Sunday, 30 November 2025

رانچی کی چکنی پچ پر وراٹ کا تخت نشینی - ہبھارت کی 17 رنز کی فتح




جمیل احمد ملنسار

کرکٹ کا میدان وراٹ کے لیے محض گھاس کا ٹکڑا نہیں، بلکہ وہ تخت ہے جہاں وہ بادشاہ بنتے ہیں۔ رانچی کے جے ایس سی اے اسٹیڈیم میں اتوار کو یہی منظر نظر آیا— ایک ایسی سنچری جو نہ صرف اعداد و شمار کی فتح تھی بلکہ جذبے کی للکار بھی۔ 120 گیندوں پر 135 رنز، 52ویں ون ڈے سنچری— یہ وراٹ کا وہ انداز تھا جو کلاسیکی خوبصورتی کو تیزی کے جذبے سے ملاتا ہے۔ بھارت نے 8 وکٹ پر 349 رنز بنائے، اور جنوبی افریقہ 332 پر ڈھیر ہوا۔ 17 رنز کی یہ جیت محض اسکور بورڈ کی نہیں، بلکہ ایک عہد کی یاد تازہ کرنے والی تھی۔

نئی گیند سے ہرشت رانا کا طوفان— تین وکٹیں، صرف 11 رنز پر پروٹیز کے تین ستون گرے۔ ٹمبا باووما، ایڈن مارکرم، راسی وین ڈر ڈوسن— سب رانا کا شکار۔ پھر مارکو جانسن کا 84 رنز کا طوفان اور میتھیو بریٹزکے کی نصف سنچری نے 69 گیندوں میں 97 رنز جوڑے۔ کوربن بوش کے 62 نے امید جگائی، مگر کلدیپ یادو کی 4 وکٹیں اور ارشدیپ سنگھ کی سمجھداری نے میچ سنبھال لیا۔ یہ میچ لڑائی تھی— جہاں ہر گیند ایک موڑ، ہر وکٹ ایک سبق۔

وراٹ کی اننگز کا جادو یہ تھا کہ پچ سست ہونے پر بھی ان کا بلّا بولتا رہا۔ شریاس آئیر کے 67 اور سوریا کمار کے 45 نے سہارا دیا، مگر وراٹ وہ ستون تھے جن کی چھاؤں میں ٹیم نے بڑا اسکور کھڑا کیا۔ یہ سنچری محض رنز نہیں، بلکہ ایک پیغام تھی— کہ 37 برس کی عمر میں بھی یہ شیر جوان ہے۔

میچ کے بعد وراٹ کا بیان: "پچ سست ہوگئی تھی، 340 پلاس نے فائدہ دیا۔" یہ الفاظ نہ صرف حکمت بتاتے ہیں بلکہ تجربے کی گہرائی بھی۔ چیمپئنز ٹرافی سے پہلے یہ اننگز بھارت کو یقین دلاتی ہے کہ ان کا مرکزی ستون ابھی مضبوط ہے۔ رانچی کا ہجوم ان کے نام کا نعرہ لگاتا رہا— یہ محبوبیت کی گواہی تھی-

رائے پور میں بدھ کو دوسرا میچ— سیریز 1-0 سے بھارت کے ہاتھ میں۔ مگر یہ میچ وراٹ کی کہانی کا باب ہے، جو ادب کی طرح دل میں بسی رہے گی۔ کرکٹ میں کبھی کبھی اعداد سے زیادہ جذبات جیتتے ہیں، اور آج یہی ہوا۔

No comments:

Post a Comment

رانچی کی چکنی پچ پر وراٹ کا تخت نشینی - ہبھارت کی 17 رنز کی فتح

جمیل احمد ملنسار کرکٹ کا میدان وراٹ کے لیے محض گھاس کا ٹکڑا نہیں، بلکہ وہ تخت ہے جہاں وہ بادشاہ بنتے ہیں۔ رانچی کے جے ایس سی اے اسٹیڈیم میں ...