منہاس کا جادو اور پاکستان کی پاور پلے: بارہ برس بعد ایشیا کپ کی تاج پوشی

 منہاس کا جادو اور پاکستان کی پاور پلے: بارہ برس بعد ایشیا کپ کی تاج پوشی

جمیل احمد ملنسار


دبئی کی دہکتی ہوئی دھوپ میں، جب سورج اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ میدان پر برس رہا تھا، پاکستان کی نوجوان ٹیم نے آگ اور جوش سے لبریز ایک ایسا کھیل پیش کیا جس نے تاریخ رقم کردی۔ یہ کوئی عام جیت نہیں تھی، بلکہ ایک ایسی فتحِ مبین تھی جس نے 191 رنز کے بڑے فرق سے پاکستان کو انڈر۔19 ایشیا کپ 2025** کا بادشاہ بنا دیا — وہ بھی پورے بارہ برس بعد، جب 2013 میں یہ اعزاز بھارت کے ساتھ مشترک تھا۔

اور اس یادگار دن کا سپہ سالار تھا — سمیر منہاس۔ میدان میں اس کا نام گونجتا رہا، اور اس کی بلے کی گونج بجلی کی کڑک بن کر گونجی۔ اس نے اپنی بلّے بازی کو فنِ لطیف میں ڈھال دیا؛ 134 گیندوں پر 172 رنز — سولہ چوکوں اور سات بلند و بالا چھکوں کی شاعرانہ ترتیب۔ جس مقابلے کو اس کے ضبط و صبر کی آزمائش سمجھا جا رہا تھا، اسے منہاس نے بلے کی زبان میں سبقِ استقلال بنا دیا۔

بھارت کے کپتان آیوش مھاترے نے ٹاس جیت کر بولنگ کا فیصلہ کیا — سوچا کہ دباؤ ڈالیں گے۔ مگر پاکستان کے کپتان **فرحان یوسف** کے بقول یہ ان کے لیے رحمت ثابت ہوا۔ “ہم خوش تھے کہ ٹاس ہار گئے؛ ہمارا منصوبہ یہی تھا — رنز کا پہاڑ کھڑا کرو اور مخالف کو اس کے بوجھ تلے دفن کر دو۔”
منہاس کو عزیز رفیق گیند بازوں سے نہیں، بلکہ اپنے ساتھیوں سے ملا — اذان اویس** (58 رنز) اور سعد بیگ (42 رنز)۔ یوں پاکستان نے پچاس اوورز میں 347 رنز کا پہاڑ کھڑا کردیا۔

ابتدائی اوورز میں بھارت نے بھی للکار دکھائی۔ مھاترے اور آدرش سنگھ نے صرف دو اوورز میں 32 رنز جوڑ کر لمحہ بھر کو یہ گمان پیدا کیا کہ شاید مقابلہ برابر کا ہوگا۔ مگر جیسے ہی تیسرا اوور آیا، قسمت کا پانسہ پلٹ گیا۔ مھاترے کا غلط شاٹ — اور اس کے ساتھ بھارت کی بیٹنگ جیسے ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔
جب پاور پلے ختم ہوا تو اسکور بورڈ 68 پر 5 کا عبرتناک منظر پیش کر رہا تھا۔ پاکستانی گیند باز ایمل خان (3/29) اور نسیم شاہ جونیئر (2/37) نے نوجوانی کی طوفانی رفتار کا مظاہرہ کیا، جبکہ اسپنر ارحم نواز (3/42) نے درمیانی اوورز میں بھارتی بلے بازوں کو شکنجے میں کس لیا۔

کچھ مواقع ہاتھ سے نکلے ضرور، مگر انجام ایک ہی تھا — بھارت محض 26.2 اوورز میں 156 پر ڈھیر۔ دیپیش دیویندرن کی 34 رنز کی تیز اننگز بس شکست کے مرثیے کا ایک آخری مصرعہ ثابت ہوئی۔

یہ جیت صرف ایک ٹرافی نہیں تھی، یہ از سرِ نو جنم تھا۔ وہی پاکستان جس نے اسی ٹورنامنٹ کے آغاز میں بھارت سے شکست کھائی تھی، اب نئے عزم سے اٹھ کھڑا ہوا۔ کپتان فرحان یوسف نے لہجے میں فخر اور عاجزی کے ساتھ کہا:
“ہم نے پہلا میچ ضرور ہارا، مگر ٹیم مینجمنٹ نے حوصلہ نہیں ٹوٹنے دیا۔ لڑکے یقین رکھتے رہے… اور وقتِ محراب پر کمال دکھا دیا۔”

منہاس نے جو بیٹنگ کی، وہ انہی کے لیے لکھی تقدیر تھی۔ مجموعی طور پر چار سو سے زائد رنز کے ساتھ وہ نہ صرف اس ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے بلکہ روحِ کاراواں بھی ٹھہرے — قوت، خوبصورتی اور جذبے کی ایک زندہ علامت۔

جب دبئی کے میدان میں پاکستانی نوجوان چاندی کی ٹرافی بلند کر رہے تھے، تو یوں محسوس ہوا جیسے 2013 کا سایہ آخر کار مٹ گیا۔ ہوا کا ہر جھونکا، روشنی کا ہر عکس، اور نعرے کی ہر گونج ایک ہی بات کہہ رہے تھے —


***

Comments