصل ہے۔ وہ بار بار کہتے آ رہے ہیں: "ہم پر ہنسنے والوں کو ووٹرز دکھا دیں گے کہ ہم کیا ہیں۔" ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ سیاست میں قدم رکھتے ہی ڈی ایم کے اور بی جے پی میں خوف کا ماحول ہے۔ جبکہ ڈی ایم کے وجے کو بی جے پی کی بی ٹیم قرار دیتی رہی۔
سروے ڈی ایم کے کے حق میں ہیں۔ لوک پول کا سروے (1 مارچ سے 1 اپریل) کہتا ہے کہ ستالن کا اتحاد 181-189 نشستیں لے جائے گا، 40.1 فیصد ووٹوں سے۔ اے آئی اے ڈی ایم کے کا گروپ 38-42 نشستیں، 29 فیصد سے حاصل کرے گا۔ مگر سروے سب کچھ نہیں بتاتے—وہ صرف اعداد بتاتے ہیں، سخت مقابلہ کی نشاندہی کرتے ہیں۔
سڑکوں پر ماحول تیز ہے۔ کہیں ڈی ایم کے سے تنگ آوازیں، کہیں شاباشی مل رہی ہے—برسوں کی حکومت کے بعد۔ اے آئی اے ڈی ایم کے انتقام چاہتی ہے۔ ٹی وی نے تازگی لائی، نوجوان اور عورتیں وجے کی حمایت میں دیکھی جا رہی ہیں۔ این ٹی کے لوگوں کے غم اور غصے کی آواز بن کر ابھرنے کی کوشش میں ہے۔
جمہوریت کے اس بڑے تہوار میں، یہ اسمبلی انتخابات صرف ووٹنگ نہیں، تامل ناڈو کے لیے انقلاب ہے۔ پورا ملک دیکھے گا کہ تامل ناڈو کی عوام سستی چھوڑ کر میدان میں اترے گی، انتخابی نشان پر انصاف مانگے گی، اور اپنے پسندیدہ لیڈر کو سہارا دے گی—تخت سونپ دے گی۔
یہ مضمون نگار بنگلور سے سیاست اور ملّت پر گہرے تبصرے کرتے ہیں۔

Comments
Post a Comment