نام موجود ہے، مگر ووٹ کا حق ابھی محفوظ نہیں | جمیل احمد ملنسارؔ، بنگلور | 9845498354
جمہوریت میں ووٹ محض ایک نشان نہیں، شہری کی آواز کا وہ آئینی حق ہے جس کے ذریعے وہ ریاست کے فیصلوں میں اپنا حصہ ڈالتا ہے۔ اسی لیے ووٹر لسٹ جمہوری نظام کی بنیادی دستاویز ہے۔ کرناٹک میں جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے پس منظر میں اس وقت سب سے اہم بات یہ سمجھنے کی ہے کہ ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں نام آ جانا، حتمی ووٹر لسٹ میں نام برقرار رہنے کی ضمانت نہیں ہے۔ حتمی فہرست 27 اکتوبر کو شائع کی جانی ہے۔ یہ بات بظاہر معمولی معلوم ہوسکتی ہے، مگر اس کے اندر ایک بہت بڑا عوامی سوال پوشیدہ ہے: اگر کسی شہری کا نام آج ڈرافٹ میں موجود ہے تو کیا وہ مطمئن ہوکر بیٹھ جائے؟ جواب ہے—نہیں۔ کرناٹک میں SIR کے دوران 5.54 کروڑ ووٹروں کی میپنگ کی گئی۔ ان میں سے تقریباً 1.08 کروڑ نام Absent، Shifted، Dead، Duplicate اور Other یعنی ASDDO زمروں میں ڈالے گئے اور ڈرافٹ فہرست کا حصہ نہیں بنے۔ باقی تقریباً 4.46 کروڑ ووٹروں میں سے 43.81 لاکھ کو دو بنیادی زمروں میں نشان زد کیا گیا: تقریباً 20.35 لاکھ Logical Discrepancies اور 23.45 لاکھ No Mapping۔ یہاں ’’Logical Discrepancy‘‘ کی اصطلاح عام آدمی کے لیے شاید خشک سرکاری زبان ہو،...



