دو مقدمے، دو معیار — قانون کی آنکھوں پر پٹی ہے یا پردہ؟
دو مقدمے، دو معیار — قانون کی آنکھوں پر پٹی ہے یا پردہ؟ جمیل احمد ملنسارؔ، بنگلور - 9845498354 . بڑی جمہوریتوں کی اصل طاقت ان کی پارلیمنٹ کی عمارتوں، بلند عدالتوں یا طاقتور حکومتوں میں نہیں ہوتی۔ ان کی اصل قوت اس یقین میں ہوتی ہے کہ عام آدمی یہ محسوس کرے کہ قانون اس کے نام، مذہب اور شناخت سے بے نیاز ہو کر اس کے ساتھ انصاف کرے گا۔ جب یہ یقین کمزور پڑنے لگے تو آئین کی سطریں اپنی جگہ باقی رہتی ہیں، مگر ان کی روح بے چین ہو جاتی ہے۔ ہندوستان کا دستور اپنے شہریوں کو مذہب کے خانوں میں تقسیم نہیں کرتا۔ اس کے نزدیک ہر شخص پہلے ایک شہری ہے، پھر کچھ اور۔ اسی لیے قانون کے سامنے برابری کو محض ایک قانونی اصطلاح نہیں بلکہ جمہوری زندگی کی بنیادی شرط قرار دیا گیا ہے۔ یہ اصول صرف عدالتوں کے فیصلوں میں نہیں، بلکہ ایف آئی آر کے اندراج، دفعات کے انتخاب، گرفتاری، تفتیش، ضمانت اور سرکاری رویّے کے ہر مرحلے میں نظر آنا چاہیے۔ حالیہ دنوں دریائے گنگا سے متعلق دو الگ الگ مقدموں نے اسی بنیادی اصول پر سوالات کھڑے کیے ہیں۔ دونوں واقعات میں الزام یہ تھا کہ گنگا کے تقدس سے وابستہ مذہبی جذبات مجروح ہوئے۔ دونوں پ...



