Monday, 2 March 2026

دشمن کی آنکھیں اور ہماری بے بسی: غور و فکر کا وقت



دشمن کی آنکھیں اور ہماری بے بسی: غور و فکر کا وقت

آیت اللہ علی خمینی کی شہادت نے امت مسلمہ کو غم کے سمندر میں غرق کر دیا۔ انّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُونَ۔ ان کی بہادری اور قیادت کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے، ایک اور تلخ حقیقت پر بھی نظر رکھیں۔

ایران جیسے طاقتور ملک میں، جہاں ان کی حفاظت کی انتہا ہوئی ہوگی، وہ بھی دشمن کے ہاتھوں شہید ہوگئے۔ معمر قذافی، اسماعیل ہنیہ، حسن نصراللہ، عماد مغنیہ اور محسن فخری زادہ جیسے رہنماؤں کو ان کے محفوظ ترین ٹھکانوں پر نشانہ بنایا گیا۔ دشمن کی انٹیلیجنس کی یہ باریک بینی حیرت انگیز ہے—وہ کیسے ہر جگہ سرحد پار کر جاتا ہے؟ اور ہم مسلمان، اپنے دشمنوں کا کچھ کیوں نہ بگاڑ پاتے؟

کیا ہم نے کبھی سوچا کہ اللہ کے غضب کے مستحق کیسے اتنا طاقتور بن گئے، جبکہ نصرت کے حقدار بے بس کیوں؟ عراق، افغانستان، شام، لیبیا، یمن اور لبنان کی تباہی کا یہ تسلسل ہمیں سبق نہ سکھائے؟ غور کرو: اللہ فرماتا ہے، جو قوم اپنی حالت نہ بدالے، ہم اسے نہیں بدلتے۔

تبدیلی تعلیم، تحقیق، لائبریریوں اور تخلیقی طاقت میں پنہاں ہے، نہ ریلز، سیمیناروں یا پوسٹ مارٹم میں۔ دشمن کی ٹیکنالوجی، منصوبہ بندی اور مہارت کا مطالعہ کرو—یہ بھی عبادت ہے۔ منطق، درستگی اور حوصلے سے ناممکن کو ممکن بناؤ۔ جو اس راہ پر گامزن ہیں، ان کی مدد کرو۔ ورنہ حالات مزید گھٹائیں گے۔

اب عمل کرو، کیونکہ یہ زمانہ فرضِ عین کا تقاضا کرتا ہے۔

کیا آپ کوئی اور تبدیلی چاہتے ہیں، جیسے عنوان میں اضافہ یا کوئی خاص فقرہ؟

No comments:

Post a Comment