کیا بھارت اب جمہوریت نہیں رہا؟
کیا بھارت اب جمہوریت نہیں رہا؟ پارلیمنٹ، اقتدار اور آئینی توازن پر ایک سنجیدہ مکالمہ ✍️ از: -جمیل احمد ملنسارؔ بنگلور 📞 98454 98354 "بھارت اب جمہوریت نہیں رہا۔" منیش تیواری کا یہ جملہ محض سیاسی گرماہٹ پیدا کرنے کے لیے نہیں تھا، بلکہ ہندوستانی جمہوریت کے جسم پر پڑنے والی ان دراڑوں کی نشاندہی تھا جو برسوں سے خاموشی کے ساتھ پھیل رہی ہیں۔ ان کے مطابق عوامی نمائندگی کے ادارے اپنی معنویت کھو چکے ہیں اور ریاستی طاقت عملاً دو ستونوں—ایک غیر معمولی اختیارات کی حامل انتظامیہ اور دوسری خود اپنے جج مقرر کرنے والی عدلیہ—کے درمیان سمٹتی جا رہی ہے۔ اس تشخیص سے اختلاف ممکن ہے، مگر اس کے پس منظر میں موجود سوالات کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔ جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو ہر انتخابی ریاست خودبخود جمہوری کہلاتی۔ جمہوریت دراصل اختیارات کی تقسیم، ادارہ جاتی توازن، پارلیمانی احتساب اور آئینی اخلاقیات کا نام ہے۔ جب ان ستونوں میں سے کوئی ایک کمزور پڑنے لگے تو نظام اپنی ظاہری ہیئت تو برقرار رکھتا ہے، مگر اس کی روح آہستہ آہستہ تحلیل ہونے لگتی ہے۔ پارلیمنٹ کسی حکومت کی توثیق کرنے ...



