بچوں کے ہاتھ میں ابنِ صفی دیجیے، موبائل خود چھوٹ جائے گا
بچوں کے ہاتھ میں ابنِ صفی دیجیے، صرف ایک ناول نہیں، پوری دنیا مل جائے گی ہر دور کے والدین کی ایک مشترک شکایت رہی ہے کہ بچے کتابیں نہیں پڑھتے۔ پہلے الزام ٹیلی ویژن پر تھا، پھر کمپیوٹر پر آیا، اور اب سارا غصہ موبائل فون پر نکلتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی مسئلہ صرف موبائل ہے؟ شاید نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم بچوں کو ایسی کتاب ہی نہیں دیتے جو انہیں پہلے صفحے سے آخری صفحے تک اپنے ساتھ باندھ کر رکھ سکے۔ اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ اردو ادب میں ایسی کون سی کتابیں ہیں جو بچوں اور نوجوانوں کو مطالعے کا مستقل شوق دے سکتی ہیں، تو میرا جواب بغیر کسی ہچکچاہٹ کے ہوگا: ابنِ صفی کے ناول۔ یہ محض جاسوسی کہانیاں نہیں، بلکہ تخیل، زبان، مزاح، نفسیات اور انسانی رویوں کا ایسا حسین امتزاج ہیں کہ قاری ایک نئی دنیا میں داخل ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ابنِ صفی کو پڑھنے والے صرف ان کے قاری نہیں رہتے، بلکہ ان کے مداح بن جاتے ہیں۔ میرا اپنا تعلق بھی اسی قبیلے سے ہے۔ بچپن میں پہلی بار ابنِ صفی کا ایک ناول ہاتھ لگا۔ اس وقت مجھے اندازہ بھی نہیں تھا کہ میں صرف ایک کہانی نہیں پڑھ رہا بلکہ ایک ایسی عادت اپنا رہا ہوں جو...


