ورثے کی بستی، سیاست کا نشانہ




ورثے کی بستی، سیاست کا نشانہ

از: جمیل احمد ملنسارؔ

دہلی میں وزیراعظم کی سرکاری رہائش گاہ کے قریب واقع ایک قدیم مسجد کو خالی کرانے کا نوٹس ملنے سے مسلم برادری میں ایک نئی بے چینی پیدا ہو گئی ہے۔ حکومت اسے وزیراعظم کی حفاظت سے جوڑ کر پیش کر رہی ہے، مگر اس ’’سیکیورٹی‘‘ کے پردے کے پیچھے جو حقیقت نظر آتی ہے وہ کہیں زیادہ پریشان کن ہے۔ اس معاملے میں صرف ایک عمارت کی قسمت نہیں، بلکہ ہمارے مشترکہ ورثے، سماجی ہم آہنگی اور جمہوری اقدار کا سوال بھی شامل ہے۔

یہ مسجد محض اینٹوں، چونے اور گنبدوں کا ڈھانچہ نہیں۔ یہ دہلی کی صدیوں پرانی ثقافتی گہرائی کی گواہ ہے، اس کثیراللسانی اور کثیرالفرقی روایت کی علامت ہے جس نے اس شہر کو ہندوستان کی تہذیبی تاریخ کا آئینہ بنایا۔ ایسے یادگاروں کا خاتمہ صرف عمارتوں کا انہدام نہیں ہوتا؛ یہ ہماری اجتماعی یادداشت کے اوراق کا صفحہ بہ صفحہ مٹ جانا ہے۔

سب سے بڑا سوال وقت کا ہے۔ جب اترپردیش اسمبلی انتخابات قریب آ رہے ہوں، معیشت، روزگار، مہنگائی اور حکمرانی کے مسائل عوام کے سامنے ہوں، تو ایسے حساس فیصلے کیا صرف حفاظتی ضرورت ہو سکتے ہیں؟ یا یہ کوشش عوامی توجہ کو بنیادی مسائل سے ہٹا کر مذہبی شناخت کے محور پر مرکوز کرنے کی ہے؟ یہ سوال اٹھانا کوئی الزام نہیں، جمہوریت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

ہمارے ملک میں فرقہ وارانہ سیاست کوئی نیا واقعہ نہیں۔ تاریخ میں بار بار دیکھا گیا ہے کہ ماضی کے زخموں، یادگاروں اور جذباتی بیانیوں کو سیاسی مفاد کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ جب ایک تاریخی مسجد کو ’’خطرہ‘‘ کہہ کر پیش کیا جاتا ہے تو مسئلہ پیچیدہ سے سادہ بنا دیا جاتا ہے: ہم اور وہ، حفاظت اور خطرہ، قوم اور ’’دوسرے‘‘۔ یہی سادہ کاری ہے جو معاشرے کو تقسیم کرتی ہے اور سیاست کو آسان۔

اگر مقصد واقعی وزیراعظم کی حفاظت ہے، تو یہ سوال بھی اٹھنا چاہیے کہ کیا کوئی متوازن، قانونی اور انسانی حل موجود نہیں؟ کیا تاریخی ورثے کی حفاظت، شہریوں کے حقوق اور امن و امان کی ضروریات کو ایک ساتھ رکھ کر کوئی راہ نہیں نکلی جا سکتی؟ حفاظت ایک جواز بن سکتی ہے، مگر وہ کسی ثقافتی ورثے کو مٹانے یا ہزاروں لوگوں کی زندگیوں کو بے یقینی میں ڈالنے کا لائسنس نہیں بن سکتی۔

یادگار صرف پتھر نہیں ہوتے۔ ان کی دیواروں میں انسانوں کی کہانیاں، عبادت کی خاموشیاں، تجارت کی ہلچل، تعلیم کی روشنی اور شہر کے ارتقا کے نشان محفوظ رہتے ہیں۔ جو قوم اپنے ماضی کے ثبوت مٹا دیتی ہے، وہ نہ صرف اپنی تاریخ کمزور کرتی ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے سامنے اپنے اخلاقی معیار بھی کمزور کر دیتی ہے۔

ہم شہریوں کے طور پر اس معاملے میں خاموش نہیں رہ سکتے۔ ہمیں یہ واضح کرنا ہوگا کہ ہم حفاظت کے حق میں ہیں، مگر اس کے نام پر تعصب، بے دخلی اور ورثے کے انہدام کے خلاف ہیں۔ ہمیں ان بیانیوں کو چیلنج کرنا ہوگا جو ہندوستانی معاشرے کو صرف مذہبی شناختوں میں بانٹنا چاہتے ہیں۔

یہ موقع صرف ایک مسجد کے تحفظ کا نہیں، ہمارے مشترکہ مستقبل کا امتحان ہے۔ ہماری ترقی اس میں نہیں کہ ہم کتنی عمارتیں گراتے ہیں، بلکہ اس میں ہے کہ ہم کتنی پُل باندھتے ہیں؛ مذہب اور مذہب کے درمیان، ماضی اور مستقبل کے درمیان، اور شہری اور ریاست کے درمیان۔

آئیے اس نوٹس کو صرف ایک انتظامی فیصلہ نہ سمجھیں۔ اسے اپنے جمہوری فرض کی یاد دہانی سمجھیں: اپنے ورثے کی حفاظت کریں، اپنی کثیرالفرقی شناخت کا دفاع کریں، اور یہ ثابت کریں کہ ہندوستان کی اصل طاقت اس کے تنوع میں ہے، اس کی تقسیم میں نہیں۔

Comments