تعلیم کے خوابوں پر بلڈوزر: دل دہلاتا المیہ
جمیل احمد ملنسارؔ 9845498354 دل پر ہاتھ رکھ کر سوچئے ذرا… ایک یونیورسٹی جو بیس برس سے امید کی کرن بن کر جگمگا رہی تھی، ہزاروں نوجوانوں کے مستقبل کو سنوار رہی تھی، ایک ایسے علاقے میں جہاں تعلیم کی پیاس اب بھی سلگتی ہے، اچانک بلڈوزر کی بے رحم دھار کے سامنے آ کھڑی ہوئی ہے۔ کوئی بڑا جرم نہیں، کوئی تدریسی ناکامی نہیں، بس مبینہ کاغذات کی کمی کا الزام۔ رامپور کی محمد علی جوہر یونیورسٹی آج اتر پردیش کی انتقامی سیاست کی بھینٹ چڑھنے کو ہے۔ یہ صرف اینٹیں اور سلاخیں نہیں ٹوٹ رہیں، یہ خواب ٹوٹ رہے ہیں، مستقبل ریزہ ریزہ ہو رہا ہے۔ ۲۰۰۶ میں قائم ہونے والی یہ یونیورسٹی محمد علی جوہر ٹرسٹ کی مرہونِ منت ہے۔ آزادی کے عظیم مبارز کے نام پر قائم یہ ادارہ ۲۰۱۲ میں یونیورسٹی بنا۔ آج تین ہزار سے زائد طلبہ یہاں اپنے خواب پالتے ہیں—انجینئرنگ، لاء، انسانیات، اسلامیات۔ یہ محض عمارتیں نہیں، یہ ان نوجوانوں کی امیدوں کا گھر ہیں جن کے والدین نے شاید کبھی سوچا بھی نہ ہو کہ ان کا بچہ اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکے گا۔ مگر آج رامپور ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے ۴۰ میں سے ۳۸ عمارتوں کے انہدام کا حکم دے دیا ہے۔ صرف دو عمارتوں کے کاغذات در...

.jpg)



