منتظر اردو کلاسیں از: جمیل احمد ملنسارؔ - بنگلور
موبائل - 9845498354
کابینہ کا فیصلہ کوئی مشورہ نہیں ہوتا، عہد ہوتا ہے۔ جب حکومت کی اپنی کابینہ پہلے مرحلے میں اردو میڈیم کے 800 اساتذہ
کی بھرتی طے کر چکی ہو تو اگلا قدم صرف ایک ہو سکتا ہے: ایسا نوٹیفکیشن جس میں 800 لکھا ہو۔ اس سے ایک ع بھی کم ہو تو اسے انتظام نہیں کہتے، یہ حساب کتاب کی آڑ میں حق تلفی ہے۔
کرناٹک کے اردو میڈیم امیدوار آج اسی اندیشے کے سائے میں جی رہے ہیں۔ بعض اقلیتی وزراء کے حوالے سے خبر ہے کہ آنے والے نوٹیفکیشن میں اردو میڈیم کی صرف 530 آسامیاں رکھی جا سکتی ہیں۔ سرکاری تصدیق اب تک نہیں ہوئی، مگر یہ افواہ ایسی زمین پر گری ہے جہاں بے یقینی پہلے سے موجود تھی، اور یہ خوف بے سبب نہیں۔ اعداد سرگوشیوں میں یونہی نہیں گھٹتے؛ کوئی نہ کوئی پہلے یہ ناپ لیتا ہے کہ برادری کتنا برداشت کر لے گی۔
ذرا سیاق دیکھیے۔ ریاست دوسرے مضامین کے لیے تقریباً پندرہ ہزار اساتذہ بھرتی کر رہی ہے۔ پندرہ ہزار آسامیاں بغیر کسی ہچکچاہٹ کے فائلوں سے گزر جاتی ہیں۔ پھر اردو میڈیم کی محض آٹھ سو آسامیاں اتنی نازک کیوں ہو گئیں کہ ان پر پھونک پھونک کر قدم رکھنا پڑے؟ اس سوال کا کوئی معقول جواب موجود نہیں، اسی لیے کسی نے دیا بھی نہیں۔ سابق کابینی وزیر روشن بیگ نے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار سے اپنی حالیہ ملاقات میں یہی سوال صاف الفاظ میں رکھا: اگر حکومت پندرہ ہزار کو سنبھال سکتی ہے تو آٹھ سو میں پیچیدگی کہاں سے آ گئی؟
اردو میڈیم اسکول ریاست کے مختلف علاقوں میں قائم ہیں، اور وہ نمائش کی چیز نہیں۔ آج بھی ان کی جماعتوں میں بچے بیٹھتے ہیں، اور بہت سی جماعتوں کے سامنے پڑھانے والے کم ہیں۔ استاد کے بغیر اسکول شور مچا کر نہیں ٹوٹتا؛ وہ خاموشی سے ٹوٹتا ہے، ایک خالی گھنٹی کے بعد دوسری خالی گھنٹی کے ساتھ، یہاں تک کہ پوری ایک نسل اپنے حق سے کم پڑھ کر نکل جاتی ہے۔ آسامیاں گھٹانے سے یہ کمی ختم نہیں ہوتی، پکی ہو جاتی ہے۔
روشن بیگ نے بجا طور پر یاد دلایا کہ استاد کی تقرری محض ایک سرکاری نوکری نہیں۔ اس کا اثر پورے گھرانے پر پڑتا ہے اور آنے والی نسلوں کے مستقبل پر بھی۔ ہر آسامی کے پیچھے ایک اہل امیدوار کھڑا ہے جس نے تیاری کی، انتظار کیا، اور اس بھروسے پر جیا کہ کابینہ کے فیصلے کا مطلب وہی ہوتا ہے جو لکھا گیا ہے۔ تعداد 530 ہو گئی تو 270 گھروں سے بے تکلفی کے ساتھ کہہ دیا جائے گا کہ آپ کی محنت کا کوئی حساب نہیں۔
وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت دینے اور محکمۂ تعلیمات کی ایڈیشنل چیف سکریٹری ریشمی مہیش سے بات کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ یہ خوش آئند ہے، مگر ہے محض یقین دہانی۔ وعدے سستے ہوتے ہیں، نوٹیفکیشن پابند کرتا ہے۔ ہمدردی کے الفاظ یہ برادری پہلے بھی سن چکی ہے۔ فرق وہ دستاویز پیدا کرتی ہے جو ہمدردی کو تقرری نامے میں بدل دے۔
لہٰذا کسوٹی سیدھی ہے، اور اس کی آخری تاریخ خود نوٹیفکیشن ہے۔ اس میں 800 آسامیاں ہوں تو حکومت نے اپنا فیصلہ نبھایا۔ 530 ہوں تو کوئی وضاحت اسے بچا نہ سکے گی، کیونکہ عدد تو کابینہ پہلے ہی طے کر چکی ہے۔ طے شدہ فیصلے کو مسودہ سازی کے بہانے دوبارہ کھولنا حکمت نہیں، کارروائی کا لباس پہنا ہوا الٹا فیصلہ ہے۔
امیدواروں سے یہ توقع نہ کی جائے کہ وہ فرق پر شکر گزار ہوں۔ انہیں یہ نہ سنایا جائے کہ 530 بھی غنیمت ہے۔ معیار "کچھ نہیں" نہیں ہے؛ معیار وہ ہے جو حکومت نے خود طے کیا۔
آٹھ سو آسامیاں اردو والوں پر احسان نہیں؛ یہ دیا جا چکا وعدہ ہے، ثابت شدہ ضرورت ہے، اور انتظار میں بیٹھی ہوئی جماعتیں ہیں۔ نوٹیفکیشن کو فیصلے کے مطابق بنانے کا اختیار مسٹر شیوکمار کے پاس ہے، اور ان سے براہِ راست کہا جا چکا ہے۔ اب قابلِ قبول جواب صرف چھپا ہوا جواب ہے، جس پر 800 درج ہو۔ جب تک وہ نہیں آتا، ہر گزرتا دن ان جماعتوں کو استاد سے محروم رکھتا ہے، اور اس کا حساب اسی حکومت کے کھاتے میں لکھا جائے گا جس نے یہ دیر ہونے دی۔


Comments
Post a Comment