ایودھیا: امانت کا امتحان
وہ کہتے ہیں کہ قوم کا معیار اسی سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی مقدس امانتوں کا کیسے پاس رکھتی ہے۔ جب خیرات، جو دل سے نکلتی ہے، محض کاغذی اندراج بن جائے تو دھوکہ صرف دولت کا نہیں، ایمان کا بھی زوال ہوتا ہے۔ ایودھیا کے تازہ واقعات — چھاپوں کی بازگشت، آٹھ مکانات پر چھان بین، ملزمان کی عدالتی حراست اور فیض آباد کے وکلاء میں اٹھتی ہوئی نفرت — محض مالی بدعنوانی کا معاملہ نہیں؛ یہ شہری ضمیر اور ادارۂ انصاف کا امتحان ہے۔ عقیدت کے نام پر دی گئی رقمیں فردی ذخیرے نہیں، بلکہ اجتماعی عہد ہیں۔ انہیں ذاتی غنیمت بنانا نہ صرف اخلاقی غنڈہ گردی ہے بلکہ ایک جماعتی ضمیر کی بے حرمتی بھی۔ اسی لیے مقامی وکلاء کا غصہ سطحی جذبات نہیں؛ یہ ضابطے اور ایمان دونوں کی پاسداری کا اظہار ہے۔ البتہ وکالت کا پیشہ اسی بنیاد پر قائم ہے کہ حتیٰ المناہا ملزم کو منصفانہ دفاع ملے۔ سراسر اجتماعی انکار اس بنیادی حق سے ٹکرا سکتا ہے؛ خوشنما غصہ قانون کے دائرے کو کمزور نہ کرے — یہ ذہنی توازن ضروری ہے۔ پولیس نے جو قدم اٹھائے، وہ تفتیشی معمول کے مطابق ہیں: ریکارڈ کو ٹریک کرنا، شواہد اکٹھے کرنا اور ضروری ہونے پر تفتیشی حراست طلب کرنا۔ مگ...




