Skip to main content

Posts

Featured

مسجد سے تین فٹ

مسجد سے تین فٹ جمیل احمد ملنسارؔ، بنگلور | 9845498354 اجین میں اس ہفتے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے شاہی مسجد کے جزوی انہدام کے خلاف آخری اپیلیں بھی نمٹا دیں۔ سمجھوتے کا اعلان ہوا کہ مسجد کا کوئی تین فٹ حصہ جائے گا، مینار کو اپنی جگہ سے ہٹایا جائے گا اور دکانداروں کو متبادل دکانیں دی جائیں گی۔ سڑک چوڑی ہوگی تاکہ سنہ دو ہزار اٹھائیس کے سنگھستھ کمبھ میلے کے قافلوں کو کشادہ راستہ ملے۔ فائل بند، نظم بحال، اور ترقی کا کارواں رواں دواں۔ بتایا یہی جا رہا ہے کہ قانونی کارروائی کے بعد ایک معقول مفاہمت طے پا گئی۔ بلدیہ کو جگہ درکار تھی اور مسجد کمیٹی نے احتجاج اور گرفتاریوں کے بعد کم کٹوتی پر رضامندی ظاہر کر دی۔ شہر میں اسّی سے زائد مذہبی عمارتیں اسی زد میں ہیں، جن میں بیشتر مندر ہیں۔ عوامی مفاد، ٹریفک کی روانی اور یاتریوں کا متوقع ہجوم، عدالت میں انہی دلائل کا پلڑا بھاری رہا۔ مگر واقعات کی ترتیب کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پہلے نوٹس آئے۔ پھر عرضیاں داخل ہوئیں۔ ایک جج نے انہیں یہ کہہ کر خارج کر دیا کہ آنے والے میلے کی ضرورت بڑی ہے اور مسجد مہاکالیشور مندر کے بالمقابل واقع ہے۔ لوگ جمع ہوئے، پتھر چ...

Latest posts

Sending Blessings Upon the Prophet ﷺ: A Reward Beyond Measure - درود شریف — جمعہ کا سب سے قیمتی عمل

کم عمری کی شادیوں پر کرناٹک حکومت کا شکنجہ، عمر کے ثبوت کے لیے آدھار ناقابلِ قبول - Karnataka Marriage Rules: Aadhaar Out, Birth Certificate In for Age Proof

پستے کی سفارت کاری: کیسے ایک مٹھی بھر خشک میوہ بھارت کا سب سے بڑا ڈپلومیٹک ہتھیار بن گیا

The Pistachio Doctrine: How Aggressive Snacking Became India’s Ultimate Diplomatic Weapon

نام موجود ہے، مگر ووٹ کا حق ابھی محفوظ نہیں | جمیل احمد ملنسارؔ، بنگلور | 9845498354

مصنوعی ذہانت: خوف نہیں، آئینہ

Guard Your Heart — Only What Is for Allah Remains

The Price of a Hollow Victory - کامیابی کا آئینہ

منی پور جل رہا ہے، اور دہلی نے لاشیں گننا سیکھ لیا ہے

پروفیسر بی شیخ علی: ایک عظیم مورخ کا آفتابِ حیات سے رخصت ہونا