پروفیسر بی شیخ علی: ایک عظیم مورخ کا آفتابِ حیات سے رخصت ہونا
پروفیسر بی شیخ علی: ایک عظیم مورخ کا آفتابِ حیات سے رخصت ہونا
تاریخِ وفات: یکم ستمبر 2022
آج جب میں یہ قلم اٹھا رہا ہوں تو دل پر ایک عجیب سی گھٹن طاری ہے۔ یکم ستمبر 2022 کو ہندوستان کا ایک عظیم مورخ، معلم، اور مفکر پروفیسر بی شیخ علی اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئے۔ ان کا جانا صرف ایک شخصیت کا زوال نہیں، بلکہ ایک پورے دور کا اختتام ہے۔
پروفیسر بی شیخ علی 98 برس کی عمر میں میسور میں انتقال کر گئے۔ ان کی زندگی علم و حکمت کا ایک ایسا سرمائہ تھی جس سے آنے والی نسلیں صدیوں تک مستفید ہوتی رہیں گی۔
انہوں نے منگلور اور گوا یونیورسٹی کے بانی وائس چانسلر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ میسور یونیورسٹی سے پروفیسرِ تاریخ کے طور پر ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ان کا قلم تھمتا نہیں رہا۔ ان کی 32 سے زائد کتابوں میں ٹیپو سلطان، حیدر علی، مغربی گنگا خاندان، اور برطانوی دور کی میسور سلطنت پر گہری تحقیق ملتی ہے۔
پروفیسر شیخ علی نے اردو زبان میں بھی 12 کتابیں تحریر کیں۔ سر سید احمد خان، مولانا ابوالکلام آزاد، اور علامہ اقبال پر ان کے مضامین اور کتابیں اردو ادب کا ایک قیمتی حصہ ہیں۔ انہوں نے اردو روزنامہ "سالار" (بنگلور) کے ایڈیٹر ان چیف کے طور پر بھی خدمات انجام دیں، جہاں ان کے مضامین نئی نسل کو تاریخ اور تہذیب سے جوڑتے رہے۔
پروفیسر شیخ علی کا لکھنے کا انداز سادہ، پُر اثر، اور دلائل سے بھرپور ہوتا تھا۔ وہ تاریخی حقائق کو اس طرح پیش کرتے کہ قاری کو لگتا جیسے وہ خود اس دور میں موجود ہے۔ ان کی تحریر میں جذباتیت کے ساتھ ساتھ علمی گہرائی بھی ہوتی تھی، جو انہیں عام مورخین سے ممتاز کرتی تھی۔
ان کی کتاب "ٹیپو سلطان: اے اسٹڈی ان ڈپلومیسی اینڈ کونفرنٹیشن" اس بات کی بہترین مثال ہے کہ کس طرح ایک مورخ تعصب سے پاک ہو کر تاریخ لکھ سکتا ہے۔
پروفیسر شیخ علی نے صرف کتابیں نہیں لکھیں، بلکہ ایک پوری نسل کے مورخین کو تربیت دی۔ وہ انڈین ہسٹری کانگریس کے صدر رہے، اور کئی بین الاقوامی کانفرنسوں میں ہندوستانی تاریخ کے نمائندہ رہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے "سلطان شہید ایجوکیشنل ٹرسٹ" قائم کیا، جس کے تحت دینیات مدرسہ اور درجن بھر دیگر تعلیمی ادارے میسور میں قائم ہوئے۔
ان کی زندگی کا ہر پہلو — چاہے وہ علی گڑھ اور لندن سے حاصل کردہ ڈاکٹریٹ ہو، یا میسور یونیورسٹی میں رینک ہولڈر ہونا — یہ سب ان کی لگن اور محنت کی گواہی دیتا ہے۔
جب میں پروفیسر شیخ علی کی کتابیں پڑھتا ہوں، تو محسوس ہوتا ہے کہ وہ صرف تاریخ نہیں لکھ رہے تھے، بلکہ ایک پیغام دے رہے تھے: کہ ماضی کو سمجھے بغیر مستقبل کی تعمیر ممکن نہیں۔ ان کی تحریروں میں ٹیپو سلطان کی بہادری، سر سید کی بصیرت، اور ذاکر حسین کی انسان دوستی صرف واقعات نہیں، بلکہ مشعلِ راہ ہیں۔
آج جب وہ ہم میں نہیں ہیں، تو ان کی یاد کو زندہ رکھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم ان کے پیغام کو آگے بڑھائیں — علم کی روشنی، تحقیق کی دیانت، اور خدمتِ خلق کا جذبہ۔
پروفیسر بی شیخ علی کا جانا ایک المیہ ہے، لیکن ان کی میراث ہمیشہ زندہ رہے گی۔ ان کی کتابیں، ان کے شاگرد، اور ان کے قائم کردہ ادارے ان کی یاد کو ہمیشہ تازہ رکھیں گے۔
Comments
Post a Comment