مندر مل گیا، اب اور کیا چاہیے؟
مندر مل گیا، اب اور کیا چاہیے؟ از: جمیل احمد ملنسارؔ، بنگلور لو جی! جس چیز کی کمی تھی، وہ بھی پوری ہوگئی۔ مندر چاہیے تھا نا؟ سو مندر مل گیا۔ اب یہ نہ کہیے گا کہ پانی نہیں، روزگار نہیں، اسپتال میں دوا نہیں، اسکول میں استاد نہیں، سڑک میں گڑھے ہیں، بجلی آنکھ مچولی کھیلتی ہے، یا مہنگائی نے باورچی خانے کو عجائب گھر بنا دیا ہے۔ یہ سب پرانے زمانے کے مسائل ہیں۔ نئے زمانے میں قومیں مسائل حل نہیں کرتیں، ان پر سنگِ مرمر چڑھا دیتی ہیں۔ ہم بھی شاید بڑے خوش قسمت زمانے میں پیدا ہوئے ہیں۔ ہمارے حکمرانوں نے بالآخر یہ راز دریافت کر لیا ہے کہ عوام کو روٹی سے زیادہ شناخت چاہیے، دوا سے زیادہ نعرہ چاہیے اور روزگار سے زیادہ ایک ایسا موضوع چاہیے جس پر وہ صبح سے شام تک ایک دوسرے سے لڑ سکیں۔ چنانچہ ایک عظیم الشان مندر تعمیر کر دیجیے اور قوم کو یقین دلائیے کہ تاریخ کا سب سے بڑا قرض ادا ہوگیا۔ اب اگر کسی غریب کے گھر میں چولہا ٹھنڈا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ مندر کے کلس کی طرف دیکھ کر دل گرم کر لے۔ اگر بچے کی فیس ادا نہیں ہو رہی تو اسے تعلیم کے بجائے عقیدت کا سبق پڑھائیے۔ اگر بیمار باپ کے لیے دوا نہیں خرید سکتے ...






