نماز: بندۂ مومن کی معراج اور زندگی کا حقیقی محور
نماز: بندۂ مومن کی معراج اور زندگی کا حقیقی محور از: جمیل احمد ملنسارؔ، بنگلور نماز اسلام کا وہ عظیم ترین عملی رکن ہے جو بندۂ مومن کو ہر روز کئی مرتبہ اپنے ربِّ کریم کے حضور حاضر ہونے کا شرف عطا کرتا ہے۔ یہ محض چند حرکات و سکنات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایمان کی تجدید، روح کی پاکیزگی، دل کی طہارت، فکر کی بالیدگی اور کردار کی تعمیر کا ایک جامع نظام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ کریم نے ایمان کے بعد جس عبادت پر سب سے زیادہ زور دیا، وہ نماز ہے۔ انسان اپنی روزمرہ زندگی میں بے شمار مصروفیات، آزمائشوں، خواہشات اور فکری انتشار کا شکار رہتا ہے۔ ایسے میں نماز اسے دنیا کی ہنگامہ خیزی سے نکال کر چند لمحوں کے لیے اُس ذاتِ باری تعالیٰ کے سامنے کھڑا کر دیتی ہے جس کے قبضۂ قدرت میں پوری کائنات ہے۔ یہی لمحے انسان کے دل کو سکون، ذہن کو اطمینان اور روح کو تازگی عطا کرتے ہیں۔ قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: > "بے شک نماز بے حیائی اور برائی کے کاموں سے روکتی ہے۔" > (سورۃ العنکبوت: 45) یہ آیت نماز کے حقیقی مقصد کو واضح کرتی ہے۔ اگر نماز انسان کے اخلاق، معاملات اور کردار میں مثبت تبدیلی پیدا نہ کر...





