خفیہ انصاف
خفیہ انصاف دہلی کی اس شام میں ایک عجیب سی خاموشی تھی۔ آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے اور بارش کی پہلی بوندوں سے فضا میں نمی پیدا ہو گئی تھی۔ سڑکوں پر احتجاج کرنے والوں کے نعرے گونج رہے تھے۔ ان آوازوں میں ایک آواز قیصر کی بھی تھی۔ قیصر ایک گاؤں سے دہلی آیا تھا۔ اس نے اپنی زندگی میں غربت، عام لوگوں کی مشکلات اور ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کو قریب سے دیکھا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ بڑے شہروں کی بلند عمارتیں ترقی کی علامت ضرور ہیں، لیکن ان کے سائے میں رہنے والے ہر انسان کی زندگی خوش حال نہیں ہوتی۔ اس کے پاس نہ دولت تھی، نہ کوئی بڑا نام اور نہ ہی اقتدار تک پہنچنے کا کوئی راستہ۔ اس کے پاس صرف ایک سوال تھا: کیا اس ملک میں عام آدمی کی آواز بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی ان لوگوں کی، جن کے پاس طاقت اور اثر و رسوخ ہے؟ قیصر گاؤں کی مٹی میں پلا بڑھا تھا۔ اسے کھیتوں کی خوشبو، کچی گلیوں کی دھول اور ندی کا صاف پانی آج بھی یاد تھا۔ اس نے زندگی کو صرف کتابوں سے نہیں، بلکہ لوگوں کے درمیان رہ کر سمجھا تھا۔ اسی لیے وہ سمجھتا تھا کہ ترقی کے دعوے اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتے جب تک ان کا فائدہ عام آدمی تک نہ پہنچے۔ وہ...







