میسی: ایک شکست، ایک الوداع اور ایک لازوال داستان
از: جمیل احمد ملنسارؔ، بنگلور فٹ بال میں کچھ کھلاڑی ریٹائر ہوتے ہیں۔ کچھ چلے جاتے ہیں۔ اور کچھ اپنے پیچھے ایک ایسی خاموشی چھوڑ جاتے ہیں جسے بھرنے میں برسوں لگتے ہیں۔ لیونل میسی بھی اب ارجنٹینا کی قومی ٹیم کی جرسی اتار رہے ہیں۔ ان کا آخری منظر شاید ویسا نہیں تھا جیسا کسی عظیم کھلاڑی کے لیے ہم سوچتے ہیں۔ ورلڈ کپ کا فائنل تھا۔ سامنے اسپین تھا۔ ارجنٹینا ہار گیا۔ میسی کے ہاتھ میں ٹرافی نہیں تھی۔ لیکن شاید عظمت کی پہچان یہی ہے کہ اسے آخری ٹرافی کی ضرورت نہیں پڑتی۔ میسی نے بین الاقوامی فٹ بال سے تقریباً ربع صدی کا تعلق رکھا۔ اس دوران انہوں نے ایک ورلڈ کپ جیتا، دو کوپا امریکا ٹائٹل اپنے نام کیے اور ارجنٹینا کے لیے وہ مقام حاصل کیا جہاں پہنچنے کے لیے انہیں برسوں انتظار کرنا پڑا۔ یہ انتظار آسان نہیں تھا۔ ایک وقت تھا جب ارجنٹینا میں میسی کا نام لیتے ہی میراڈونا یاد آتا تھا۔ لوگ پوچھتے تھے، "کیا یہ میراڈونا جیسا ہے؟" میسی کے لیے شاید اس سوال سے زیادہ تھکا دینے والی کوئی چیز نہیں تھی۔ وہ میراڈونا نہیں تھا۔ اور اسے میراڈونا بننے کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ لیکن ارجنٹینا کو یہ سمجھنے میں وقت لگ...





