Wednesday, 20 May 2026

“گل بوٹے” کا مالی رخصت ہوگیا - فاروق سید کے انتقال پر اردو دنیا سوگوار

“گل بوٹے” کا مالی رخصت ہوگیا - فاروق سید کے انتقال پر اردو دنیا سوگوار
از : جمیل احمد ملنسار
9845498354


فاروق سید کے انتقال کے ساتھ اردو دنیا کا ایک ایسا چراغ گل ہوا ہے جس کی روشنی صرف ایک رسالے کے صفحات تک محدود نہیں تھی، بلکہ اس کی کرنیں نسلوں کے ذہن، زبان اور تخیل کو روشن کرتی رہی تھیں۔ بعض شخصیات اپنی زندگی میں ادارہ بن جاتی ہیں، اور بعض ادارے اپنے بانی کے بعد بھی ان کی سانسوں کی خوشبو لیے زندہ رہتے ہیں۔ فاروق سید انہی کم یاب لوگوں میں تھے جنہوں نے خاموشی سے ایک تہذیبی فریضہ انجام دیا۔

اردو صحافت میں بہت سے نام آئے، بہت سے رسائل شائع ہوئے، بہت سے مدیر گزرے، مگر بچوں کے ادب کے میدان میں جس استقلال، محبت اور خلوص کے ساتھ فاروق سید نے کام کیا، وہ اب کم ہی دکھائی دیتا ہے۔ آج کے شور و غوغا سے بھرے زمانے میں، جب مطالعہ ایک بوجھ اور زبان محض ذریعۂ تجارت بنتی جا رہی ہے، ایسے میں “گل بوٹے” جیسا رسالہ دراصل تہذیب کی آخری پناہ گاہوں میں سے ایک تھا۔ یہ رسالہ صرف کہانیوں، نظموں اور تصویروں کا مجموعہ نہیں تھا، بلکہ ایک ایسی نرم اور مہذب دنیا تھی جہاں بچے لفظوں کے ساتھ اخلاق بھی سیکھتے تھے، زبان کے ساتھ خواب بھی بُنتے تھے۔

فاروق سید نے شاید کبھی بڑے دعوے نہیں کیے، نہ ہی خود کو ادبی منظرنامے کا مرکزی کردار بنانے کی کوشش کی۔ ان کا مزاج شور سے زیادہ سکوت کا عادی تھا۔ وہ جانتے تھے کہ قوموں کی تعمیر جلسوں سے نہیں، بچوں کے ذہنوں میں بوئے گئے لفظوں سے ہوتی ہے۔ اسی لیے انہوں نے اپنی پوری زندگی بچوں کی ادبی اور ذہنی تربیت کے لیے وقف کردی۔ ان کے رسالے نے نہ جانے کتنے گھروں میں اردو کے چراغ روشن کیے، کتنے بچوں کو پہلی بار قلم پکڑنے کا حوصلہ دیا، اور کتنے ننھے ذہنوں میں مطالعے کی محبت پیدا کی۔


یہ عجیب سانحہ ہے کہ جو شخص بچوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرتا رہا، اس کی جدائی نے اردو دنیا کو سوگوار کر دیا۔ رمضان المبارک میں عمرے کی سعادت کے لیے روانگی، پھر اچانک علالت، علاج، اسپتالوں کی طویل مسافت، بائی پاس سرجری اور زندگی کی مسلسل کشمکش — یہ سب گویا تقدیر کے وہ اوراق تھے جنہیں انسان چاہ کر بھی بدل نہیں سکتا۔ آخرکار وہ شخص جس نے اپنی پوری عمر لفظوں کو زندگی بخشی، خاموشی سے خود لفظوں کی دنیا سے رخصت ہوگیا۔

ان کی وفات محض ایک فرد کی موت نہیں، بلکہ اردو کے اس مزاج کا نقصان ہے جس میں شائستگی، تربیت، تہذیب اور محبت شامل تھی۔ آج جب بازاریت نے ادب کو بھی اپنی گرفت میں لے لیا ہے، فاروق سید جیسے لوگ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ادب کا اصل مصرف انسان بنانا ہے، محض قاری پیدا کرنا نہیں۔

“گل بوٹے” کی فائلیں جب کبھی کھولی جائیں گی تو ان کے صفحات سے صرف تحریریں نہیں نکلیں گی، بلکہ ایک ایسے شخص کی محنت، محبت اور خاموش جدوجہد کی خوشبو محسوس ہوگی جس نے اپنی ذات کو پسِ پشت ڈال کر آنے والی نسلوں کے لیے روشنی بچا کر رکھی۔

فاروق سید اب ہمارے درمیان نہیں رہے، مگر ان کے بوئے ہوئے لفظ ابھی زندہ ہیں۔ شاید یہی کسی ادیب، صحافی اور معلم کی اصل بقا ہوتی ہے کہ وہ جسم سے رخصت ہوجائے، مگر اس کے دیے ہوئے چراغ دیر تک جلتے رہیں۔

اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور اردو زبان و ادب کے اس مخلص خادم کی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔ آمین۔

“گل بوٹے” کا مالی رخصت ہوگیا - فاروق سید کے انتقال پر اردو دنیا سوگوار

“گل بوٹے” کا مالی رخصت ہوگیا - فاروق سید کے انتقال پر اردو دنیا سوگوار از : جمیل احمد ملنسار 9845498354 فاروق سید کے انتقال کے ساتھ اردو دنی...